مرکزنیوزبراڈکاسٹنگ اتھاریٹی کو مزید اختیارات کیوں نہیں دیتا : ہائی کورٹ

Updated: October 20, 2020, 9:49 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

داکار سشانت سنگھ کی موت سے متعلق ٹی وی چینلوں کے ذریعے گمراہ کن اور تضحیک آمیز خبریں نشر کرنے کے خلاف داخل کردہ عرضداشت پر پیر کو ہونے والی شنوائی کے دوران بامبے ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت سے سوال کیا کہ ’’ آخر خبروں کو نشر کرنے کے سلسلے میں نیوز براڈ کاسٹنگ اسٹینڈرس اتھاریٹی (این بی ایس اے ) کو مزید پختہ رہنما خطوط بنانے کی اجازت کیوں نہیں دی جارہی ہے جو خبروں کے معیار طے کرسکے ۔

Bombay High Court - Pic : Mid-Day
بامبے ہائی کورٹ ۔ تصویر : مڈ ڈے

اداکار سشانت سنگھ کی موت سے متعلق ٹی وی چینلوں کے ذریعے گمراہ کن اور تضحیک آمیز خبریں نشر کرنے کے خلاف داخل کردہ عرضداشت پر پیر کو ہونے والی شنوائی کے دوران بامبے ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت سے سوال کیا کہ ’’ آخر خبروں کو نشر کرنے کے سلسلے میں نیوز براڈ کاسٹنگ اسٹینڈرس اتھاریٹی (این بی ایس اے ) کو مزید پختہ رہنما خطوط بنانے کی اجازت کیوں نہیں دی جارہی ہے جو خبروں کے  معیار طے کرسکے ۔‘‘ عدالت نے این بی ایس اے کے علاوہ دیگر پرائیویٹ اداروں کو بھی اس کی اجازت دینے کی ضرورت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق موقف واضح کرنے کو کہا ہے ۔
 اس ضمن میں جاری سماعت کے دوران بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیپانکر دتااور جسٹس جی ایس کلکرنی نے کہا کہ ’’چونکہ این بی ایس اے نے اخلاقیات کے ضابطوں کے تحت رہنما خطوط بنائے ہیں تو کیوں نہ سبھی چینلوں کو اسے اپنانے کا پابند بنایا جائے ۔خبروں کو نشر کرنے کے لئےبنائی جانے والی گائیڈ لائن کو حکومت سبھی پر نافذ کرے تاکہ کوئی اپنے نوکیلے دانت کا استعمال نہ کر سکے ۔ اس ضمن میں عدالت حکومت سے اس کی درخواست نہیں کررہی ہےبلکہ خبروں کو نشر کرنے اور مضامین کا انتخاب کرنے کے سلسلے میں پہلے سے طے شدہ گائیڈ لائن کو لاگو کرنے اور ہر ایک پر اسے نفاذ نہ کرنے سے متعلق جواب طلب کررہی ہے۔‘‘
 عدالت نےاین بی ایس اے کے وکلا ءاروند دتار اور نیلا گوکھلے کی جانب سے چینلوں کے خلاف ملنے والی بے شمار شکایات پر کی جانے والی کارروائی سے متعلق فراہم کردہ تفصیلات کے بعد حکومت سے مذکورہ بالا سوالات کئے تھے ۔این بی ایس اے کے وکلاء نے کورٹ کو بتایا کہ ’’ کئی نیوز چینلوں کے خلاف گمراہ کن ، جھوٹ پر مبنی اور تضحیک آمیز خبریں نشر کرنے کی شکایت اور خبروں کو نشر کرنے سے متعلق طے شدہ گائیڈ لائن کی خلاف ورزی کرنےکے بعدادارے نے ان کے خلا ف کارروائی کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ انہوںنےیہ بھی بتایا کہ اکثر چینلوں نے نہ صرف اس سلسلہ میں معافی مانگی تھی بلکہ ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کیا تھا لیکن ری پبلک ٹی وی نے نہ تو معافی مانگی اور نہ ہی جرمانہ ادا کیا تھا ۔‘‘ وکلا ء نےیہ بھی بتایا کہ اس کے بعد ری پبلک ٹی وی نہ صرف نیشنل براڈکاسٹرس اسوسی ایشن(این بی اے) سے علاحدہ ہوگیا بلکہ اس نے نیشنل براڈ کاسٹر فیڈریشن کے نام سے اپنی ذاتی اسوسی ایشن بنا لی ۔
 عدالت نے وکلاء سے پوچھا کہ ’’ اگر کوئی ذاتی گائیڈ لائن بنا لیتا ہے اور طے شدہ گائیڈ لائن پر عمل کرنے سے انکار کرتا ہے تو ایسی صورت میں اس کے خلاف کیا کیا جانا چاہئے ۔اس پر ادارے کے وکیل نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’ جو ڈاکٹرس پی جی کورس رعایتی رقم خرچ کرکے کرتے ہیں، انہیں قبائلی علاقوں میں بھیج دیا جاتا ہے اور اگر وہ وہاں ٹھیک طرح سے خدمات انجام نہیں دیتے تو انہیں سرٹیفکیٹ بھی نہیں دیا جاتا ہے اور جرمانہ الگ سے عائد کیا جاتا ہے ۔‘‘ 
 اس پر عدالت نے کہا کہ خبریں نشر کرنے کے لئے طے شدہ گائیڈ لائن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا جانا چاہئے تو وکیل نے کہا کہ اس سلسلہ میں منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ ( آئی اینڈ بی ) کو اختیار ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرے ۔وکیل نے یہ بھی کہاکہ کورٹ ۸؍ آئی پی ایس افسران اور دیگرکی داخل کردہ عرضداشتوں پر سماعت کررہی ہے جنہوںنے کئی چینلوں کے خلاف سشانت سنگھ معاملہ میں چلائی جانے والی خبروںپر سخت اعتراض کیا ہے ۔ وہیں عدالت نے وقت کی قلت کے سبب درمیان میں سماعت کو روکتے ہوئے اس پر بدھ کو دوبارہ سماعت کرنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK