ایس آر اے کی جانب سے دی جائیں گی ۔ میونسپل اسکولوں کی ۱۰؍عمارتیں ۲۶؍سال سے تنازع میں پھنسی ہیں۔ طلبہ کی تعداد میں متواتر اضافہ ہونے سےدشواریاں پیش آرہی ہیں
EPAPER
Updated: February 05, 2026, 7:33 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
ایس آر اے کی جانب سے دی جائیں گی ۔ میونسپل اسکولوں کی ۱۰؍عمارتیں ۲۶؍سال سے تنازع میں پھنسی ہیں۔ طلبہ کی تعداد میں متواتر اضافہ ہونے سےدشواریاں پیش آرہی ہیں
بی ایم سی اسکولوں کی ۱۰؍عمارتیں گزشتہ ۲۶؍سال سےشہری انتظامیہ اور ایس آر اے کےمابین تنازع میں پھنسی ہوئی ہیںجس کی وجہ سے شہر بھر میں طلبہ کیلئے کلاس روم کی جگہ کی شدید کمی ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں مختلف جھوپڑپٹیوں کے ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ میں ہونےوالے اضافہ کی وجہ سے یہ مسئلہ اور سنگین ہورہاہے کیونکہ ایک طرف طلبہ کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہاہے جس کی وجہ سے عمارتیں کم ہونے سے اسکولوں میں طلبہ کو ایڈجسٹ کرنے میں دشواری ہورہی ہے جبکہ بی ایم سی ان عمارتوںکی اب بھی منتظر ہے جو تنازع کے سبب نامکمل ہیں ۔ تاہم عنقریب کچھ پروجیکٹوں کی تکمیل سے بی ایم سی کوچند عمارتیں جلد ملنے کی اُمید ہے۔ ایس آراےاتھاریٹی کے مطابق آئندہ تعلیمی سال شروع ہونے سےقبل کم ازکم ۶؍ عمارتیں بی ایم سی کے حوالے کی جائیں گی۔
ان عمارتوںکی حوالگی میں مختلف وجوہات کی بناء پر تاخیر ہوئی ہے۔ کچھ معاملات میں بی ایم سی نے بنیادی سہولیات فراہم نہ ہونے کی وجہ سے قبضہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کےعلاوہ ایس آر اے یا اس میں شامل بلڈرس مبینہ طور پر موجودہ قوانین کے تحت لازمی طور پر اسکول کی عمارتوں کی تعمیر یا مناسب طریقے سے اسے علاحدہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ سینئر ایجوکیشن افسران کے مطابق محکمہ تعلیم ۱۹۹۹ءسے ان میں سے کچھ اسکولوں کی عمارتوں کا انتظار کر رہا ہے۔
بی ایم سی کی ڈپٹی کمشنر (تعلیم) پراچی جامبھیکرنے کہا کہ’’بی ایم سی جگہ کے دورے اور ایس آر اے کے ساتھ باقاعدہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ ان کے بقول اس عمل نے اب زور پکڑ لیا ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی حوالگی شروع ہو جائے گی۔
ایس آر اے ذرائع نے بتایا کہ آئندہ تعلیمی سال کے آغاز سے قبل ۶؍ا سکولوں کی عمارتیں حوالے کئے جانے کا امکان ہے۔ پریل میں شردھا رہیوا شی سنگھ کی ایک عمارت مکمل ہو چکی ہے۔ ایس آر اے نے شہری انتظامیہ کو ا س کا قبضہ لینے کیلئے مکتوب لکھا ہےمگر اس نے ابھی تک اسے قبول نہیں کیا ہے اور ڈیولپر سے فائر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) سمیت متعدد تقاضوں کی تعمیل کرنے کو کہا ہے۔ عمارت کی حوالگی جون تک ہونے کا امکان ہے۔
گھاٹ کوپر میں سائی چھایا ایس آر اے کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی میں ایک اسکول کی عمارت کو فائر ڈپارٹمنٹ کے این او سی کا انتظار ہے جسے مارچ تک حوالے کئے جانے کا امکان ہے۔ بھانڈوپ مغرب میں ٹینک روڈ پر واقع ہریجن کالونی میں اسکول کی عمارت کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔بی ایم سی اسکول ڈپارٹمنٹ کے ساتھ مشترکہ طورپر اس جگہ کا دورہ بھی کیا گیا ہے۔ معائنے کے دوران کچھ اضافی کام تجویز کئے گئے تھے ، بلڈر کو اسے مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس عمارت کی امسال مارچ تک حوالگی متوقع ہے۔ملنڈ گاؤں میں پرائمری اور سیکنڈری اسکول کی عمارت کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ اس جگہ کا دورہ کیا گیا ہے لیکن لفٹ کی تنصیب اور فائر سیفٹی سے متعلق کام ابھی باقی ہے۔ توقع ہے کہ عمارت اپریل تک حوالے کر دی جائے گی۔سہارگائوں میں اسکول کی عمارت مکمل ہوچکی ہے۔ چیف فائر آفیسر سے کلیئرنس کا انتظار ہے جس کی حوالگی اپریل میں متوقع ہے۔ بوریولی میں شری سائی کرپا ایس آر اے پروجیکٹ کے تحت اسکول کی عمارت حوالے کرنے کیلئے تیار ہے ۔
دریں اثناء چمبور گاؤں، باندرہ کے سدھارتھ نگر اور کاندیولی کے مہاویر نگر میں اسکولوں کی عمارتوں کی تعمیر کا کام ابھی جاری ہے۔توقع ہے کہ اگلے دو برسوں یہ عمارتیں حوالے کی جائیں۔لوور پریل میں ایک ایس آر اے پروجیکٹ وزارت ماحولیات اور جنگلات کی اجازت کے طریقہ کار میں پھنسا ہوا ہے۔ اسے ابھی تک منظوری نہیں ملی ہے۔ ایس آر اے سے ملنےوالی معلومات کے مطابق ان سبھی اسکولوں کو دسمبر ۲۰۳۱ء تک حوالے کئےجانے کی امید ہے۔