مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور خام تیل کی روبہ عروج قیمتوں کی بنا پر مانیٹری پالیسی کمیٹی کی سہ روزہ میٹنگ کے بعد کل اعلان ہوسکتاہے۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 12:42 PM IST | Agency | Mumbai
مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور خام تیل کی روبہ عروج قیمتوں کی بنا پر مانیٹری پالیسی کمیٹی کی سہ روزہ میٹنگ کے بعد کل اعلان ہوسکتاہے۔
پیر سے شروع ہونےوالی سہ روزہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کی میٹنگ میں ریزرو بینک ریپو ریٹ(شرح سود) میں ۲۵ء۰؍ بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرسکتاہے۔ اس کا امکان معاشی ماہرین کی اکثریت نے ایک سروے میں ظاہر کیا ہے۔ اس اضافہ کے بعد ریپو ریٹ۲۵ء۵؍ فیصد سے بڑھ کر۵۰ء۵؍ فیصد ہو جائے گا۔ پالیسی ماہرین اور ماہرین اقتصادیات کے مطابق جہاں ۷۵؍ فیصد یہ امکان ہے کہ ریپو ریٹ میں ۲۵؍ بنیادی پوائنٹس کا اضافہ ہوگا وہیں اس امکان کو بھی خارج نہیں کیا جاسکتا کہ ایک بار پھر آر بی آئی کی پالیسی ساز کمیٹی مذکورہ شرح کو جوں کا توں رکھے۔
یہ بھی پڑھئے: انڈیگو کی پروازیں مہنگی، جیٹ فیول کی قیمت بڑھنے پر ایندھن چارج میں اضافہ
ریپوریٹ میں اضافے کا امکان کیوں؟
حالیہ مہینوں میں شرح سود میں اضافے کے حق میں صورتحال کافی مضبوط ہوئی ہے، جس کی دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ مہنگائی ہے، جو آر بی آئی کے درمیانی مدت کے۴؍فیصد کے ہدف سے اوپر چلی گئی ہے۔ اگست میں مہنگائی۴ء۸۲؍فیصد رہی۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ مہنگائی مسلسل کئی ماہ سے مقررہ ہدف سے اوپر ہے۔ اگرچہ مہنگائی میں کچھ اضافہ ایسے عوامل کی وجہ سے ہے جن پر مانیٹری پالیسی کا براہ راست کنٹرول نہیں، جیسے خوراک اور توانائی کی قیمتیں، لیکن آر بی آئی کو اس امکان کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ مسلسل مہنگائی آہستہ آہستہ لوگوں کی مہنگائی سے متعلق توقعات کو متاثر کر سکتی ہے۔
خام تیل کی قیمتیں اور روپے کی قدر میں گراوٹ
خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافہ بھی بڑی تشویش ہے۔ تیل کی قیمت۱۰۰؍ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے کی وجہ سے ہندوستان کیلئے صورتحال مشکل ہو جاتی ہے، کیونکہ ملک درآمد شدہ خام تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ تیل کی بلند قیمتوں سے درآمدی بل بڑھتا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ پڑتا ہے اور روپے کی قدر کمزور ہو سکتی ہے۔ کمزور روپیہ درآمد ہونے والی اشیا کو مہنگی کردیتا ہے اور مہنگائی پر مزید دباؤ پیدا کرتا ہے۔ اس لئے مہنگے خام تیل اور روپے کی کمزوری کا امتزاج آر بی آئی کیلئے دونوں عوامل میں سے کسی ایک کے مقابلے میں زیادہ پریشان کن ہے۔
اقتصادی ترقی اب بھی قابل قدر
دوسری جانب ملک کی اقتصادی ترقی اب بھی مضبوط ہے۔ جی ڈی پی کی تقریباً۷ء۸؍فیصد حقیقی شرح نمو سے آر بی آئی کو مہنگائی پر توجہ مرکوز کرنے کی زیادہ گنجائش ملتی ہے۔ اگر اقتصادی سرگرمیاں کمزور ہوتیں تو صورتحال مختلف ہوتی۔ اس لیے۲۵؍ پوائنٹس کا معمولی اضافہ مجموعی اقتصادی ترقی کیلئے بڑا خطرہ نہیں سمجھا جائے گا۔
کیا اس اضافہ سے روپے کو فائدہ پہنچےگا؟
روپے کی کمزوری بھی مانیٹری پالیسی پر ہونے والی بحث کا ایک اہم حصہ بن گئی ہے۔ آر بی آئی کسی مخصوص شرح مبادلہ کو ہدف نہیں بناتا، لیکن وہ روپے کی بے قابو گراوٹ سے بچنے میں خاص دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ اس سے درآمدی مہنگائی اور مالیاتی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔ ملکی شرح سود میں اضافہ کچھ حد تک اس دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، کیونکہ اس سے روپے میں سرمایہ کاری زیادہ پرکشش ہو سکتی ہے، اگرچہ مانیٹری پالیسی اکیلے شرح مبادلہ کا تعین نہیں کر سکتی۔کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے پر دباؤ برقرار رہتا ہے تو آر بی آئی کو بالآخر۷۵؍ ست ۱۰۰؍ پوائنٹس تک شرح سود بڑھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔