شیخ صالح الفوزان نے سرحدی دستوں سے کہا کہ وہ احکامات کی پابندی کرتے ہوئے سعودی عرب اور یمن کے تحفظ کے لیے اپنے فرائض انجام دیں، جبکہ ریاض، انقرہ اور اسلام آباد نے ہنگامی فوجی اجلاس کی تیاری شروع کردی۔
EPAPER
Updated: September 25, 2026, 3:03 PM IST | Riyadh
شیخ صالح الفوزان نے سرحدی دستوں سے کہا کہ وہ احکامات کی پابندی کرتے ہوئے سعودی عرب اور یمن کے تحفظ کے لیے اپنے فرائض انجام دیں، جبکہ ریاض، انقرہ اور اسلام آباد نے ہنگامی فوجی اجلاس کی تیاری شروع کردی۔
سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ صالح بن فوزان الفوزان نے ملک کی سرحدوں پر تعینات سعودی فوجیوں اور یمن میں سرگرم حوثی گروپ کے خلاف کارروائی کرنے والی اتحادی افواج سے متحد رہنے اور اپنے فرائض انجام دینے کی اپیل کی ہے۔ سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے جاری بیان میں انہوں نے فوجیوں کو صبر، ثابت قدمی اور چوکس رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے کمانڈروں کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ شیخ صالح الفوزان، جو سعودی کونسل برائے کبار علماء کے سربراہ بھی ہیں، نے سرحدی فوجیوں سے کہا کہ وہ ملک کے دفاع کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے کے لیے تیار رہیں۔ ان کے بیان میں قرآن کی آیات اور پیغمبر اسلام ﷺ کے صحابہ سے متعلق روایات کا حوالہ دیتے ہوئے دفاع اور قربانی پر زور دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں کو ’’مسلسل اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے تیار‘‘ رہنا چاہیے اور حکمرانوں اور میدان میں موجود کمانڈروں کے احکامات کی پابندی کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: یواین: نیتن یاہو کی تقریر سے قبل ۷۷؍ وفود ہال سے نکل گئے
مفتی اعظم نے حوثی گروپ کو سعودی عرب اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف متحد رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں سلامتی اور استحکام کی بحالی اور وہاں کی ’’قانونی قیادت‘‘ کو مضبوط کرنا ضروری ہے، تاکہ یمنی عوام امن، سلامتی اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ یہ موقف سعودی حکام کا مؤقف ہے؛ حوثی گروپ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ جاری تنازع کو مختلف انداز میں پیش کرتا ہے۔ شیخ صالح الفوزان نے سعودی عرب کی سرحدوں اور مقدس مقامات کے تحفظ کو بھی اپنے بیان کا اہم حصہ بنایا۔ انہوں نے فوجیوں سے کہا کہ وہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت مسلمانوں کے مقدس مقامات موجود ہیں، اس لیے ملک کا دفاع ایک اہم ذمہ داری ہے۔
مفتی اعظم کا یہ سخت بیان سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ۱۴؍ ستمبر کو خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں شہری اہداف کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں ۱۳؍ شہری زخمی ہوئے اور ۷؍ مکانات اور ۲؍ گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ سعودی قیادت میں یمن کے لیے قائم اتحادی افواج کے ترجمان نے ان حملوں کو شہری اہداف کے خلاف کارروائی قرار دیا تھا۔ ۱۵؍ ستمبر کو سعودی حکام نے یہ بھی بتایا کہ مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو سعودی فضائی دفاعی نظام نے تباہ کردیا۔ سعودی اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ڈرون کو مکہ کے ممنوعہ فضائی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے روکا گیا۔ سعودی حکام نے اسے مکہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش قرار دیا، تاہم حوثیوں کی جانب سے اس مخصوص واقعے کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سعودی عرب : مکہ معظمہ کے لیے ’ممکنہ خطرے‘ کا انتباہ جاری
حالیہ کشیدگی کے دوران حوثیوں نے سعودی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق جمعرات کو حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی حکام نے ۶؍ بیلسٹک میزائل روکنے کی اطلاع دی۔ سعودی حکام نے مکہ مکرمہ، جدہ اور ینبع سمیت متعدد علاقوں کے لیے ہنگامی انتباہات بھی جاری کیے تھے۔ اسی دوران سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہنگامی اعلیٰ سطحی فوجی اجلاس کی تیاری شروع کردی ہے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے نیویارک میں ملاقات کی، جس میں سعودی عرب کی حمایت کے لیے تینوں ممالک کے مسلح افواج کے سربراہان کا ہنگامی اجلاس بلانے کی تیاری پر بات ہوئی۔
یہ اجلاس اسی دفاعی معاہدے کے تحت ہوگا جس پر سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے ۷؍ اگست ۲۰۲۶ء کو مکہ مکرمہ میں دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ دفاعی تعاون اور اجتماعی دفاعی صلاحیت بڑھانے کا عزم بھی معاہدے میں شامل ہے۔ تینوں ممالک نے اگست کے آخر میں معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے مزید اقدامات پر بھی اتفاق کیا تھا۔ ۳۱؍ اگست کو استنبول میں منعقدہ سیاسی و دفاعی اسٹریٹجک کمیٹی کے اجلاس میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے وزرائے خارجہ و دفاع، دفاعی افواج کے سربراہان اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ مشترکہ بیان میں تینوں ممالک نے علاقائی کشیدگی کم کرنے، دفاعی تعاون بڑھانے اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مؤثر بنانے پر زور دیا۔
موجودہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب یمن میں تقریباً ۱۲؍ سال سے جاری تنازع کے مختلف فریق دوبارہ زیادہ فعال ہوگئے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ لڑائی سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کے ساتھ ساتھ خطے کی وسیع تر جنگ سے بھی جڑ گئی ہے۔ سعودی عرب حوثیوں کو ایران سے وابستہ گروپ قرار دیتا ہے، جبکہ ایران نے حالیہ دنوں میں حوثیوں کی کارروائیوں سے خود کو الگ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ تازہ صورتحال میں سعودی مفتی اعظم کا فوجیوں کو دیا گیا پیغام صرف مذہبی اپیل تک محدود نہیں رہا بلکہ اسے سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی دفاعی تیاری کے ماحول میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایک طرف سعودی فوجی قیادت حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کررہی ہے، تو دوسری طرف ریاض، انقرہ اور اسلام آباد مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ممکنہ مشترکہ اقدامات پر مشاورت کررہے ہیں۔