شہری انتظامیہ کی جانب سے۵؍ برسوں میں دوسری مرتبہ ’کلائمیٹ رِسک اسیسمنٹ‘، ایسی جگہوں کی شناخت کی جائیگی جن کے ڈوبنےکاخدشہ زیادہ ہے۔
EPAPER
Updated: September 08, 2026, 8:59 AM IST | Shahab Ansari
شہری انتظامیہ کی جانب سے۵؍ برسوں میں دوسری مرتبہ ’کلائمیٹ رِسک اسیسمنٹ‘، ایسی جگہوں کی شناخت کی جائیگی جن کے ڈوبنےکاخدشہ زیادہ ہے۔
سمندر کی بڑھتی سطح کی وجہ سے اس صدی کے اخیر تک دنیا کے کئی شہروں سمیت ممبئی کے ڈوبنے کی خبروں کے دوران بی ایم سی نے ماحولیات اور حالات کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے تاکہ ممبئی کے حالات کا صحیح اندازہ لگا کر احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکیں۔ اس جائزے کی رپورٹ آئندہ سال تک دی جاسکے گی۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ نے یہ رپورٹ دی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق سطح سمندر میں اضافہ اب تک کی تاریخ میں سب سے زیادہ تیزی سے ہورہا ہے۔ ۲۰۱۴ء سے ۲۰۲۳ء تک سطح سمندر میں سالانہ ۴ء۷؍ ملی میٹر کا اضافہ نوٹ کیا جارہا تھا لیکن ۲۰۲۴ء میں اس میں ۵ء۹؍ ملی میٹر سالانہ تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گلوبل وارمنگ سے گلیشیر اور برف کی تہیں پگھلتی ہیں اور پانی گرم ہوتا ہے، جس سے املاک اور لوگوں کے مسکن پر بھی اثر پڑتا ہے۔ اس کے جو اثرات ممبئی پر دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ بارش کی ترتیب بگڑنا، کبھی بہت زیادہ کبھی بہت کم بارش ہونا، طوفان میں اضافہ اوردرجہ حرارت میں اضافہ جیسی چیزیں شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کیا ہے ؟
حال ہی میں پیسیفک آئی لینڈس فورم لیڈرس کی ۵۵؍ویں میٹنگ میں اقوام متحدہ کی نائب سیکریٹری جنرل امینہ محمد نے رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق گلوبل وارمنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر سمندر کی سطح بلند ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سےجو شہر سب سے زیادہ متاثر ہوں گے ان میں ممبئی اور کولکاتا بھی شامل ہیں۔