مشرق وسطیٰ پر ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں، متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ دوسرے روز بھی ایران کی جانب سے میزائلوں اور ڈرون سے حملے جاری ہیں۔
EPAPER
Updated: May 06, 2026, 2:16 PM IST | Tehran
مشرق وسطیٰ پر ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں، متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ دوسرے روز بھی ایران کی جانب سے میزائلوں اور ڈرون سے حملے جاری ہیں۔
مشرق وسطیٰ پر ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں، ایران نے متحدہ عرب امارات پر دوسرے روز بھی میزائلوں اور ڈرون سے حملے کیے ہیں۔ الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس پر لگاتار دوسرے دن بھی ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے گئے ہیں۔ تاہم ایران نے اس جارحیت میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی انقلابی گارڈ کور نے منگل کی رات کہا کہ ملکی افواج نے حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کے خلاف کوئی میزائل یا ڈرون کارروائی نہیں کی۔فارس نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا کہ اگر کوئی کارروائی کی گئی ہوتی تو ہم اسے واضح اور دوٹوک انداز میں اعلان کرتے۔ لہٰذا یو اے ای کی وزارتِ دفاع کی رپورٹ مکمل طور پر مسترد کی جاتی ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
دوسری طرف اماراتی وزارت دفاع نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام ایران سے آنے والے بیلسٹک، کروز میزائلوں اور ڈرونز سے نمٹ رہا ہے اور مختلف علاقوں میں دھماکے فضائی دفاعی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ جنگ کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں، کیوں کہ واشنگٹن نے پیرکوپروجیکٹ فریڈم کے نام سے ایک نئی مہم شروع کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی رہنمائی کرنا ہے، تاہم جسے عارضی طور پر ٹرمپ نے روک دیا ہے۔
پیر کے روز، واشنگٹن کی کارروائی شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد، ایرانی افواج نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے امریکی جنگی جہازوں پر بمباری کی ہے۔ امریکی مرکزی کمان نے کسی بھی جہاز کے نشانہ بننے کی تردید کی، تاہم اس بات کی تصدیق کی کہ ایران نے امریکی بحری اثاثوں اور امریکی پرچم بردار تجارتی جہازوں پر کروز میزائل داغے۔ امریکی افواج نے بتایا کہ انہوں نے ایران کی ۶؍ چھوٹی کشتیوں کے ساتھ ساتھ آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو بھی تباہ کر دیا۔ پیر کا حملہ تہران نے پیر کے روز متحدہ عرب امارات کی جانب ۱۵؍ میزائل داغے، جن میں زیادہ تر بیلسٹک تھے، جو تقریباً ۴؍ہفتے قبل ہونے والی امریکہ ایران جنگ بندی کے بعد پہلا واقعہ تھا۔
یہ بھی پڑھئے:امریکہ: محکمہ انصاف میں وکلاء کی بھرتی کا بحران، مقدمات میں تاخیر
اماراتی حکام کے مطابق تمام میزائل مار گرائے گئے، تاہم ایک ڈرون حملے میں فجیرہ میں آگ بھڑک اٹھی، جہاں ایک اہم تیل ٹرمینل واقع ہے۔ یہ تنصیب جنگ کے دوران انتہائی اہم رہی ہے، جو روزانہ تقریباً ۱۷؍ لاکھ بیرل تیل سنبھالتی ہے، جو ملک کی برآمداتی صلاحیت کا تقریباً نصف ہے، کیوں کہ یہ خلیجِ عمان کے راستے آبنائے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کی سہولت دیتی ہے۔ اس واقعہ میں تین ہندوستانی شہری زخمی ہوئے، جسے ہندوستانی کی حکومت نے ناقابلِ قبول قرار دیا۔حیرت انگیز طور پر بمباری کے تبادلے کے باوجود واشنگٹن نے کہا کہ ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کی۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے یہ کارروائی عارضی ہے اور امریکی افواج ایرانی پانیوں یا فضائی حدود میں داخل نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا ہم لڑائی نہیں چاہتے۔
یہ بھی پڑھئے:کام کرنے کے طریقے پر سہی مانجریکر نے کہا:ٹرینڈ نہیں بلکہ مضبوط کہانیوں پر میری توجہ
دوسری طرف ترجمان پاسدارن انقلاب کا کہنا تھا کہ فجیرہ میں تیل تنصیبات پر حملے کا طے شدہ منصوبہ نہیں تھا، جو کچھ ہوا وہ امریکی فوجی مہم جوئی کا نتیجہ تھا۔ ابراہیم ذوالفقاری نے ایکس پر لکھا متحدہ عرب امارات کے خلاف کارروائی جوابی ردعمل تھا، مزید حملے ہوئے تو ایران اہم اماراتی تنصیبات پر بمباری سے دریغ نہیں کرے گا۔خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان ابرایم ذوالفقاری نے دعویٰ کیا کہ ایران کی مسلح افواج نے یو اے ای پر کوئی میزائل یا ڈرون حملہ نہیں کیا۔ یو اے ای سے ایران کے خلاف کوئی اقدام کیا گیا تو اس کا عبرت ناک جواب دیا جائے گا۔