Inquilab Logo Happiest Places to Work

برازیل، اسپین کا اسرائیل سے صمود فلوٹیلا کے دو کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ

Updated: May 06, 2026, 7:04 PM IST | Rio

برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے اسرائیل کی حراست میں موجود دو غیر ملکی کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ عدالت نے ان کی نظربندی میں مزید توسیع کر دی ہے۔

Brazilian President Lula da Silva. Photo: INN
برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا۔ تصویر: آئی این این

برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے منگل کو مطالبہ کیا کہ برازیل کے شہری تھیاغو اویلا اور ہسپانوی شہری سیف ابو کیشک کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ یہ دونوں گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکن ہیں جنہیں اسرائیل نے بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا کو قبضے میں لینے کے بعد غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا ہوا ہے۔ ایک وکیل کے مطابق، ایک اسرائیلی عدالت نے منگل کو ان دونوں غیر ملکی کارکنوں کی حراست میں چھ دن کی توسیع کر دی۔ ان کے نمائندوں نے اسرائیلی حکام پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان دونوں افراد کے ساتھ ’نفسیاتی تشدد‘ کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ بدسلوکی کر رہے ہیں، جبکہ یہ دونوں گزشتہ چھ دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: دوسرے روز بھی ایرانی میزائلیں اور ڈرونز سے حملے جاری ہیں: یو اے ای کا دعویٰ

انہیں گزشتہ ہفتے اسرائیل لانے کے بعد جنوبی شہر اشکلون میں ایک عدالت کے سامنے دوسری بار پیش کیا گیا۔ لولا نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا’’ہماری حکومت، اسپین کی حکومت کے ساتھ مل کر، جس کا ایک شہری بھی حراست میں ہے، مطالبہ کرتی ہے کہ ان کی مکمل حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فلوٹیلا کے دوکارکنان کی حراست میں مزید توسیع

بتا دیں کہ اس واقعے کا پس منظرگلوبل صمود فلوٹیلا کی اس مہم سے جڑا ہے جس کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی کو چیلنج کرنا اور وہاں انسانی امداد پہنچانا تھا۔ یہ فلوٹیلا مختلف ممالک کے کارکنوں پر مشتمل تھی جو بین الاقوامی پانیوں کے ذریعے غزہ کی طرف جا رہے تھے، تاہم، اسرائیل نے اسے اپنی سیکوریٹی پالیسی اور بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے راستے میں روک لیا اور کشتی کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس کے بعد غیر ملکی کارکنوں کو حراست میں لے کر اسرائیل منتقل کیا گیا، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور کئی ممالک نے تنقید کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK