ممبئی کی تمام سڑکوں کو کنکریٹ کا بنایا جارہا ہے ایسے میں کبھی ٹھیکیدار تع کبھی متعلقہ کمپنیاں پائپ لائن تو کبھی کیبل بچھانا بھول جاتی ہیں جس کی وجہ سے پکی سڑکوں کو کھودنے کی نوبت آجاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں نہ صرف سڑک بنانے کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کی مضبوطی بھی متاثر ہوتی ہے جس کی وجہ سے جلد ہی بی ایم سی سڑک کھودنے کی نئی پالیسی متعارف کروائے گی۔
ممبئی کی تمام سڑکوں کو کنکریٹ کا بنایا جارہا ہے ایسے میں کبھی ٹھیکیدار تع کبھی متعلقہ کمپنیاں پائپ لائن تو کبھی کیبل بچھانا بھول جاتی ہیں جس کی وجہ سے پکی سڑکوں کو کھودنے کی نوبت آجاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں نہ صرف سڑک بنانے کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کی مضبوطی بھی متاثر ہوتی ہے جس کی وجہ سے جلد ہی بی ایم سی سڑک کھودنے کی نئی پالیسی متعارف کروائے گی۔
اگرچہ بی ایم سی نے سڑک کی کھدائی کیلئے ۲۰۱۵ء میں پالیسی بنائی تھی لیکن چونکہ اب زیادہ تر سڑکیں کنکریٹ کی بنائی جاچکی ہیں اس لئے اس میں ترمیم کرکے نئی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ اب اسے منظوری کیلئے جمعرات، ۸؍ اکتوبر کو بی ایم سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں پیش کیا جائے گا۔
نئی پالیسی میں بی ایم سی اصول اور گائیڈ لائن نافذ کرے گی کہ ٹیلی فون خدمات اور گیس سپلائی کرنے والی جیسی کمپنیاںکیبل یا پائپ لائن بچھانے کیلئے روڈ کس طرح کھودیں گی۔
یہ بھی پڑھئے:اس ماہ ریپو ریٹ میں ۲۵ء۰؍ پوائنٹس اضافے کا امکان
نئی پالیسی کے تحت سڑک کھودنے کیلئے ’جی آئی ایس‘ (جغرافک انفارمیشن سسٹم) کے ذریعہ میپنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سڑک کھودنے کی فیس اور اصول کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ کی رقم میں کئی گنا اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ غیرقانونی کھدائی کرنے پر ۵؍ گنا زیادہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ممبئی میں ۲۰۵۰؍کلو میٹر طویل سڑکیں ہیں اور جگہ کی قلت کے سبب ٹیلی فون، گیس، الیکٹریسٹی کے کیبل، پانی کی پائپ لائن اور بیسٹ کی الیکٹریسٹی کے کیبل سب اکثر و بیشتر مقامات پر سڑکوں اور فٹ پاتھوں کے نیچے سے گزرتے ہیں۔ ان کی مرمت یا نئی لائن بچھانے کیلئے کمپنیوں کو سڑکیں کھودنی پڑتی ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے پہلے سے خلاء رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔