• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپلائی سے متعلق خدشات کے درمیان برینٹ خام تیل پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر

Updated: October 20, 2026, 10:04 PM IST | New York

آبنائے ہرمز میں ایران کے مزید حملوں کے خدشات کا جائزہ لینے کے دوران منگل کو تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہیں، حالانکہ خلیج فارس سے خام تیل کی سپلائی نسبتاً مضبوط رہی۔

Crude Oil.Photo:INN
خام تیل۔ تصویر:آئی این این

آبنائے ہرمز میں ایران کے مزید حملوں کے خدشات کا جائزہ لینے کے دوران منگل کو تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب رہیں، حالانکہ خلیج فارس سے خام تیل کی سپلائی نسبتاً مضبوط رہی۔ بین الاقوامی معیار برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے یورپی بازاروں کے کھلنے سے قبل تقریباً ۱۱۰؍ڈالر فی بیرل پر کیے جا رہے تھے، جبکہ امریکی معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی اگلے ماہ ترسیل کے لیے قیمت ۱۰۴؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی۔

یہ بھی پڑھئے:ٹائیگر شروف نہیں، پہلے کسی اور بالی ووڈ شخصیت کو نشانہ بنانے کی تھی منصوبہ بندی

آئی این جی کے کموڈیٹی حکمت عملی کے ماہرین نے کہا کہ خام تیل کی سپلائی بحال ہونے کے باوجود قیمتوں کا بلند رہنا ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں مسلسل غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر خطرات کے باعث قیمتوں میں اضافی پریمیم شامل کیا جا رہا ہے۔ ماہرین نے کہاکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورت حال میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر مارکیٹ خطرات کا نمایاں پریمیم قیمتوں میں شامل کر رہی ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال ایسے بہت کم اشارے ہیں جن سے لگے کہ یہ اضافی پریمیم کم ہوگا۔
ٹینکروں کے کرایوں میں ریکارڈ اضافے سے بھی ترسیل کی لاگت بڑھ رہی ہے۔ امریکہ پابندیوں کی زد میں آنے والے ٹینکروں کو فروخت کرکے دوبارہ جائز تجارتی منڈی میں لانے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے۔ اس سے جہاز رانی کی گنجائش بڑھنے اور نقل و حمل کے اخراجات کم ہونے کا امکان ہے۔ تاہم، آئی این جی کے مطابق اضافی گنجائش کتنی ہوگی اور اس سے قیمتوں میں کمی کتنی جلد ممکن ہوگی، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ خلیج سے خام تیل کی سپلائی جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً ۸۰؍ فیصد تک بحال ہوگئی ہے۔ تاہم، صاف شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بدستور زیادہ پابندیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ دریں اثنا، بلومبرگ نے تاجروں کے حوالے سے بتایا کہ ایشیائی اسپاٹ مارکیٹ میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قیمت پیر کو بڑھ کر  ۴ء۳۰؍ ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ ہوگئی، جو دسمبر  ۲۰۲۲ء کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اٹل کی سنچری، افغانستان نے زمبابوے کو ۱۵۸؍ رن سے شکست دی

یہ اضافہ توانائی کی ترسیل کے تحفظ سے متعلق نئے خدشات کے درمیان ہوا۔ برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز مرکز نے اطلاع دی تھی کہ ہفتے کے روز یمن کے ساحل کے قریب ایک چھوٹی کشتی سے ایل این جی لے جانے والے ٹینکر پر فائرنگ کی گئی۔ یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتیں بھی کئی برس کی بلند ترین سطح کے قریب رہیں۔ آئی سی ای کے اعداد و شمار کے مطابق، منگل کی صبح اگلے ماہ ترسیل کے لیے ڈچ ٹی ٹی ایف فیوچرز کی قیمت ۸۸؍ یورو فی میگاواٹ گھنٹہ سے کچھ کم رہی۔ اس سے قبل صبح چھ بجے سے کچھ پہلے یہ۸۹؍ یورو سے تجاوز کر گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK