• Sat, 10 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نے نئی یہودی بستیوں سے متعلق ٹینڈر جاری کیا

Updated: January 09, 2026, 3:18 PM IST | Agency | Tel Aviv

اس اقدام کا مقصد یروشلم کو باقی فلسطین سے مکمل طور پر الگ کرنا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
ایک فلسطینی سرکاری ادارے نے بدھ کو کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے اور یروشلم کے مشرق میں ای۔۱؍ کے نام سے معروف علاقے میں ۳۴۰۱؍ نئے غیر قانونی آبادکاروں کے گھر بنانے کے لئے ٹینڈر جاری کیا ہے ۔ ایک بیان میں’ وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن ‘نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی اقدام مقبوضہ مشرقی یروشلم کو اس کے فلسطینی تشخص اور ایک فلسطینی ریاست کے قیام کو روک سکتا ہے۔ ای۔۱؍ علاقہ مشرقی یروشلم میں ایک اسٹریٹیجک راہداری ہے جسے اسرائیل زمینی قبضوں اور نئی تعمیرات کے ذریعے غیر قانونی بستیوں بشمول معالے آدومیم سے جوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے  جس کے بارے میں فلسطینی کہتے ہیں کہ یہ فلسطینی شہری آبادکاری کی توسیع کو روکے گا۔ کمیشن کے سربراہ معیاد شعبان نے کہا کہ اسرائیل کی لینڈ اتھاریٹی کی جانب سے ٹینڈر اس منصوبے کے مؤثر آغاز کی علامت ہے جو بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے تقریباً ۳؍دہائیوں سے رسمی طور پر منجمد تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد یروشلم کو باقی فلسطین سے مکمل طور پر الگ کرنا، مغربی کنارے کو تقسیم کرنا اور یروشلم کے مشرق میں فلسطینی شہری ترقی کو روکنا ہے ۔ شعبان کے مطابق اسرائیل نے ۲۰۲۵ء میں مقبوضہ مغربی کنارے میں ۱۰؍ہزار ۰۹۸؍بستی یونٹس کے لئے ٹینڈر جاری کئے جن میں سے ۷؍ ہزار سے زائد مالے آدومیم بستی کو مختص کئے گئے۔ اسرائیل کی آبادکاری کی نگرانی کرنے والی تنظیم پیس ناؤ نے ای۔۱؍ ٹینڈر کو سیاسی لاپروائی قرار دیا ہے جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لئے سیاسی حل اور بہتر مستقبل کی امید کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس نے کہا کہ ای۔۱؍ میں بستی کی تعمیر زمین پر ناقابل واپسی حقائق کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتی ہے جو ایک واحد ریاست کی طرف لے جائیں گے اور یہ دستیاب اشارے ایک نسل پرست نظام کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 
گروپ نے کہا کہ ۲۰۲۵ء کا اختتام ریکارڈ ۹؍ہزار ۶۲۹؍سیٹلمنٹ ہومز کے ساتھ ہوا جن میں مالے آدومیم میں ۶؍ہزار ۷۰۰؍سے زائد یونٹس شامل ہیںجو پچھلے۶؍ سال کے کل شائع شدہ ٹینڈرز سے زیادہ ہیں۔ 
پیس ناؤ نے مزید کہا کہ یہ ٹینڈرز وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی موجودگی میں اسرائیلی حکومت اور مالے آدومیم بلدیہ کے درمیان دستخط شدہ حکومتی فریم ورک معاہدے سے متعلق ہیں۔ تقریبا ۷؍لاکھ ۵۰؍ہزار غیر قانونی اسرائیلی آبادکار مقبوضہ مغربی کنارے کی سیکڑوں بستیوں میں رہتے ہیں جن میں سے تقریباً ۲؍لاکھ ۵۰؍ ہزار مشرقی یروشلم میں ہیں، یہ اعداد و شمار فلسطینی حکام کے مطابق روزانہ آبادکاروں کے تشدد کے ثبوت کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں جو فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کرنے کیلئے کئے جاتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے فلسطینی انتظامیہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ بستیوں کی توسیع ختم کرے جسے اقوام متحدہ غیر قانونی قرار دیتی ہے اور خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے کا کوئی بھی رسمی الحاق اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تصور کردہ دو ریاستی حل کے امکانات کو ختم کر دے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK