Updated: May 06, 2026, 8:04 PM IST
| Washington
اسٹیٹ سیکریٹری مارکو روبیو کو بھیجے گئے ایک خط میں قانون سازوں نے کہا کہ امریکہ نے اسرائیل کی جوہری صلاحیتوں کے حوالے سے دہائیوں سے ”بامقصد ابہام“ برقرار رکھا ہوا ہے، جبکہ وہ روس، چین، ہندوستان، پاکستان اور شمالی کوریا سمیت دیگر ممالک کے اسلحہ خانوں کو کھلے عام تسلیم کرتا ہے۔
نیتنی یاہو اور ٹرمپ۔ صویر: ایکس
امریکی ایوانِ نمائندگان کے ۳۰ سے زائد ڈیموکریٹک قانون سازوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کا عوامی سطح پر اعتراف کرے۔ ان کا موقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان کانگریس کو اس تعلق سے مزید شفافیت کی ضرورت ہے۔
اسٹیٹ سیکریٹری مارکو روبیو کو بھیجے گئے ایک خط میں قانون سازوں نے کہا کہ امریکہ نے اسرائیل کی جوہری صلاحیتوں کے حوالے سے دہائیوں سے ”بامقصد ابہام“ برقرار رکھا ہوا ہے، جبکہ وہ روس، چین، ہندوستان، پاکستان اور شمالی کوریا سمیت دیگر ممالک کے اسلحہ خانوں کو کھلے عام تسلیم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم عارضی طور پر روکنے کا اعلان
اس مہم کی قیادت کرنے والے کانگریس مین جوکوین کاسترو نے زور دیا کہ قانون سازوں کو خطے کے جوہری توازن اور اسرائیل و ایران کے درمیان جاری تنازع کے دوران کشیدگی بڑھنے کے خطرات کے بارے میں مکمل معلومات کی ضرورت ہے۔ قانون سازوں نے اپنے خط میں لکھا کہ ”ہم، مکمل معنوں میں، ایسے ملک کے ساتھ شانہ بشانہ یہ جنگ لڑ رہے ہیں جس کے ممکنہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو امریکی حکومت باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔“
ڈیموکریٹس نے خبردار کیا کہ ”غلط حساب کتاب، کشیدگی میں اضافے اور جوہری استعمال“ کے خطرات سنگین ہیں۔ انہوں نے امریکی ہنگامی منصوبہ بندی پر وضاحت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا ڈیمونا میں اسرائیل کی جوہری تنصیب ہتھیاروں کی تیاری کیلئے پلوٹونیم جیسا ’فسائل میٹریل‘ تیار کرتی ہے۔
اسرائیلی جوہری اسلحہ خانے کے وجود کی تائید میں شواہد پیش کرتے ہوئے، قانون سازوں نے ۱۹۸۶ء میں ’نیگیو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر‘ کے سابق ٹیکنیشین موردوخائی وانونو کے انکشافات کا حوالہ دیا، جنہوں نے برطانوی میڈیا کو اس پروگرام کی تفصیلات فراہم کی تھیں۔ انہوں نے ۱۹۷۴ء کے ایک امریکی انٹیلی جنس جائزے کی طرف بھی اشارہ کیا جسے ۲۰۰۸ء میں پبلک کیا گیا تھا اور سابق امریکی نامزد وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے ماضی کے بیانات کا حوالہ دیا جن میں اسرائیل کی جوہری صلاحیت کا اعتراف کیا گیا تھا۔ قانون سازوں نے مارکو روبیو سے ۱۸ مئی تک جواب طلب کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حکام کا ’’یروشلم ڈے‘‘ پر مسجد اقصیٰ میں داخلے کا مطالبہ، کشیدگی بڑھنے کا خدشہ
واضح رہے کہ اسرائیل نے کبھی بھی باضابطہ طور پر جوہری ہتھیار رکھنے کی تصدیق نہیں کی لیکن وسیع پیمانے پر اسے مشرقِ وسطیٰ کی واحد جوہری مسلح ریاست تصور کیا جاتا ہے۔ صہیونی ریاست نے جوہری ہتھیاروں کی ممانعت کے معاہدے سے متعلق بین الاقوامی کوششوں کی مستقل مخالفت کی ہے اور اقوامِ متحدہ میں اس سے متعلقہ قراردادوں کے خلاف ووٹ دیا ہے۔