ہندوستان نے پاکستان کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بار بار ’’حقِ خودارادیت‘‘ کا تذکرہ کرنے پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ اس اصول کو کثیر النسلی اور جمہوری ریاستوں کو کمزور کرنے کیلئے مسخ نہیں کیا جانا چاہئے۔
EPAPER
Updated: January 16, 2026, 5:17 PM IST | New York
ہندوستان نے پاکستان کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بار بار ’’حقِ خودارادیت‘‘ کا تذکرہ کرنے پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ اس اصول کو کثیر النسلی اور جمہوری ریاستوں کو کمزور کرنے کیلئے مسخ نہیں کیا جانا چاہئے۔
اقوامِ متحدہ (یو این) کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے ایک بار پھر جموں و کشمیر کا مسئلہ اٹھائے جانے پر ہندوستان نے پڑوسی ملک کو سخت جواب دیا ہے۔ یو این میں ہندوستان کے مستقل مشن کے کونسلر، ایلڈوس میتھیو پنوس نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے فورمز کو بار بار اپنے ’’تفرقہ انگیز ایجنڈے‘‘ کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب رکن ممالک کو محدود سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہئے، اسلام آباد اپنے دعوؤں کو آگے بڑھانے کیلئے یو این کے پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔
#IndiaAtUN
— India at UN, NY (@IndiaUNNewYork) January 16, 2026
Counsellor @eldosmp delivered 🇮🇳`s statement at the @UN General Assembly Plenary on `Report of the Secretary-General on the work of the Organization`. @MEAIndia @IndianDiplomacy pic.twitter.com/KZIl1yX7Bx
”کشمیر ہندوستان کا ’’اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ‘‘ حصہ ہے“
پنوس نے جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان کے بیان کو ’’غیر ضروری‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور ہندوستان کے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر ’’ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے‘‘۔ یو این میں پاکستان کے مستقل نمائندے، سفیر عاصم افتخار احمد کے خطاب میں کشمیر کا تذکرہ کرنے کے بعد ہندوستان نے یہ تبصرے کئے۔ ہندوستان نے یہ تبصرے، یو این کے سیکریٹری جنرل کی تنظیم کے کام سے متعلق رپورٹ پر ہونے والی گفتگو کے دوران کئے۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی وزیرخارجہ کی اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے فون پر گفتگو
ہندوستان نے پاکستان کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بار بار ’’حقِ خودارادیت‘‘ کا تذکرہ کرنے پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ اس اصول کو کثیر النسلی اور جمہوری ریاستوں کو کمزور کرنے کیلئے مسخ نہیں کیا جانا چاہئے۔ پنوس نے کہا کہ ’’حقِ خودارادیت، اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں درج ایک بنیادی اصول ہے۔ تاہم، اس حق کا غلط استعمال کثیر النسلی اور جمہوری ریاستوں میں علیحدگی پسندی کی حوصلہ افزائی کیلئے نہیں کیا جانا چاہئے۔‘‘
انہوں نے پاکستان کو خبردار کیا کہ وہ ’’بے بنیاد الزامات‘‘ اور جھوٹے بیانیوں کا سہارا نہ لے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگرچہ پاکستان اس کا عادی ہے، لیکن بہتر ہوگا کہ وہ بے بنیاد الزامات اور جھوٹ کا سہارا نہ لے اور ایسی تصویرکشی نہ کرے جو حقیقت سے بالکل دور ہو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی محاصرے میں غزہ کیلئے ٹرمپ کی نئی فلسطینی ٹیکنوکریٹک حکومت کی حمایت
عالمی جنوب کے خدشات
پاکستان کو سخت جواب دینے کے علاوہ، ہندوستان نے اس یو این اجلاس کو عالمی جنوب (Global South) کے خدشات کو اجاگر کرنے کیلئے بھی استعمال کیا اور ترقیاتی فنڈز کی فراہمی اور موسمیاتی انصاف جیسے حل طلب چیلنجز کی نشان دہی کی۔ پنوس نے یو این پر زور دیا کہ وہ اپنے عالمی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ عالمی تنازعات پر کمزور ردِعمل تنظیم کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔