ممبئی میں ڈیزل ۲؍روپے ۷۱؍پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے سےٹرانسپورٹ آپریٹرز میں تشویش، ٹائر، ٹولز، انشورنس، دیکھ بھال اور قرض کی ادائیگیوں کے بڑھتے اخراجات سے ٹرانسپورٹ اسوسی ایشن کا سڑکوں پر گاڑیوں کے کم ہونے کا انتباہ۔
EPAPER
Updated: May 26, 2026, 2:59 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
ممبئی میں ڈیزل ۲؍روپے ۷۱؍پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے سےٹرانسپورٹ آپریٹرز میں تشویش، ٹائر، ٹولز، انشورنس، دیکھ بھال اور قرض کی ادائیگیوں کے بڑھتے اخراجات سے ٹرانسپورٹ اسوسی ایشن کا سڑکوں پر گاڑیوں کے کم ہونے کا انتباہ۔
ڈیزل کی قیمت میں متواتر اضافے کو مختلف ٹرانسپورٹ آپریٹرز نے موٹرگاڑیوں کے نقل و حمل کے نظام کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا ہے ، ساتھ ہی کہا ہےکہ اگر اسی طرح ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا تو سڑکوں پر گاڑیاں کم ہو جائیں گی جو ملک کی معیشت کی ریڑ ھ کی ہڈی ہیں۔ اس کی وجہ سے ملک میں آمدرفت کے ذرائع اور ضروری اشیاء کی نقل و حرکت شدید طور پر متاثر ہوسکتی ہے ۔ واضح رہے کہ پیر کو ڈیزل کی قیمت میں ہونیوالے ۲؍روپے ۷۱؍پیسے فی لیٹر کے تازہ اضافے نے ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے، جو پہلے ہی ٹائروں، ٹولز، انشورنس، دیکھ بھال اور قرض کی ادائیگیوں پر بڑھتے اخراجات سے مالی طور پر پریشان ہیں ۔گزشتہ ۱۰؍دنوں میں چوتھی مرتبہ ڈیزل مہنگا ہونے سے، ٹرانسپورٹ اسوسی ایشن نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور مجبوراً سڑکوں پر گاڑیوں کے کم ہونے کا انتباہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : سڑک حادثات اور اموات میں ۸؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی
گزشتہ ۱۰؍دنوں میں ایندھن کی قیمتوں میں چوتھی مرتبہ اضافہ ہونے سے ٹرانسپورٹ انڈسٹری مالی بحران کاشکار ہو رہی ہے ۔ ۱۵؍مئی سے ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً ۸؍روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے ۔ جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نقل و حمل کے نظام کو تیزی سے ناقابل عمل بنا رہا ہے اور جلد ہی ملک کی سپلائی چین اور ضروری سامان کی نقل و حرکت کو متاثر کر سکتا ہے ۔آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس (اے آئی ایم ٹی سی) کے مشیر اور سابق صدر بال ملکیت سنگھ کے مطابق’’ ڈیزل کی قیمت میں بار بار اضافہ ٹرانسپورٹرز، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے آپریٹرز پر ناقابل برداشت دباؤ ڈال رہا ہے ۔ڈیزل کی قیمت میں ہونے والا یہ اضافہ ٹرانسپورٹرز کیلئے خاموش زہر کھلانے کے مترادف ہے ۔ ٹرک چلانے کیلئے صرف ڈیزل پر ۵۵؍فیصد خرچ ہوتا ہے ۔۱۰؍ دنوں میں ۴؍مرتبہ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہونے سے ٹرانسپورٹ صنعت کو مالی بحران سے بچانا ایک سنگین چیلنج بن رہا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ’ ’ڈیزل کی قیمت میں ہونے والے اضافے سے صرف ٹرانسپورٹرز متاثر ہوں گے، ایسا نہیں ہے، یہ اضافہ اب وسیع تر معیشت کو متاثر کر ے گا ۔ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہونے سے ٹرکوں کے نقل وحمل کے نظام پر بڑھنے والے اخراجات کی وجہ سے متعدد تجارتی گاڑیاں سڑکوں سے غائب ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں کچھ سیکٹرز میں تقریباً ساڑھے ۳؍ ہزار روپے فی گاڑی فی دن کا نقصان ہو رہا ہے ۔ٹرانسپورٹ ہندوستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر ٹرانسپورٹ کمزور ہو جائے تو معیشت کمزور ہو جاتی ہے حکومت کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : بی ایم سی کا نئے پورٹل سے تعلیمی اشیاء کی خریداری کا فیصلہ
ٹرانسپورٹرز نے قرضوں کی ادائیگی نہ ہوپانے اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی صورت میں بڑھتے ہوئے مالی دباؤ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔اے آئی ایم ٹی سی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایک سائنسی فریٹ پرائسنگ ماڈل متعارف کرائے، ایندھن کی بلاتعطل سپلائی کو یقینی بنائے، ای سی ایل جی ایس سپورٹ اقدامات کو فعال کرے اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو فوری ریلیف فراہم کرے ۔