کیمپس پلیسمنٹ کے ذریعے آج بھی ہزاروں طلبہ کو ملازمتوں کی پیشکش ہوتی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں آفر واپس لئے جانے اور جوائننگ میں تاخیر کے واقعات نے ایک بڑھتا فرق نمایاں کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 3:53 PM IST | Kiran Yadav | Mumbai
کیمپس پلیسمنٹ کے ذریعے آج بھی ہزاروں طلبہ کو ملازمتوں کی پیشکش ہوتی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں آفر واپس لئے جانے اور جوائننگ میں تاخیر کے واقعات نے ایک بڑھتا فرق نمایاں کر دیا ہے۔
کسی کالج کے طالبعلم کیلئے کیمپس پلیسمنٹ میں ملازمت ملنا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کندھوں سے ایک بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔ کئی ماہ تک کلاسیز، امتحانات، درخواستوں اور انٹرویوز کے بعد آخرکار ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب لگتا ہے کہ غیر یقینی ختم ہو گئی ہے۔ سلیکشن لسٹ میں اپنا نام دیکھ کر طالب علم آفر قبول کرتا ہے اور مستقبل کی منصوبہ بندی شروع کر دیتا ہے: کہاں رہنا ہے، کب منتقل ہونا ہے، پہلی تنخواہ کتنی ہوگی اور گریجویشن کے بعد زندگی کس سمت جائے گی۔ لیکن کچھ طلبہ کیلئے یہ یقین زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔حالیہ مہینوں میں ملک کے بعض معروف کیمپس کے طلبہ کو ملازمت کی آفر واپس لیے جانے، جوائننگ کی تاریخ آگے بڑھائے جانے یا بھرتی کا عمل مکمل ہونے کے باوجود ملازمت کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بعض طلبہ نے تو اس یقین کے باعث دوسری ملازمتوں کی تلاش بھی روک دی تھی کہ انکے ہاتھ میں نوکری موجود ہے۔
اب اس مسئلے پر ملک کے آئی آئی ٹیز کی جانب سے بھی غیر معمولی طور پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ آل آئی آئی ٹیز پلیسمنٹ کمیٹی نے۲۲؍ کمپنیوں کے ساتھ اگلے دو پلیسمنٹ سیزن تک تعاون روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی وجہ۲۳؍ آئی آئی ٹیز میں۲۰۲۶ء میں گریجویٹ ہونیوالے طلبہ کو دی گئی۱۵۰؍ سے زیادہ آفرز کا پورا نہ ہونا ہے۔ ان کمپنیوں میں اوریکل بھی شامل ہے۔اس فیصلے نے ایک ایسے سوال کو نمایاں کر دیا ہے جو صرف ان کمپنیوں یا اس سال متاثر ہونے والے طلبہ تک محدود نہیں ہے:جب کوئی کمپنی کیمپس پلیسمنٹ کے ذریعے کسی طالب علم کو منتخب کرتی ہے تو آخر وہ نوکری کتنی یقینی ہوتی ہے؟
یہ بھی پڑھئے:۲؍گریجویٹس جنہوں نے۴؍ماہ میں اسٹارٹ اَپ بناکر اسے فروخت کردیا
آفر ، منزل تھی، اب یہ ایک اور انتظار بن سکتی ہے
آئی آئی ٹیز سے جڑے حالیہ معاملے کا حجم اس مسئلے کو نظر انداز کرنا مشکل بنا دیتا ہے۔۲۳؍ آئی آئی ٹیز میں۱۵۰؍ سے زیادہ آفرز پوری نہیں ہوئیں۔ بعض کمپنیوں نے۱۰؍ سے ۱۵؍ آفرز تک واپس لے لیں۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً۴۰؍ ایسی آفرز اوریکل سے متعلق تھیں۔ متاثرہ طلبہ کے سی وی موجودہ دیگر ریکروٹرز کے درمیان بھی تقسیم کیے گئے۔ دی اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، آئی آئی ٹی گوہاٹی کے اسوسی ایٹ پروفیسر اور آل آئی آئی ٹیز پلیسمنٹ کمیٹی کے کنوینرجان جوز نے بتایا کہ متاثرہ طلبہ میں سے تقریباً۲۰؍ سے۳۰؍ فیصد کو اس طرح کی دوسری کمپنیوں میں ریفرل کے ذریعے ملازمت مل گئی۔ تاہم، اب بھی کتنے طلبہ ملازمت کی تلاش میں ہیں، اس کا مکمل اعداد و شمار دستیاب نہیں ہے۔
طلبہ کیلئے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ایک نوکری ختم ہو گئی۔ کیمپس پلیسمنٹ کی آفر اس بات پر اثر ڈال سکتی ہے کہ طالب علم اس کے بعد کیا فیصلہ کرتا ہے۔ منتخب ہونے کے بعد وہ دوسری جگہ درخواست دینا بند کر سکتا ہے، کسی دوسری ملازمت کو ٹھکرا سکتا ہے یا متوقع جوائننگ کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے کسی دوسرے شہر منتقل ہونے کی تیاری شروع کر سکتا ہے۔یہ صورتحال خاص طور پر’ایک طالب علم، ایک آفر‘ جیسے نظام میں اہم ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر آئی آئی ٹی مدراس میں کسی کمپنی کے ذریعے منتخب طلبہ کو اسکے پلیسمنٹ ویب سائٹ سے ڈی رجسٹر کر دیا جاتا ہے۔ یہ نظام اس مفروضے پر کام کرتا ہے کہ قبول کی گئی آفر ایک نسبتاً مستحکم منزل ہے۔ لیکن جب یہی آفر اچانک ختم ہو جائے تو طالب علم کیلئے پلیسمنٹ سسٹم کا حفاظتی سہارا بھی ختم ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۴؍ویں کوشش میں انیکیت واڈکر فوج میں لیفٹیننٹ بن گیا
اوریکل کا معاملہ
اوریکل اس غیر یقینی کی ایک واضح مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ مئی میں اوریکل نے کئی آئی آئی ٹیز اور این آئی ٹیز میں کیمپس پلیسمنٹ کی آفرز واپس لئے تھے۔ یہ معاملات یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ آفر واپس لیے جانے اور جوائننگ میں تاخیر ایک جیسے مسائل نہیں ہیں۔ ایک صورت میں نوکری ہی ختم ہو جاتی ہے، جبکہ دوسری صورت میں نوکری شاید موجود رہتی ہے لیکن طالب علم کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔ دونوں صورتوں میں بنیادی مسئلہ ایک ہی ہے: طالب علم اس وقت غیر یقینی کا شکار ہوتا ہے جب وہ متوقع ملازمت کو سامنے رکھتے ہوئے پہلے ہی اپنے اہم فیصلے کر چکا ہوتا ہے۔
ان واقعات کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالنا آسان ہوگا کہ کیمپس پلیسمنٹ کا نظام ہی ناکام ہو رہا ہے۔ لیکن مجموعی اعداد و شمار اس قدر سادہ تصویر پیش نہیں کرتے۔ اصل تبدیلی شاید سلیکشن کے بعد کے مرحلے میں ہو رہی ہے۔ ایک طالب علم کو اعداد و شمار میں ’پلیسڈ‘ یعنی ملازمت حاصل کرنے والا شمار کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ملازمت حقیقت میں کب شروع کرے گا یا کرے گا بھی یا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ہردوئی کی ایک طالبہ جس نے جونیئر اسسٹنٹ امتحان میں کامیابی حاصل کی
’پلیسڈ‘ سے ’انتظار‘ تک: سلیکشن کے بعد کا خلا
اوریکل کا معاملہ جوائننگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی کی ایک وسیع تصویر کا حصہ ہے۔مارچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ۲۰۲۵ءبیچ کے ایک ہزار سے زیادہ انجینئرنگ گریجویٹس نے بھرتی کا عمل مکمل کرنے کے باوجود ٹیک مہندرا میں جوائننگ کا انتظار کیا۔ کمپنی نے کہا تھا کہ کاروباری ضرورت کے مطابق آفر لیٹر مرحلہ وار جاری کیے جا رہے ہیں۔ جتنی طویل یہ تاخیر ہوتی ہے، گریجویٹ کے لیے زندگی کے اگلے مرحلے کی منصوبہ بندی اتنی ہی مشکل ہو جاتی ہے۔ مہینوں تک جوائننگ کا انتظار کرنے والا طالب علم یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ اسے دوسری ملازمتوں کے لیے درخواست دیتے رہنا چاہیے، کوئی دوسری نوکری قبول کرنی چاہیے، مزید تعلیم حاصل کرنی چاہیے یا صرف انتظار کرتے رہنا چاہیے۔
کیمپس آفر اب بھی اہم ، لیکن ’پلیسڈ‘ کا مطلب ’جلد جوائننگ‘ نہیں رہا
حالیہ واقعات یہ ثابت نہیں کرتے کہ کیمپس پلیسمنٹ کا نظام کام کرنا بند کر چکا ہے۔ آئی آئی ٹیز اور آئی آئی ایمز اب بھی بڑی تعداد میں ریکروٹرز کی شرکت اور ملازمتوں کی بڑی تعداد میں آفرز کی اطلاع دیتے ہیں۔ لیکن یہ واقعات ضرور دکھاتے ہیں کہ ’پلیسڈ‘ کا لفظ کئی مختلف مراحل کو اپنے اندر چھپا سکتا ہے: سلیکشن آفر، آفر قبول کرنا،دستاویزات کی تکمیل، جوائننگ کی تاریخ، ملازمت کا پہلا دن۔ طالب علموں کے ذہن میں پہلے کیمپس آفر ان تمام مراحل کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتی تھی۔ لیکن حالیہ آفر واپس لیے جانے اور جوائننگ میں تاخیر کے واقعات نے دکھایا ہے کہ ان مراحل کے درمیان موجود ربط اب اتنا یقینی نہیں رہا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کیمپس آفر بے معنی ہو گئی ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آفر ملنے اور حقیقت میں ملازمت شروع کرنے کے درمیان کا عرصہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
اگر آفر ختم ہو تو پلیسمنٹ و بھی دوسرا موقع دینا ہوگا
آئی آئی ٹیز کا حالیہ ردعمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھرتی کا عمل ختم ہونے کے بعد بھی پلیسمنٹ دفاتر کو طلبہ کی مدد کیلئے آگے آنا پڑ سکتا ہے۔آفرز پوری نہ ہونے کے بعد متاثرہ طلبہ کے سی وی دیگر ریکروٹرز کے درمیان تقسیم کیے گئے، جبکہ آئی آئی ٹیز نے۲۲؍ کمپنیوں کے ساتھ تعاون روکنے کا فیصلہ کیا۔ تعلیمی ادارے مزید مضبوط حفاظتی اقدامات بھی کر سکتے ہیں، جن میں آفر کی شرائط، جوائننگ کی واضح مدت اور آفر واپس لیے جانے کی صورت میں طالبعلم کو دوبارہ پلیسمنٹ کے عمل میں شامل کرنے کا باقاعدہ طریقہ شامل ہو سکتا ہے۔