ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام مقامی انتخابی حکام سے انتخابات سے متعلق اظہارِ رائے کی آزادی کے امور پر بات چیت کرنا چاہتے تھے۔
EPAPER
Updated: July 26, 2026, 3:03 PM IST | New Delhi
ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام مقامی انتخابی حکام سے انتخابات سے متعلق اظہارِ رائے کی آزادی کے امور پر بات چیت کرنا چاہتے تھے۔
برازیل نے دو امریکی حکام کو ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا، جو صدارتی انتخابات سے تین ماہ سے بھی کم عرصہ قبل برازیل کے انتخابی حکام سے ملاقات کے خواہاں تھے۔ اس بات کی تصدیق ایک سفارتی ذریعے نے اے ایف پی نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔
یہ بھی پڑھئے:راون صرف ایک ویلن نہیں بلکہ نہایت پیچیدہ کردار ہے: یش
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے برازیلی ذریعے نے بتایا کہ اس فیصلے کے پیچھےسیاسی مقاصد کے لیے ممکنہ استعمال کے خطرے کا خدشہ تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برازیل کے دائیں بازو کے صدارتی امیدوار فلاویو بولسونارو نے اس ہفتے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ملک کا الیکٹرانک ووٹنگ نظام محفوظ نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق، امریکی حکام کی جانب سے ویزے کی درخواست ۲۰؍جولائی کو جمع کرائی گئی تھی۔ دونوں حکام مقامی انتخابی حکام سے انتخابات سے متعلق اظہارِ رائے کی آزادی کے معاملات پر تبادلہ خیال کرنا چاہتے تھے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ بات خاص طور پر توجہ کا مرکز بنی کہ ویزے کی درخواست اسی روز دی گئی، جس دن فلاویو بولسونارو نے غیر ملکی سفارت کاروں کے ساتھ ایک نجی ملاقات کی، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر برازیل کے الیکٹرانک ووٹنگ نظام کی قابلِ اعتماد ہونے پر سوالات اٹھائے۔
یہ بھی پڑھئے:سری کانت نے محمد سمیع کو نظر انداز کرنے پر حیرانی کا اظہار کیا
فلاویو بولسونارو کے والد اور برازیل کے سابق صدر جائیر بولسونارو کو ۲۰۲۳ء میں انتخابی حکام نے عوامی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے سے نااہل قرار دیا تھا، کیونکہ انہوں نے ایک سال قبل، جب وہ صدر تھے، انتخابی نظام کے بارے میں اسی نوعیت کے دعوے کیے تھے۔ بعد ازاں انہیں ۲۰۲۲ء کے صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد اقتدار پر قبضے کی سازش کرنے کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا، اور وہ اس وقت ۲۷؍ سال قید کی سزا کے تحت گھر میں نظر بند ہیں۔