ہندوستانی تیز گیند باز محمد سراج نے کہا ہے کہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل تقریباً دو ماہ کے غیر معمولی وقفے نے ان کے رن اپ کا تسلسل متاثر کردیا تھا، جس کے باعث گالے اور کولمبو میں ان کی گیند بازی کی رفتار میں نمایاں کمی آئی۔
EPAPER
Updated: September 11, 2026, 5:01 PM IST | Mumbai
ہندوستانی تیز گیند باز محمد سراج نے کہا ہے کہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل تقریباً دو ماہ کے غیر معمولی وقفے نے ان کے رن اپ کا تسلسل متاثر کردیا تھا، جس کے باعث گالے اور کولمبو میں ان کی گیند بازی کی رفتار میں نمایاں کمی آئی۔
ہندوستانی تیز گیند باز محمد سراج نے کہا ہے کہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل تقریباً دو ماہ کے غیر معمولی وقفے نے ان کے رن اپ کا تسلسل متاثر کردیا تھا، جس کے باعث گالے اور کولمبو میں ان کی گیند بازی کی رفتار میں نمایاں کمی آئی۔دلیپ ٹرافی کے فائنل کی پہلی اننگز میں بھی سراج کی رفتار ۱۲۵؍ سے ۱۳۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان رہی، تاہم دوسری اننگز میں انہوں نے اپنی گیند بازی کی روانی دوبارہ حاصل کی اور تقریباً ۱۳۵؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی کرتے ہوئے چپوک کی نسبتاً بے جان پچ سے بھی گیند کو حرکت دلائی اور ہوا میں بھی سوئنگ حاصل کی۔
سراج نے جمعرات کو چیپاک میں دلیپ ٹرافی فائنل کے بعد کہا کہ میں بنیادی طور پر تسلسل کے ساتھ گیند بازی کرنے والا گیند باز ہوں۔ اگر میرا تسلسل درست نہ ہو تو میں کریز سے پوری طاقت کے ساتھ نہیں نکل سکتا۔ سری لنکا میں یہی مسئلہ تھا، میرا رن اپ مربوط محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ کچھ قدم بہت چھوٹے اور کچھ بہت لمبے ہو رہے تھے، جس سے میری روانی ٹوٹ گئی اور رفتار بھی متاثر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ہر گیند باز کا جسم مختلف ہوتا ہے، لیکن میرا جسم طویل وقفے کو اچھی طرح قبول نہیں کرتا۔ مختصر وقفہ ٹھیک ہے، لیکن اپنے دس سالہ کریئر میں میں نے کبھی مسلسل دو ماہ کا وقفہ نہیں لیا تھا۔ میں جم میں ورزش کر رہا تھا اور کبھی کبھار گیند بازی بھی کرتا تھا، لیکن کوئی بھی مشق میچ کی شدت کی جگہ نہیں لے سکتی۔ یہ میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا، لیکن مستقبل کے لیے ایک اہم سیکھنے کا موقع بھی ہے۔ دلیپ ٹرافی فائنل میں ایسٹ زون کے پہلے بلے بازی کا فیصلہ کرنے کے بعد سراج کی پہلی ہی گیند ابھیمنیو ایشورن کے بلے کے بیرونی کنارے کے قریب سے تیزی سے گزری، لیکن پچ کے ہموار ہونے کے بعد وہ مشکلات کا شکار ہوگئے۔ انہوں نے ۲۵؍ اوور میں ۱۴۰؍ رن دیے اور ان کا اکنامی ریٹ ۵ء۵؍ سے زیادہ رہا۔ سراج نے کہا کہ سری لنکا اور چنئی کی شدید گرمی میں کھیلنے کا جسمانی دباؤ بھی ان کے لیے مشکل رہا۔
یہ بھی پڑھئے:’’میں بطور ایتھلیٹ ختم ہو چکی ہوں‘‘، ونیش پھوگاٹ
سراج نے کہاکہ ہم سری لنکا سے براہ راست آئے تھے، جہاں دوسرے ٹیسٹ میں ہم نے ساڑھے تین دن فیلڈنگ کی، اور ایک ہفتے کے اندر ہم چنئی کی شدید گرمی میں کھیل رہے تھے۔ لیکن میرے لیے معاملہ جذبے کا ہے۔ جب آپ ملک کی نمائندگی کر رہے ہوں تو بہانے نہیں بنا سکتے۔ آپ کو اپنی ٹیم اور ملک کے لیے اپنی پوری کوشش کرنی ہوتی ہے۔ آج اگر مجھے اس محنت کے بدلے وکٹیں نہیں ملیں تو بھی یہ محنت بین الاقوامی سطح پر ضرور رنگ لائے گی۔
دوسری اننگز میں سراج نے کہیں زیادہ بہتر کنٹرول اور رفتار کے ساتھ گیند بازی کی، حالانکہ چیپاک کی پچ پر کسی بھی طرح کی گیند بازی کے لیے زیادہ مدد موجود نہیں تھی۔ ابھیمنیو ایشورن کے بلے کے اندرونی کنارے کو نشانہ بنانے کے بعد سراج نے ایک بہترین لینتھ کی گیند کرائی، جو بنگال کے اوپنر کے بلے کے بیرونی کنارے کو چھوتی ہوئی وکٹ کیپر کے پاس گئی۔
سراج نے راؤنڈ دی وکٹ سے ایشان کشن کے بیرونی کنارے کو بھی مسلسل نشانہ بنایا اور اپنی ابتدائی اسپیل میں۶؍ اوور، ۲؍ میڈن، ۹؍ رن اور ایک وکٹ حاصل کی۔سراج نے کہاکہ پہلی اننگز میں پچ تازہ نظر آ رہی تھی، اس لیے میں نے بہت زیادہ رفتار سے گیند کرنے کی کوشش کی چونکہ میں زبردستی رفتار پیدا کر رہا تھا، اس لیے میرا تسلسل متاثر ہوا۔ دوسری اننگز میں میں نے خود سے کہا کہ نتیجے کو بھول جاؤ اور اچھے، قدرتی تسلسل کے ساتھ دوڑ کر آؤ۔ جیسے ہی میں نے ایسا کیا، پرانا سراج واپس آگیا اور گیند خوبصورتی سے ہاتھ سے نکلنے لگی۔
یہ بھی پڑھئے:’’شک: ٹرسٹ نو ون‘‘ کا ٹریلر جاری، پرینیتی چوپڑا کا او ٹی ٹی پرداخلہ
دلیپ ٹرافی فائنل میں دونوں ٹیموں کے سب سے نمایاں گیند باز محمد سمیع بھی دوسری اننگز میں سراج کی نئی گیند سے کی جانے والی گیند بازی سے متاثر ہوئے۔ سمیع نے کہاکہ ’’جب بھی میں ان کھلاڑیوں سے بات کرتا ہوں جن کے ساتھ میں کھیل چکا ہوں یا جن سے میرا اچھا تعلق ہے، تو میری توجہ ان کی مہارت پر ہوتی ہے۔ پہلی اننگز میں سراج اپنا قدرتی تسلسل حاصل نہیں کر پا رہے تھے جبکہ بعد میں انہوں نے بہت بہتر گیند بازی کی۔ میں نے انہیں صرف یاد دلایا کہ دوبارہ اپنی بہترین سطح پر پہنچنے کے لیے انہیں اپنی بنیادی طاقتوں کی طرف واپس آنا ہوگا۔ جب رن اپ اور گیند بازی میں تسلسل قائم ہو تو لائن اور لینتھ خود بخود درست ہوجاتی ہے۔ ہماری بات چیت کا موضوع صرف یہی تھا۔ سراج نے دوسری اننگز میں ۱۶؍ اوور میں ۴۷؍ رن دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔ اس کے بعد کپتانوں نے میچ ختم کرنے کے لیے ہاتھ ملا لیے اور پہلی اننگز کی برتری کی بنیاد پر ایسٹ زون نے ساؤتھ زون کو شکست دے کر دلیپ ٹرافی کا خطاب جیت لیا۔سراج نے کہاکہ دو ماہ کے وقفے کے بعد جسم اسی طرح ردعمل نہیں دیتا، ہر چیز کچھ سست محسوس ہوتی ہے۔ اس میچ کو مکمل کرنے سے میرے جسم میں دوبارہ حرکت آئی اور میری روانی بھی پوری طرح واپس آگئی۔