• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی وزیرخارجہ کی اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے فون پر گفتگو

Updated: January 16, 2026, 4:28 PM IST | Agency | Riyadh

سعودی عرب نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اس کیخلاف کسی بھی امریکی کارروائی کیلئے اپنی فضائی حدود اور اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔

File photo of Iranian Foreign Minister`s visit to Saudi Arabia. Picture: INN
ایرانی وزیرخارجہ کے سعودی دورے کا فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این
ریاض(ایجنسی): سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور امن و استحکام کے لیے باہمی تعاون کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس رابطے کے ساتھ ہی ایک اہم سفارتی پیغام بھی سامنے آیا ہے۔
گزشتہ روز دو سعودی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی عرب نے ایران کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اس کے خلاف کسی بھی ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کیلئے نہ اپنی فضائی حدود اور نہ ہی اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔
ذرائع کے مطابق یہ پیغام ایران کو براہِ راست پہنچایا گیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کسی بھی ایسی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا جو ایران کے خلاف کی جائے، اور نہ ہی اس مقصد کے لیے سعودی حدود یا فضائی راستے استعمال ہوں گے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ سعودی مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران میں عوامی احتجاج میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری جانب امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق انتباہات بھی دیئے جا رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق سعودی عرب کا یہ بیان خطے میں کشیدگی کم رکھنے اور خود کو کسی ممکنہ فوجی تصادم سے دور رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطہ برقرار رکھنا بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔واضح رہے کہ ایران کے حوالے سے امریکی دھمکیوں کے بعد ایسا خیال کیاجارہا تھا کہ واشنگٹن ، تہران پر ممکنہ فوجی کارروائی کیلئے سعودی عرب، قطر  یا پھر پاکستان کی سرزمین استعمال کرسکتا ہے۔ ایسے میں سعودی کی جانب سے اس وضاحت نے خطے میں ایک اطمینان کا ماحول پیدا کیا ہے۔
ترکی نے بھی ایران پر حملے کی مخالفت کی
انقرہ (ایجنسی): ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے۔ ایک بیان میں ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر بات چیت ہوئی ہے۔
ترک وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ترکی ایران میں فوجی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ اس وضاحت سے ایک جانب ایران کی پریشانیاں کچھ حد تک کم ہوئی ہیں، وہیں عالم اسلام نے بھی راحت کا سانس لیا ہے۔ واضح رہے کہ کچھ روز قبل بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے انکشاف کیا تھا کہ ترکی نے بھی پاک سعودی عرب دفاعی اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔  
بلوم برگ کے مطابق یہ انکشاف اس معاملے سے باخبر افراد نے کیا ہے۔ بلوم برگ کا کہنا تھا کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے اتحاد سے مشرق وسطیٰ اور اس سے بہت آگے تک طاقت کا توازن تبدیل ہو جائے گا۔ اس معاہدے پر پاکستان اور سعودی عرب نے پچھلے سال ستمبر میں دستخط کیے تھے جس میں لکھا گیا تھا کہ دونوں میں س کسی ایک بھی ملک کے خلاف جارحیت دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔ یہ بات نیٹو اتحاد کے آرٹیکل پانچ کی طرح ہے اور ترکیہ پہلے سے نیٹو اتحاد کا رکن ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK