• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میں بطور ایتھلیٹ ختم ہو چکی ہوں‘‘، ونیش پھوگاٹ

Updated: September 11, 2026, 4:05 PM IST | New Delhi

اولمپک پہلوان ونیش پھوگاٹ اور ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا(ڈبلیو ایف آئی ) کے درمیان سلیکشن ٹرائلز کو لے کر تنازع اب عدالت تک پہنچ گیا ہے۔ ونیش پھوگاٹ نے فیڈریشن کے سلیکشن سے متعلق فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس فیصلے کے ان کے کھیل کے مستقبل پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Vinesh Phogat. Picture: INN
ونیش پھوگاٹ۔ تصویر: آئی این این

اولمپک پہلوان ونیش پھوگاٹ  اور ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا(ڈبلیو ایف آئی ) کے درمیان سلیکشن ٹرائلز کو لے کر تنازع اب عدالت تک پہنچ گیا ہے۔ ونیش پھوگاٹ نے فیڈریشن کے سلیکشن سے متعلق فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس فیصلے کے ان کے کھیل کے مستقبل پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سماعت کے دوران ونیش نے صورتحال کو اپنے کریئر کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا’’یہ موت کی گھنٹی ہے، میں بطور ایتھلیٹ ختم ہو چکی ہوں۔‘‘ 
تنازع کا بنیادی مرکزڈبلیو ایف آئی کی جانب سے مقابلوں کے لیے کھلاڑیوں کے انتخاب کا طریقہ کار اور سلیکشن ٹرائلز سے متعلق فیصلہ ہے۔ ونیش کا دعویٰ ہے کہ فیڈریشن کا موجودہ طریقہ کار ان جیسے کھلاڑیوں کے لیے منصفانہ نہیں اور اس سے ان کے آئندہ بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔ معاملہ عدالت کے سامنے اس لیے اہم بن گیا ہے کہ اس فیصلے کے قانونی جواز اور سلیکشن کے عمل کی شفافیت پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’بی بی ایل میں اب بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کو زیادہ فائدہ مل رہا ہے‘‘

سماعت کے دوران ونیش پھوگاٹ نے اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے الفاظ میں موجود مایوسی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ سلیکشن سے متعلق فیصلے کو اپنے کھیل کے کیریئر کے لیے انتہائی اہم سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال ان کے لیے محض ایک سلیکشن کا معاملہ نہیں بلکہ بطور ایتھلیٹ ان کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ 
دوسری جانب ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا نے سلیکشن کے عمل کا دفاع کیا ہے۔ معاملہ اب عدالت کے سامنے ہے، جہاں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ فیڈریشن کی جانب سے اختیار کیے گئے سلیکشن معیار اور ٹرائلز کا فیصلہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہے یا نہیں۔ عدالت میں ہونے والی یہ قانونی کشمکش بھارتی ریسلنگ انتظامیہ میں سلیکشن کے طریقہ کار اور کھلاڑیوں کے حقوق سے متعلق ایک وسیع تر بحث کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: چمپئن لیگ کا شاندار آغاز، پی ایس جی، لیور پول اور آرسنل کی فتح


ونیش پھوگاٹ گزشتہ برسوں میں بھارتی ریسلنگ کی نمایاں ترین کھلاڑیوں میں شامل رہی ہیں۔ ایسے میں سلیکشن ٹرائلز سے متعلق ان کا ڈبلیو ایف آئی  کے خلاف عدالت سے رجوع کرنا ہندوستانی کھیلوں کی انتظامیہ کے لیے بھی اہم معاملہ بن گیا ہے۔ عدالت کا فیصلہ اس بات پر اثر انداز ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ایسے سلیکشن تنازعات کو کس طرح دیکھا جائے گا۔
فی الحال معاملہ عدالت میں زیرِ غور ہے اور اس تنازع کا اگلا مرحلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ ونیش پھوگاٹ کے سلیکشن سے متعلق اعتراضات کو کس حد تک تسلیم کیا جاتا ہے۔ تاہم ان کا یہ کہنا کہ ’’میں بطور ایتھلیٹ ختم ہو چکی ہوں‘‘ اس تنازع کی سنگینی اور ان کے لیے اس معاملے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK