Inquilab Logo Happiest Places to Work

دونوں گردے۹۰؍ فیصد خراب مگر تراویح کا معمول برقرار

Updated: March 14, 2026, 11:57 PM IST | Mumbai

گوا کی جامع مسجد بلال کے خطیب وامام حافظ مولانا محمد عرفان قاسمی ۳۲؍برس سے تراویح پڑھا رہے ہیں اورگزشتہ ۲۰؍ سال سے گردوں کے عارضے میں مبتلا ہیں، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ڈائیلیسس یا گردے تبدیل کرانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں

Maulana Irfan Qasmi says that the ability to perform Taraweeh even in severe illness is due to the blessings of the Quran.
مولانا عرفان قاسمی کاکہنا ہےکہ شدیدمرض میںبھی تراویح پڑھنے کی توفیق قرآن کی برکت سے ہے

مڈگاؤں (گوا) کے علاقہ چانڈی کی جامع مسجد کے خطیب و امام مولانا عرفان قاسمی کے دونوں گردے۲۰؍ برس سے ۹۰؍ فیصد خراب ہیں مگر حیرت انگیز طور پر آج تک کبھی تراویح پڑھانے کا ناغہ نہیں ہوا۔ وہ۳۲؍ برس سے تراویح پڑھارہے ہیں ۔ ڈاکٹروں نے مرض کو لاعلاج قرار دے دیا اوربتایا کہ ڈائیلیسس یا گردے تبدیل کرانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے مگر قرآن کی برکت سے تراویح کا معمول برقرار ہے۔ جامع مسجد بلال میں ۱۸؍ سال سے امامت کررہے ہیں،بعد نماز تراویح پڑھے گئے پاروں کی تلخیص بھی پیش کرتے ہیں جبکہ پورے سال تفسیر بیان کرنے کا معمول علاحدہ ہے ۔ وہ ضلع مڈگاؤں جمعیۃ کے صدر بھی ہیں ۔
  گوا منتقل ہونےسے قبل اپنے آبائی وطن نام نگر دھونسی (بہار)، پٹھان کبئی دربھنگہ ، دہلی اور ممبئی میں پڑھایا ۔ ۱۲؍ سال کی عمر میں ۱۹۹۲ء میں مدرسہ مظہر العلوم ابراہیم پور اعظم گڑھ میں محض ایک سال میں حافظ نوشاد احمد کے پاس حفظ مکمل کیا۔مئی ۱۹۹۱ءمیں شروع کیا اوربابری مسجد کی شہادت کے سانحے کے وقت دسمبر ۱۹۹۲ء میں ختم ہوا۔اس مدرسے میں حفظ کرنے والے یہ پہلے طالب علم تھے۔
  اس سے قبل مولانا عرفان کےبڑے بھائی مولانا رضوان قاسمی جو اُس وقت منبع العلوم خیرآباد میں عربی چہارم میں تھے، نے قاضی اطہر مبارک پوری کے قائم کردہ ادارہ مدرسہ حجازیہ میں انہیںبھیجا ۔ وہاں کشن گنج کے ایک استاد حافظ شمیم صاحب شعبہ حفظ میں پڑھا رہے تھے، انہوں نے بھی سفارش کی مگر قاضی صاحب نےکمسنی کے سبب داخلہ نہیں لیا اور فرمایا کہ’’ کیا اسے دودھ پلائیں گے۔‘‘ مدرسہ حجازیہ میں ۱۲؍سال کے کم عمر کے طالب علم کا داخلہ نہیں ہوتا تھا۔
 مولانا عرفان قاسمی نے حفظ کے بعد عالمیت کی اور ۲۰۰۱ء میں دارالعلوم (وقف ) دیوبند (وقف) فراغت حاصل کی۔گردے کے عارضے کے تعلق سے انہوں نے بتایا کہ دارالعلوم میں دورۂ حدیث کے دوران ہی کمر کے نیچے کولہے میں شدید درد شروع ہوگیا ۔ دیوبند میں ڈاکٹر انج گوئل کو دکھایا مگر افاقہ نہیں ہوا اور تکلیف بڑھتی گئی۔اسی اثناء میں شعبان میں سالانہ امتحان آگیا، اس دوران بینائی بھی متاثر ہوگئی مگر کسی طرح امتحان دینے کے بعد ممبئی اپنے بڑے بھائی کے پاس آگئے تو وہ ناراض ہوئے کہ گھر گئے ہوتے تو تراویح پڑھالیتے۔ اتفاق سے اسی سال جامعہ عربیہ منہاج السنہ (مالونی ) میں ۶؍ روزہ تراویح کا آغاز ہوا ۔ انہوں نے حافظ ہدایت اللہ کے ساتھ ۶؍ روزہ تراویح پڑھائی۔ چونکہ مرض کی شدت برقرار تھی ،اس لئے اس دوران ممبئی میں الگ الگ ڈاکٹروں کے علاوہ نائر، سیفی اور دیگر اسپتالوں کے ماہر ڈاکٹروں نیز ہومیوپیتھی کی ڈاکٹر کسم اگروال سے بھی علاج کرایا۔ 
 علاج جاری رہا اور ڈاکٹروں کی تشخیص الگ الگ رہی لیکن کوئی حتمی نتیجہ نہ نکلا۔ درد کی دوائیںاور اینٹی بایوٹک مسلسل جاری رہیں جس کے نتیجے میں ۲۰۰۷ء میں دونوں گردوں پر بہت برا اثر ہوا اور دونوں کڈنی  ۹۰؍ فیصد خراب ہوگئی۔ صورتحال یہ ہے کہ سیرم کیریٹین آج بھی ان کا ۱۲؍ ۱۳؍ رہتا ہے اور سوکر اٹھنے میں جسم کا نظام معمول پر آنے میں ۱۰؍ منٹ سے زائد وقت لگ جاتا ہے۔ ڈاکٹر آج بھی ڈائیلیسس یا گردہ بدلوانے کا ہی مشورہ دے رہے ہیں مگر الحمدللہ، قرآن پاک کا معجزہ ہے کہ ڈائیلیسس نہ کرانے کے باوجود تراویح پڑھانے کا عمل جاری ہے۔
  ۲۰۱۳ء سےپٹنہ کے ڈاکٹر یوایس رائے کا علاج جاری ہے۔اس دفعہ بھی رمضان سے قبل مصلیان اور ڈاکٹر منع کرتے رہے لیکن سلسلہ تراویح جاری ہے اور ایک اور حافظ کے ساتھ ۱۰؍رکعت پڑھا رہے ہیں۔ 
 نمائندۂ انقلاب کے اس سوال پر کہ جب اس قدر معذوری ہے اورصحت کا سنگین مسئلہ ہے تو تراویح کیوں پڑھاتے ہیں، اس پر انہوں نے کہاکہ ’’ قرآن کریم پڑھانا اس لئے ترک نہیں کررہے ہیں کہ شاید اسی کی برکت سے اللہ نے میرے لئے عافیت کا فیصلہ کیا ہے اور اس شدید مرض میں بھی باری تعالیٰ کا اپنا مقدس کلام  پڑھوا لینا اعجاز قرآن کے سوا کچھ نہیں ہے،یہ کھلا معجزۂ قرآن ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK