شہری انتظامیہ کی جانب سے۵؍ برسوں میں دوسری مرتبہ ’کلائمیٹ رِسک اسیسمنٹ‘، ایسی جگہوں کی شناخت کی جائیگی جن کے ڈوبنےکاخدشہ زیادہ ہے۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 4:54 PM IST | Shahab Ansari
شہری انتظامیہ کی جانب سے۵؍ برسوں میں دوسری مرتبہ ’کلائمیٹ رِسک اسیسمنٹ‘، ایسی جگہوں کی شناخت کی جائیگی جن کے ڈوبنےکاخدشہ زیادہ ہے۔
سمندر کی بڑھتی سطح کی وجہ سے اس صدی کے اخیر تک دنیا کے کئی شہروں سمیت ممبئی کے ڈوبنے کی خبروں کے دوران بی ایم سی نے ماحولیات اور حالات کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے تاکہ ممبئی کے حالات کا صحیح اندازہ لگا کر احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکیں۔ اس جائزے کی رپورٹ آئندہ سال تک دی جاسکے گی۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ نے یہ رپورٹ دی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق سطح سمندر میں اضافہ اب تک کی تاریخ میں سب سے زیادہ تیزی سے ہورہا ہے۔ ۲۰۱۴ء سے ۲۰۲۳ء تک سطح سمندر میں سالانہ ۴ء۷؍ ملی میٹر کا اضافہ نوٹ کیا جارہا تھا لیکن ۲۰۲۴ء میں اس میں ۵ء۹؍ ملی میٹر سالانہ تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پونے: ایم پی ایس سی کی مبینہ بدعنوانی کیخلاف زبردست احتجاج
واضح رہے کہ گلوبل وارمنگ سے گلیشیر اور برف کی تہیں پگھلتی ہیں اور پانی گرم ہوتا ہے، جس سے املاک اور لوگوں کے مسکن پر بھی اثر پڑتا ہے۔ اس کے جو اثرات ممبئی پر دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ بارش کی ترتیب بگڑنا، کبھی بہت زیادہ کبھی بہت کم بارش ہونا، طوفان میں اضافہ اوردرجہ حرارت میں اضافہ جیسی چیزیں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: فوڈ اینڈ ڈرگس کمشنر تکارام منڈے پر ہندو مخالف ہونے کا الزام
متذکرہ رپورٹ کے پیش نظر سطح سمندر میں اضافے کی وجہ سے ممبئی کو لاحق خطرے کا جائزہ لینے کیلئے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن نے زمینی حقیقت کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ اگرچہ ۵؍ سال قبل ہی ’کلائمیٹ رِسک اسیسمنٹ‘ کیا گیا تھا لیکن اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کی وجہ سے دوبارہ جائزہ شروع کردیا گیاہے۔ اقوام متحدہ پوری دنیا میں سطح سمندر میںمجموعی اضافہ کا جائزہ لیتا ہے لیکن بی ایم سی خصوصیت سے ممبئی میں گزشتہ ۵؍ برسوں میں سمندر سے متصل تعمیرات وغیرہ کی بنیاد پر جائزہ لے رہا ہے۔بی ایم سی کے ایک افسر کے مطابق اس مطالعہ میں ممبئی کے ۱۴۹؍ کلو میٹر طویل ساحلوں کا جائزہ لیا جائے گاکہ یہاں کیا تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ مثلاً ممبئی کے مغربی ساحلوں پر نہ صرف کوسٹل روڈ تعمیر کیا گیا ہے بلکہ اس کام کیلئے بحر عرب کے ۱۰۰؍ ہیکڑ سے زیادہ وسیع و عریض حصہ کو پاٹ دیا گیا ہےجبکہ مشرقی سمت میں تعمیراتی پروجیکٹوں کیلئے ان زمینوں کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں کبھی نمک کی کھیتی ہوا کرتی تھی کیونکہ وہاں سمندر کا پانی موجود تھا۔ اب سمندر کا پانی دور روک دیئے جانے کی وجہ سے یہ زمینیں سوکھ گئی ہیں۔اس کے علاوہ ماضی کے مقابلے زمینوں کے استعمال کی روایت میں بھی تبدیلیاں آئی ہیں جس کی وجہ سے اب ضروری ہوگیا ہےکہ اس طرح کا جائزہ دوبارہ لیا جائے۔اس مطالعہ میں ممبئی میں واقع ایسی جگہوں کی بھی شناخت کی جائے گی جن کے سطح سمندر میں اضافہ ہونے کی وجہ سے ڈوبنے کے زیادہ خدشات ہیں۔ماہرین کے مطابق ممبئی میں ماحولیات پر منفی اثرات کو مد نظر رکھے بغیر زمینوں کو پکا بنانا، بڑے بڑے تعمیراتی پروجیکٹ، مینگروس اور دیگر آبی نباتات کو نقصان پہنچاناجیسے پورا باندرہ کرلا کمپلیکس مینگرو جھاڑیوں کو کاٹ کر بنایا گیا ہے اور میٹھی ندی کا نالے میں تبدیل ہوجانا اور اس کی بحالی کیلئے کوئی پختہ اقدام نہ کیا جانا، زمین میں پانی جذب کرنے کے امکانات ختم کرتے جانا جیسی کئی وجوہات ہیں جو ممبئی کو ماحولیاتی طور پر شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔واضح رہے کہ سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کا اثر صرف ساحلی علاقوں تک محدود نہیں ہے کیونکہ اس کا اثر صحت، غذائی تحفظ، انسانی حقوق اور ثقافت پر پڑیگا۔ اس میں لوگ اپنی آبائی زمین اور اپنی شناخت کھو دیں گے۔ اس لئے حکومتوں کو اس مسئلے کو اپنی منصوبہ بندی کا حصہ بنانےکیلئے بہت وسیع نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
گزشتہ ہفتہ نیپال-تبت سرحد پر ہمالیہ سے گلیشیر کے ٹوٹنے اور نیچے گرنے سے پانی اور کیچڑ کا سیلاب آیا، جس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے اور کئی علاقے تباہ ہو گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگلے ۱۵؍ سے ۲۰؍ برسوں میں جنوبی ایشیا کیلئے گلیشیرس کے پگھلنے سے سیلاب کا بہت بڑا خطرہ ہے۔ اس کے بعد خشک سالی بڑھ سکتی ہےجس سے فصلیں اور غذائی تحفظ متاثر ہو سکتا ہے جس سے پوری دنیا میں تقریباً ۷۷؍ کروڑ افراد خطرے میں ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کیا ہے ؟
حال ہی میں پیسیفک آئی لینڈس فورم لیڈرس کی ۵۵؍ویں میٹنگ میں اقوام متحدہ کی نائب سیکریٹری جنرل امینہ محمد نے رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق گلوبل وارمنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر سمندر کی سطح بلند ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سےجو شہر سب سے زیادہ متاثر ہوں گے ان میں ممبئی اور کولکاتا بھی شامل ہیں۔