• Sun, 11 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی ایس ایف نے ۱۴؍ بنگالی مسلمانوں کو جبراً ادیشہ سے بنگلہ دیش بھیج دیا: اہل خانہ کا الزام

Updated: January 10, 2026, 7:32 PM IST | Agartala

ادیشہ کے ۱۴؍ بنگالی مسلمانوں کو بی ایس ایف نے جبراً بنگلہ دیش بھیج دیا، متاثرین کا الزام ہے کہ مقامی پولیس نے ان کے گھروں کو تباہ کردیا اور تمام افراد کو حراست میں لے کربارڈر سیکورٹی فورس کے حوالے کردیا ، جس کے بعد انہیں سرحد پار دھکیل دیا گیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ادیشہ کے ۱۴ بنگالی مسلمانوں کو بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) نے بنگلہ دیشی شہریقرار دے کر بنگلہ دیش میں دھکیل دیا ہے، ان کے خاندان والوں سے مکتوب میڈیا نے بات کی، جن کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ۲۶؍ دسمبر۲۰۲۵ء کو مغربی بنگال کے نادیہ ضلع میں واقع گیڈے بارڈر پر پیش آیا، جہاں۱۴؍ افراد کو سرحد پار دھکیل دیا گیا۔شیخ جبار— جنہیں مبینہ طور پر بنگلہ دیش میں دھکیل دیا گیا کے خاندان والوں کا کہنا تھا کہ وہ ادیشہ میں تقریباً سات دہائیوں سے رہ رہے ہیں اور وہاں کے رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔تمام خاندانوں کے پاس درست شناختی دستاویزات ہیں۔ خاندان والوں نے مکتوب کو کئی آئی ڈی کارڈز دکھائے، جن میں آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی کارڈ، راشن کارڈ اور پرانے زمینی دستاویزات شامل ہیں۔خاندان والوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مقامی پولیس نے ان کے گھروں کو تباہ کیا اور تمام ۱۴؍افراد کو حراست میں لے کر بی ایس ایف کے حوالے کر دیا، جس کے بعد انہیں سرحد پار دھکیل دیا گیا۔
متاثرین میں چار بچے، پانچ خواتین اور پانچ مرد شامل ہیں۔ ان کی شناخت گلشن بی بی (۹۰؍)، شیخ جبار (۷۰؍)، اور ان کے چار بیٹوں شیخ حکیم (۴۵؍)، شیخ عقیل (۴۰؍)، شیخ راجا (۳۸؍)، اور شیخ بنتی (۲۸؍) کے طور پر ہوئی ہے۔ان متاثرین میں شیخ عقیل کی۱۱؍ سالہ بیٹی شکیلہ خاتون؛ شیخ راجا کے تین بچے۱۲؍ سالہ بیٹی نسرین پروین،۱۱؍ سالہ بیٹا شیخ توحید، اور دو سالہ بیٹا شیخ راشد؛ اور الکم بی بی (۶۵؍)، شمشیری بی بی (۴۰؍)، صابرہ بی بی (۳۵؍)، اور مہرون بی بی (۲۵؍) بھی شامل ہیں۔ یہ سب ادیشہ کے ضلع جگت سنگھ پور کے ارساما پولیس اسٹیشن کے تحت امبیکا گاؤں کے رہائشی ہیں اور ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔خان نے بتایا کہ’’ خاندان کو تقریباً ڈیڑھ ماہ پہلے ’’بنگلہ دیشی‘‘ ہونے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔تمام دستاویزات دکھانے کے باوجود پولیس نے ہماری بات نہیں سنی۔ بلکہ ہمیں دھمکیاں دی گئیں۔ ہمیں یہ بتایا ہی نہیں گیا کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے یا ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: یوپی: مسلم خاندانوں کو ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر گاؤں چھوڑنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد خوف و ہراس کا ماحول

خاندان والوں نے زور دے کر کہا کہ’’ وہ ہندوستانی شہری ہیں۔ انہیں صرف اس لیے حراست میں لیا گیا کہ وہ بنگالی بولتے ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ تک ہمیں ان کی جگہ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھی۔ جب ہم پولیس اسٹیشن گئے تو ہمیں لاک اپ میں ڈالنے کی دھمکی دی گئی۔ پولیس نے ہماری دستاویزات دیکھنے سے بھی انکار کر دیا۔‘‘ایک اور رشتہ دار، شیخ اکرم، نے مکتوب کو بتایا کہ انہیں صورتحال کا پتہ میڈیا رپورٹس کے ذریعے چلا۔میڈیا کے ذریعے ہمیں پتہ چلا کہ انہیں۲۶؍ دسمبر کی شام گیڈے بارڈر کے راستے بنگلہ دیش میں دھکیل دیا گیا تھا۔ یہ ادیشہ  انتظامیہ اور بی ایس ایف کی جانب سے ایک غیرقانونی عمل تھا۔‘‘ایک اور رشتہ دار نے بتایا کہ جبار کے آباؤ اجداد اصل میں مغربی بنگال کے ساؤتھ۲۴؍ پرگنہ ضلع کے نامخانہ سے تعلق رکھتے تھے اور تقریباً ۷۰؍ سال پہلے کام کی تلاش میں ادیشہ ہجرت کر گئے تھے۔خاندان کی تمام دستاویزات ادیشہ میں جاری کی گئی تھیں، اور نئی نسل وہیں پیدا ہوئی تھی۔خاندان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس حراست میں لیے گئے ارکان سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے اور انتظامیہ تعاون نہیں کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جلگائوں میں ہندو کے گھر سے اٹھا مسلم کا جنازہ ، گائو ں کی ہر آنکھ پرنم

بعد ازاں بنگلہ دیش کی۶؍ بی جی بی چوادانگا بٹالین کے کمانڈنگ آفیسر، لیفٹیننٹ کرنل محمد ناظم الحسن کی تصدیق کے بعد اس واقعہ کی تصدیق ہوئی۔۲۶؍ دسمبر۲۰۲۵ء کی رات، گہرے دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، بی ایس ایف نے درشنہ نمتالہ بارڈر گیٹ کھولا اور۱۴؍ ہندوستانی شہریوں، بشمول بچوں اور بزرگ افراد کوباہر دھکیل دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام۱۴؍ افراد غیر بنگلہ دیشی ہیں اور بنگلہ دیش میں ان کا کوئی رشتہ دار یا جاننے والا نہیں ہے۔‘‘
واضح رہے کہ بی ایس ایف نے پہلے ۳؍ دسمبر کو کوشیا بارڈر کے ذریعے انہیں بنگلہ دیش میں دھکیلنے کی کوشش کی تھی، لیکن کوشش ناکام رہی۔ تاہم بی جی بی نے اس واقعے پر احتجاج درج کرایا ہے، اور بی جی بی اور بی ایس ایف کے سینئر افسروں کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں واپس ہندوستان بھیج دیا جائے گا۔دریں اثنا، مغربی بنگال پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر سبھانکر سرکار نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کانگریس صدر مالکارجن خڑگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی کو خط لکھ کر اس بات پر روشنی ڈالی کہ ان کے بقول بنگالی بولنے والے مزدوروں، خاص طور پر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں حملوں کا ایک سلسلہ جاری ہے۔اپنے خط میں، سرکار نے ادیشہ کے۱۴؍ رکنی خاندان کے مبینہ طور پر دھکیلے جانے کا حوالہ دیا اور ادیشہ کے سمبلپور میں ایک بنگالی بولنے والے مزدور، جیول رانا کے قتل کا بھی ذکر کیا، جسے مقامی لوگوں نے بنگلہ دیشی ہونے کا الزام لگایا تھا۔سرکار نے لکھا کہ نہ مرکزی حکومت اور نہ ہی مغربی بنگال حکومت نے ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، اور انہوں نے کہا کہ آسام، راجستھان، مہاراشٹر اور گجرات جیسی ریاستوں سے بھی ایسے ہی واقعات کی اطلاعات ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے نئی یہودی بستیوں سے متعلق ٹینڈر جاری کیا

سبھانکر سرکار نے کانگریس قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کو اعلیٰ سطح پر اٹھائیں اور ادیشہ حکومت پر سخت کارروائی کا دباؤ ڈالیں۔انسانی حقوق کی تنظیم انڈین جسٹس فورم نے اس واقعے کو ’’آئین کی کھلی خلاف ورزی‘‘قرار دیا۔تنظیم کے چیئرمین اور وکیل، اشفاق احمد نے مکتوب کو بتایا کہ یہ واقعہ آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ان لوگوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک صرف اس لیے کیا گیا کہ وہ مسلمان ہیں۔ ایک آزاد ملک کے شہریوں کوبنگلہ دیشی کا لیبل لگا کر دوسرے ملک میں کیسے دھکیلا جا سکتا ہے؟ پولیس اور بی ایس ایف نے سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں کو بالکل نظرانداز کر دیا ہے۔ ہم نے پہلے ہی اعلیٰ انتظامی حکام کو مطلع کر دیا ہے، اور اگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو ہم ادیشہ ہائی کورٹ کا رخ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK