Updated: May 26, 2026, 2:37 PM IST
| Tal Aviv
اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو پیر کی شام یروشلم کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ مبینہ طور پر دانتوں کے علاج سے گزر رہے ہیں۔ تاہم حالیہ مہینوں میں ان کے متعدد طبی طریقۂ علاج، پروسٹیٹ ٹیومر، پیس میکر اور سرجریوں کے باعث اسرائیلی وزیر اعظم کی صحت ایک مرتبہ پھر عوامی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این۔
پیر کی شام یروشلم کے ہداسہ عین کریم مرکز منتقل کیا گیا، جہاں وہ مبینہ طور پر ایک ’’دانتوں کے علاج‘‘ سے گزر رہے ہیں۔ اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے مقامی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم کی صحت مسلسل عوامی اور سیاسی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ ماہ نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں انکشاف کیا تھا کہ وہ ایک مہلک پروسٹیٹ ٹیومر کے لیے کامیاب ریڈی ایشن تھیراپی سے گزر چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس معلومات کو اس لیے خفیہ رکھا گیا تاکہ ایران جاری تنازع کے دوران اسے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال نہ کر سکے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے مسلسل تیسرے سال غزہ کے مسلمانوں کیلئے حج پر پابندی لگا دی
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران سوشل میڈیا پر یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہیں کہ نیتن یاہو یا تو ہلاک ہو چکے ہیں یا ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں، تاہم بعد میں ان تمام دعوؤں کو غلط قرار دیا گیا۔ ۷۶؍ سالہ اسرائیلی وزیر اعظم کی صحت گزشتہ چند برسوں سے مسلسل سوالات کی زد میں رہی ہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے دفتر نے بارہا ان کی صحت سے متعلق معلومات کو مکمل طور پر عوام کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔نیتن یاہو نے اپنے حالیہ بیان میں یہ واضح نہیں کیا تھا کہ انہیں پروسٹیٹ ٹیومر کی تشخیص کب ہوئی، علاج کب شروع ہوا اور کب مکمل ہوا۔ ان کے دفتر کی جانب سے ایک سالانہ صحت رپورٹ اور کینسر کے علاج سے متعلق مختصر نوٹ جاری کیا گیا، لیکن ناقدین نے ان دستاویزات کو ’’غیر واضح‘‘ اور ’’ناکافی‘‘ قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق جاری کردہ میڈیکل نوٹ میں صرف چند مختصر نکات شامل تھے، اس میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا تھا کہ رپورٹ کس سال سے متعلق ہے، جبکہ دستاویزات پر اسپتال کی باضابطہ تصدیق یا برانڈنگ بھی موجود نہیں تھی۔ حالیہ برسوں میں نیتن یاہو متعدد طبی مراحل سے گزر چکے ہیں۔ جولائی ۲۰۲۳ء میں ان کے جسم میں پیس میکر نصب کیا گیا تھا، مارچ ۲۰۲۴ء میں ہرنیا کی سرجری ہوئی، جبکہ دسمبر ۲۰۲۴ء میں پروسٹیٹ ہٹانے کی سرجری بھی کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: حتمی معاہدہ تک پہنچنے کیلئے ایران کو۷؍دن کی مہلت
پیس میکر کے معاملے پر بھی شفافیت سے متعلق سوالات اٹھے تھے۔ ابتدا میں وزیر اعظم کے دفتر اور اسپتال نے کہا تھا کہ انہیں صرف پانی کی کمی کے باعث نگرانی کے لیے داخل کیا گیا تھا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ڈاکٹروں نے ان کے جسم میں دل کی نگرانی کرنے والا سب کیوٹینیئس مانیٹر نصب کیا تھا۔ بعد ازاں طبی حکام نے اعتراف کیا کہ ای سی جی ٹیسٹ میں کچھ بے ضابطگیاں سامنے آئی تھیں، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ وزیر اعظم کے دل کی مجموعی حالت ’’مکمل طور پر نارمل‘‘ ہے۔ اسرائیلی سیاست میں نیتن یاہو کی مرکزی حیثیت اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ان کی صحت سے متعلق ہر پیش رفت کو نہ صرف اسرائیل بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔