Inquilab Logo Happiest Places to Work

۹۷؍ سالہ برطانوی خاتون نے اپناعالمی ریکارڈ توڑا، چھٹی بار طیارے کے پروں پر پرواز

Updated: August 08, 2026, 10:04 PM IST | London

۹۷؍ سالہ برطانوی خاتون بیٹی برومج نے دنیا کی معمر ترین خاتون وِنگ واکر کا اپنا ہی Guinness World Record دوبارہ توڑ دیا۔ برومج نے ۴؍ اگست ۲۰۲۶ء کو انگلینڈ کے سرینسیسٹر میں RFC Rendcomb Airfield سے اڑنے والے طیارے کے پر پر بندھی حالت میں اپنی چھٹی وِنگ واک مکمل کی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

۹۷؍ سالہ برطانوی خاتون بیٹی برومج نے عمر کی حدوں کو ایک بار پھر چیلنج کرتے ہوئے دنیا کی معمر ترین خاتون وِنگ واکر کا اپنا ہی عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔ انہوں نے ۴؍ اگست ۲۰۲۶ء کو انگلینڈ کے شہر سرینسیسٹر میں واقع RFC Rendcomb Airfield سے پرواز کرنے والے طیارے کے اوپر بندھی حالت میں وِنگ واک مکمل کی۔ یہ ان کی زندگی کی چھٹی وِنگ واک تھی۔ وِنگ واک ایک انتہائی خطرناک فضائی کرتب ہے جس میں فرد کو پرواز کرتے ہوئے طیارے کے پروں کے اوپر مخصوص حفاظتی انتظامات کے ذریعے باندھا جاتا ہے۔ برومج نے یہ کارنامہ ۹۷؍ سال ۱۲۷؍ دن کی عمر میں انجام دیا، جس کے بعد انہوں نے ۲۰۲۲ء میں ۹۳؍ سال کی عمر میں قائم کیا گیا اپنا سابقہ ریکارڈ خود ہی بہتر کرلیا۔ 

برومج نے وِنگ واکنگ کا آغاز نسبتاً زیادہ عمر میں کیا تھا۔ انہوں نے پہلی مرتبہ ۲۰۱۶ء میں ۸۷؍ سال کی عمر میں اس خطرناک مہم جوئی کا تجربہ کیا۔ اس کے بعد ۴؍ اگست ۲۰۲۲ء کو ۹۳؍ سال ۱۴۵؍ دن دن کی عمر میں وہ پہلی مرتبہ دنیا کی معمر ترین خاتون وِنگ واکر بنیں۔ چار سال بعد انہوں نے ایک مرتبہ پھر اسی ریکارڈ کو اپنے نام کرلیا۔ اس مرتبہ ان کی وِنگ واک کا مقصد صرف عالمی ریکارڈ قائم کرنا نہیں تھا۔ برومج نے اس مہم کے ذریعے Cheltenham General Hospital کے اسٹروک یونٹ کے لیے رقم جمع کی، جہاں انہیں گزشتہ سال فالج کے بعد علاج اور طبی نگہداشت فراہم کی گئی تھی۔ یوں انہوں نے اپنی صحت یابی میں مدد دینے والے طبی عملے کے لیے رقم جمع کرکے ان کا شکریہ ادا کرنے کی کوشش کی۔ 
برومج کا تازہ وِنگ واک تقریباً ۵؍ منٹ جاری رہا اور اس دوران وہ حفاظتی پٹیوں اور رسیوں کے ذریعے طیارے کے ساتھ محفوظ طریقے سے منسلک تھیں۔ پرواز کے دوران طیارے نے فضائی حرکات بھی انجام دیں۔ یہ کارنامہ فالج سے گزرنے کے تقریباً ایک سال بعد انجام دیا گیا۔ برومج نے اپنی عمر کے باوجود مہم جوئی کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور تازہ ریکارڈ کے بعد بھی نئے چیلنجز کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ نئی سرگرمیاں نہ کریں تو انہیں بوریت محسوس ہوگی۔ برومج کے لیے وِنگ واکنگ محض ایک عالمی ریکارڈ نہیں بلکہ زندگی کے ایک ایسے مرحلے میں سرگرم رہنے کا ذریعہ بھی ہے جس عمر میں عام طور پر لوگ جسمانی طور پر خطرناک سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں۔ 

ان کی حالیہ کوشش میں خیراتی پہلو بھی شامل رہا۔ اسٹروک کے بعد جس طبی ادارے نے ان کی دیکھ بھال کی، اسی کے اسٹروک یونٹ کے لیے رقم جمع کرکے انہوں نے اپنی صحت یابی کے تجربے کو ایک فلاحی مقصد سے جوڑ دیا۔ برومج کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ان کی عمر اور گزشتہ سال پیش آنے والے فالج کے باوجود انہوں نے ایک انتہائی جسمانی اور ذہنی حوصلے کی متقاضی سرگرمی دوبارہ انجام دی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK