Updated: August 09, 2026, 5:11 PM IST
| Ranchi
گلوکار-اداکارپیوش مشرا نے جھارکھنڈ کے طلباء کے بھرتی کے امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کی حمایت کا اعلان کیاانہوں نے سنیچر کو رانچی میں سرکاری ملازمت کے امیدواروں سے ملاقات کی جو بھرتی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، اور انہیں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
پیوش مشرارانچی میں طلبہ کے احتجاج میں شامل ہوئے۔ تصویر: ایکس
گلوکار اور اداکارپیوشمشرا رانچی کے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم پہنچے، جہاں گزشتہ دو ہفتوں سے سرکاری ملازمت کے خواہشمند نوجوان احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس احتجاج کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ یہ مظاہرین نے بغیر کسی سیاسی وابستگی کے یہ تحریک جاری رکھی ہے، جسے وہ انتہائی قابلِ ستائش سمجھتے ہیں۔مشرا نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میری ایونٹ مینجمنٹ کمپنی اور میرے لیے جو کچھ ممکن ہے، میں تمہاری حمایت کے لیے ضرور کروں گا۔‘‘ انہوں نے ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ وہ مظاہرین کے جائز مطالبات پر فوری غور کرے اور انہیں جلد از جلد پورا کرے۔ اس موقع پر مشرا نے اپنا مشہور نغمہ ،’’آرنبھ ہے پرچنڈ‘‘ بھی گایا، جس سے مظاہرین میں زبردست جوش و خروش پیدا ہو گیا۔
بعد ازاں، صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور رانچی کے احتجاج کو مختلف نقطہ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’پورے ہندوستان کے نوجوانوں نے دہلی کے احتجاج میں حصہ لیا۔ جھارکھنڈ بھی ملک کا ایک اہم حصہ ہے، اور اس کے احتجاج کے ساتھ مختلف سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔ میرے خیال میں تمام ذرائع ابلاغ اور عوام کو اس پر یکساں طور پر بات کرنی چاہیے۔‘‘تحریک کے ایک لیڈر نے کہا کہ پیوش مشرا کے آنے سے مظاہرین کو نئی توانائی اور عزم ملا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وہ بالی ووڈ جیسی بڑی صنعت سے آئے اور ہمارے احتجاج کی حمایت کی، اور ہمارے پرامن اور منضبط طریقہ احتجاج کی بھی تعریف کی۔‘‘
دریں اثنا، ریاستی حکومت اور پانچ طلبہ تنظیموں کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد یہ احتجاج اب اپنے۱۵؍ویں دن میں داخل ہو گیا ہے۔ مذاکرات کے دوران حکومت نے بعض یقین دہانیاں کرائیں، لیکن طلباء کی بنیادی شرائط پوری نہ ہو سکیں، جس کے باعث یہ معاملہ بگڑ گیا۔احتجاج کرنے والے طلباء نے اب سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے اتوار تک ان کے تمام مطالبات پورے نہ کیے تو وہ۱۰؍ اگست کو ریاستی اسمبلی کی طرف مارچ کریں گے اور دھرنا شروع کر دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھرتی کے طریقہ کار میں شفافیت، اور امتحانات کی دوبارہ جانچ ان کے اولین مطالبے ہیں، اور وہ اس مقصد کے لیے اپنی تحریک کو کسی بھی قیمت پر جاری رکھیں گے۔