عروس البلاد ممبئی میں ۲۲۷؍ سیٹوں پر ہونےو الے انتخابات کے دوران شہر کے الگ الگ علاقوں میں معمر افراد اور معذور شہریوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔
عروس البلاد ممبئی میں ۲۲۷؍ سیٹوں پر ہونےو الے انتخابات کے دوران شہر کے الگ الگ علاقوں میں معمر افراد اور معذور شہریوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ شہر کے الگ الگ پولنگ بوتھوں پر اپنی معذوری ، بڑھتی عمراور مختلف عارضہ میں مبتلا ہونے کے باوجود بزرگوں کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ دے کر اپنا فریضہ ادا کیا ۔ مسلسل ۵۰؍ اور ۵۵؍ سال سےووٹ دینے والی ۷۸؍ سالہ بلقیس خان ناظم خان جو عمر رجب روڈ پر رہتی ہیں ، اپنے بیٹوں اور بہو کے ساتھ انجمن سیف طیب جی گرلز ہائی اسکول میں ووٹ دینے پہنچیں ۔ انہوں نے ووٹ دینے کو بنیادی فریضہ قرار دیتے ہوئے اس بات کا پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ ’’ سیف طیب جی گرلز ہائی اسکول کی طرح دیگر پولنگ سینٹروں پر معمر ا فراد کیلئے وہیل چیئر کا معقول انتظام نہیںکیا گیا ہے ۔ میں امید کرتی ہوں کہ جیتنے والا امیدوار عوام کو نظر انداز نہیں کریگا ۔‘‘
بغیر کسی سہارے اور وہیل چیئر کے ووٹ دینے والے ۸۶؍ سالہ انصاری عبدالجبار حاجی نظام الدین نے انقلاب سے بات چیت کے دوران بتایا کہ وہ روما ریویو نامی ہفتہ روز اخبار کے مدیر و پرنٹر پبلشر ہیں ۔ انہوں نے ووٹ دینے کو فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ شہری اپنے علاقے کے جیتنے والے امیدوار سے ہمیشہ اچھی امیدیں وابستہ رکھتے ہیں۔ تاہم بحیثیت کارپوریٹر جیتنے والے امیدوار کو بھی رائے دہندگان کی بنیادی ضرورتو ںکا نہ صرف خیال رکھنا چاہئے بلکہ اس پر عمل بھی کرنا چاہئے۔ ‘‘ اس سلسلہ میں ووٹ دینےو الی انصاری صغرا خاتون نے نامہ نگار سے کہا کہ ’’ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اب جیتنے والے امیدوار کی باری ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کرے ۔‘‘
جمعرات ۱۵؍جنوری کو بی ایم سی الیکشن میں معذور افراد نے بھی شہر اورمضافات کے الگ الگ علاقوں میں جوش وخروش کے ساتھ ووٹنگ کی ۔ان کی معذوری جمہوری نظام کے استحکام میں حارج نہیں ہوئی۔ ان معذورافراد نے کہاکہ اگر ان کے ایک ووٹ سے اچھے امیدوار کا انتخاب عمل میں آتا ہے تو عوام کا بھلا ہوگا ، یہ میری معذوری سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
۶۵؍سالہ محمد ایوب شیخ (معذور)اپنے پوتے کے ساتھ گیٹ نمبر ۷؍میونسپل اسکول میں بوتھ سینٹر پہنچے ، وہاں ان کوبتایا گیا کہ ان کا ووٹ دوسرے بوتھ پرہے ۔ وہ اسی حالت میںآہستہ آہستہ دوسرے بوتھ کیلئے روانہ ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صحیح رہنمائی کی جاتی تو میرے جیسے معذوروں کواس قدر اذیت سےدوچار نہ ہونا پڑتا ۔‘‘ اسی اسکول میںشیخ خلیل چاند (۲۶)نا م کا نوجوان جس کا حادثے میں پیر ٹو ٹ گیا تھا، اپنی والدہ کے ساتھ پہنچا۔ اس کاکہنا تھا کہ ’’ تکلیف توہے مگرووٹ دینا اس سےکہیں زیادہ اہم ہے۔‘‘
چھڑی کے سہارے آہستہ آہستہ چل رہے ۷۲؍ سالہ سید ممتازعلی نے کہاکہ ’’طبیعت ٹھیک نہیںہے، مگر ووٹ ضرور دوں گا۔میری خواہش ہے کہ ایسا امیدوار منتخب ہو جوعوام کےمسائل حل کرنے میںدلچسپی رکھتا ہو۔‘‘ ۶۵؍سالہ نور محمدخان جن کی ہڈی کولہے سے ٹوٹ گئی ہے، پھر بھی بتائے ہوئے پتے پر واکر کے سہارے ہولی اینجل اسکول گیٹ نمبر ۶؍پہنچے، وہاں ان سے کہا گیا کہ آپ کا سینٹر یہاں نہیں بلکہ رمضان علی انگلش اسکول کے سامنے واقع کریڈا منڈل میں ہے۔اس پر ان کاکہنا تھا کہ وہ گیٹ نمبر۷؍میں رہتے ہیں اور پولنگ سینٹر اتنی دور ہے، اگرگھر کے قریب کسی اسکول میں کردیا جاتا تو اس طرح کی دشواری نہ ہوتی ۔ شہری انتظامیہ کی جانب سے اس الیکشن میںبھی دعوے توکئی سننے کوملے تھے مگرعمل دکھائی نہیں دیا۔