حسب اعلان یکم اکتوبر سے مہم شروع نہیں کی گئی لیکن اس کی منسوخی یا معطلی کے تعلق سے باقاعدہ کوئی بیان بھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 3:53 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
حسب اعلان یکم اکتوبر سے مہم شروع نہیں کی گئی لیکن اس کی منسوخی یا معطلی کے تعلق سے باقاعدہ کوئی بیان بھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔
برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے یکم اکتوبر ۲۰۲۶ء سے ۳۱؍ دسمبر تک ۳؍ مہینوں کے درمیان ۱۴؍ فٹ اور اس سے زیادہ اونچے جھوپڑوں کے خلاف خصوصی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن برسر اقتدار اور اپوزیشن پارٹیوں، سماجی رضاکاروں اور شہریوں کی جانب سے اس پر سخت اعتراضات کے درمیان یہ مہم شروع نہیں کی گئی جس سے اس کارروائی کی زد میں آنے والوں نے راحت کا سانس لیا ہے۔
اگرچہ جمعرات کو حسب اعلان کارروائی شروع نہیں کی گئی تاہم خبر لکھے جانے تک بی ایم سی نے اس کارروائی کو منسوخ یا معطل کرنے کے تعلق سے باقاعدہ کوئی بیان بھی جاری نہیں کیا تھا۔
یاد رہے کہ میونسپل کمشنر اشوینی بھیڈے نے ۱۹؍ ستمبر کو ایک اعلامیہ جاری کرکے اونچے جھوپڑوں کے خلاف خصوصی مہم کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ممبئی کی میئر ریتو تائوڑے اور بی ایم سی میں برسراقتدار اور اپوزیشن کے ہائوس لیڈران سمیت میونسپل کارپوریٹروں نے اس فیصلے سے لاعلمی ظاہر کی تھی اور کارروائی کی مخالفت شروع کردی تھی۔ ان بیانات اور مخالفتوں کے درمیان یکم اکتوبر تک بھی میونسپل کمشنر اس موضوع پر خاموش رہیں۔ اگرچہ جھوپڑوں کے خلاف مہم شروع نہیں کی گئی لیکن باقاعدہ طور پر کوئی بیان بھی نہیں جاری کیا گیا کہ یہ مہم انجام نہیں دی جائے گی اور بی ایم سی میں برسراقتدار اتحادی پارٹیوں کو بھی اس فیصلے کا علم کیونکر نہیں ہوسکا۔
جمعرات کو جب بی ایم سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ شروع ہوئی تو کانگریس کے ہائوس لیڈر اشرف اعظمی نے چیئر مین پربھاکر شندے کی توجہ اس طرف مبذول کروائی کہ اگرچہ بی ایم سی نے جھوپڑوں کے خلاف کارروائی شروع نہیں کی ہے تاہم اس تعلق سے کوئی باقاعدہ بیان بھی جاری نہیں کیا ہے۔ اس پر پربھاکر شندے نے کہا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ کے اختتام پر اس تعلق سے بات کی جائے گی۔ چونکہ اس روز بی ایم سی کے ایڈیشنل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بانگر نے ممبئی میں پانی سپلائی کے تعلق سے پرزنٹیشن دیا جو سہ پہر۴؍ بجے تک جاری تھا اس لئے اسٹینڈنگ کمیٹی کی روایتی کارروائی تاخیر سے شروع ہوئی۔ میٹنگ کے اختتام پر اشرف اعظمی نے اس معاملے کو دوبارہ اٹھایا لیکن انہیں بتایا گیا کہ اس پر بی ایم سی کا جواب تیار نہیں ہے اس لئے آئندہ میٹنگ میں اس کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے انقلاب سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’’بی ایم سی کمشنر سے جب ہم نے ملاقات کی تو انہوں نے زبانی یقین دہانی کرائی تھی کہ کارروائی نہیں کی جائے گی لیکن کوئی تحریری بیان اب تک جاری نہیں کیا گیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:بھیونڈی: ایس آئی آر کیلئے ووٹروں کو سرکاری دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے
’’۲۰؍فٹ اونچے جھوپڑوں کو قانونی درجہ دیا جائے‘‘
اس تعلق سے این سی پی (اجیت پوار) کی کارپوریٹر ڈاکٹر سعیدہ خان نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ممبئی میں ۲۰؍ فٹ تک اونچے جھوپڑوں کو قانونی درجہ دے دیا جائے۔ ان کے مطابق ۱۴؍ فٹ اونچے جھوپڑوں کو ایس آر اے ایک یونٹ تسلیم کرتا ہے جبکہ ۲۰؍ فٹ اونچی تعمیر کو ۳؍ یونٹ مانا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سعیدہ خان کے مطابق غریب کے بچے بڑے ہوتے ہیں تو جگہ کی تنگی کے سبب یہ لوگ اپنے جھوپڑے اونچے کردیتے ہیں جس سے بچے اوپر کے حصے میں رہنے لگتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ افقی طور پر جگہ دستیاب نہیں ہے اس لئے عمودی طور پر تعمیر کو بڑھایا جاتا ہے۔ اگر ۲۰؍ فٹ اونچے جھوپڑوں کو قانونی درجہ دے دیا گیا تو جب بھی ایس آر اے اسکیم کے تحت ان کی باز آباد کاری ہوگی، انہیں زیادہ جگہ ملے گی اور وہ خوشی خوشی منتقل ہوجائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کئی دہائیوں سے جھوپڑا واسیوں کو تعلیم، علاج، پانی اور بجلی جیسے بنیادی سہولتیں دی گئی ہیں اس لئے جب کبھی ان کی بازآباد کاری ہو تو ٹائون پلاننگ کے تحت ہو۔