Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: روبیو کا ’’ ایپک فیوری ‘‘ ختم ہونے کا اعلان، قانون ساز کا انٹیلی جنس بریفنگ کا مطالبہ

Updated: May 06, 2026, 7:20 PM IST | Washington

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ’’آپریشن فیوری‘‘ ختم ہونے کا اعلان کیا،جبکہ امریکی قانون ساز راجہ کرشنا مورتھی نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ کیا ایران جنگ واقعی ختم ہوگئی ہے؟ساتھ ہی انہوں نے انٹیلی جنس بریفنگ کا مطالبہ کیا۔

US Secretary of State Marco Rubio. Photo: X
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو۔ تصویر: ایکس

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف شروع کیا گیا’’ آپریشن ایپک فیوری‘‘ ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس کے بنیادی مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں اور امریکہ دوبارہ لڑائی شروع کرنے یا صورت حال کو مزید بڑھانے کا خواہاں نہیں ہے۔منگل کو وہائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران روبیو نے صحافیوں کو بتایا۔روبیو نے کہا کہ آپریشن کے دوران امریکہ نے ایران کی مختصر فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک میزائلوں، لانچروں، فیکٹریوں اور بحریہ کو تباہ کر دیا تاکہ’’ ایران مزید ایسی ڈھال نہ بنا سکے جس کے پیچھے وہ اپنے جوہری پروگرام کو چھپا سکے۔‘‘انہوں نے اسے ایک بہت بڑا کارنامہ قرار یتے ہوئے مزید کشیدگی سے بچنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ساتھ ہی روبیو نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری جہاز رانی   کیلئے پروجیٹ فریڈم کے آغاز کا اشارہ دیا۔یہ بریفنگ اس وقت ہوئی جب حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا، لیکن روبیو نے زور دیا کہ جنگ بندی برقرار ہے اور ایپک فیوری کا فوجی مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔روبیو نے ایران کو ہرمز کی ناکہ بندی پر خبردار کیا اور کہا،’’آبنائے ہرمز ایران کی ملکیت نہیں ہے۔ انہیں اسے بند کرنے، جہاز اڑانے یا بارودی سرنگیں بچھانے کا حق نہیں ہے۔ اور انہوں نے یہی کیا ہے۔ اس کا تدارک ضروری ہے، اسے معمول نہیں بنایا جا سکتا۔‘‘جبکہ ایرانی حکومت نے روبیو کے بیانات پر فوری ردعمل جاری نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم عارضی طور پر روکنے کا اعلان

دوسری جانب امریکی نمائندہ ایوان راجا کرشنامورتی نے منگل کو قومی انٹیلیجنس ڈائریکٹر (DNI) تلسی گیبارڈ سے جوابات طلب کیے، اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر الزام لگایا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ جاری امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود جنگ کی حیثیت کے بارے میں غلط معلومات دی ہیں۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے جمعہ کو کانگریس کو مطلع کیا کہ ایران کے ساتھ تنازع اپریل کے اوائل سے جاری جنگ بندی کے بعد ختم ہو گیا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ اور موثر رہے گی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا ایران سے تعلق رکھنے والی نجی کشتی پر حملہ، ۵؍ افراد جاں بحق

دریں اثناء کرشنامورتی نے مشورہ دیا کہ چونکہ انتظامیہ جنگ کو ختم شدہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ۱۹کے وار پاورز ریزولوشن کی تعمیل کا دعویٰ کیا جا سکے، جو کانگریسی اجازت کے بغیر۶۰؍ دنوں سے زائد امریکی فوجیوں کو جنگ میں شامل رہنے سے منع کرتا ہے۔تاہم انہوں نے۱۵ مئی تک ایک خفیہ بریفنگ کی درخواست کی جس میں جنگ کی حیثیت، جنگ بندی کی پائیداری، ناکہ بندی کے تحت ایران کی معاشی مضبوطی، اور اس بات کے اشاریوں کا جائزہ لیا جائے کہ آیا ایران مزید اقدامات کرے گا یا رعایتیں طلب کرے گا۔انہوں نے کہا، ’’امریکی عوام اور کانگریس کو واضح معلومات درکار ہیں کہ آیا موجودہ پالیسی مستحکم نتائج پیدا کر رہی ہے یا خطے میں صدر ٹرمپ کے متزلزل فیصلے امریکی عوام کے لیے مزید عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال پیدا کریں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK