۱۰۰؍ سالہ عبدالقیوم خان گزشتہ ۸۰؍ سال سے دیورے گھرانے کے یہاں بطور صرافہ کاریگر کام کرتے تھے اور وہیں رہتے تھے۔
EPAPER
Updated: January 09, 2026, 9:23 AM IST | Jalgaon
۱۰۰؍ سالہ عبدالقیوم خان گزشتہ ۸۰؍ سال سے دیورے گھرانے کے یہاں بطور صرافہ کاریگر کام کرتے تھے اور وہیں رہتے تھے۔
ایک طرف ریاست میں الیکشن کے پس منظر میں سیاسی پارٹیوں کی جانب سے ماحول میں منافرت گھولنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے تو دوسری طرف جلگائوں ضلع کے ایک گائوں میں انسانی رشتوں کا ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے آزادی سے پہلے والے ہندوستان کی تصویر پیش کر دی ہے۔ یہاں ایک ۱۰۰؍ سالہ مسلم بزرگ کی موت ہوئی مگر ان کا جنازہ اٹھا ایک ہندو گھرانے کے مکان سے۔ وجہ یہ تھی کہ یہ بزرگ گزشتہ ۸۰؍ سال سے اسی ہندو گھرانے کے ساتھ رہتے تھے۔
عبدالقیوم نور خان، آج سے ۸۰؍ سال قبل جب وہ صرف ۲۰؍ سال کے تھے جلگائوں کے بیاول علاقے میں رہنے والے دیورے خاندان کے پاس روز گار کی تلاش میں آئے تھے۔ یہ خاندان پیشے سے جوہری تھا۔ عبدالقیوم نے بہت جلد زیورات بنانے کا کام سیکھ لیا اور ایک ماہر کاریگر ہو گئے۔ جیسا کہ اس زمانے کا چلن تھا کہ ایک بار جس ڈیوڑھی پر چڑھ گئے لوگ اس ڈیوڑھی کو نہیں چھوڑتے تھے۔ ایک بار جس کی ملازمت کی زندگی بھر اس کے وفادار رہتے تھے۔ عبدالقیوم نے بھی یہی کیا۔ وہ پوری ایمانداری سے اپناکام کرتے۔ دیورے خاندان نے بھی ان کی ایمانداری اور محنت کی قدر کی اور انہیں اپنے گھر کے فرد کی اپنے ساتھ رکھ لیا۔ زمانہ بدل گیا ، نسلیں بدل گئیں شاید زیورات کے پیٹرن بھی بدل گئے ہوں گے۔ ملک کے حالات کیا ہوگئے ہیں یہ تو سبھی دیکھ رہے ہیں لیکن عبدالقیوم اور دیورے خاندان کا رشتہ نہیں بدلا۔
آج زیورات سازی کے اس کاروبار کو اشوک دیورے، جیوتی دیورے، اور رشی دیورے مل کر چلاتے ہیں جو عبدالقیوم کو دادا کہتے ہیں۔ عبدالقیوم کے اپنے بچے اور پوتے پوتیاں ہیں جو سب اپنی اپنی زندگی میں کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں۔ کوئی ٹیچر ہے، کوئی افسر ہے تو کوئی کچھ اور کام کر رہا ہے۔ یہ سب ریاست کے الگ الگ شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن ۱۰۰؍ سال کی عمر ہو جانے کے بعد بھی عبدالقیوم نے جلگائوں کے بیاول میں دیورے گھرانے کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ بالآخر موت کا بلاوا آگیا اور۳؍ نسلوں تک دیورے خاندان کی خدمت کرنے والے عبدالقیوم نے لبیک کہا۔ مشکل یہ تھی کہ عبدالقیوم مسلمان تھے جبکہ دیورے گھرانہ اور ان کے آس پاس رہنے والے لوگ ہندو ۔ لہٰذا ان کی تدفین ایک مسئلہ تھی۔ بیاول کے مسلم علاقے تک جب یہ خبر پہنچی تو وہاں کی سرکردہ شخصیات دیورے خاندان تک پہنچی اور تدفین کی ذمہ داری لینے کی پیش کش کی مگر اشوک جیوتی اور رشی سمیت اس خاندان نے ہاتھ جوڑ کر گزارش کی کہ عبدالقیوم ان کے گھر کے ایک فرد تھے ۔ اب آخری وقت میں ہمیں احساس مت ہونے دیجئےکہ وہ ہمارے گھر کا حصہ نہیں تھے۔ آپ ان کی تدفین مسلم رسم ورواج کے مطابق ہی کیجئے مگر ہمارے گھر سے کیجئے۔
پھرمذہبی منافرت کے دم پر الیکشن جیتنے کی کوششوں کے درمیان مہاراشٹر نےیہ منظر دیکھا کہ مقامی مسلمانوں نے بزرگ عبدالقیوم کی تجہیز اور تدفین کی تیاری بیاول کے دیورے خاندان کے گھرمیں بیٹھ کر کی اورجب ان کا جنازہ اٹھایا گیا تو گھر کی عورتیں اسی طرح بلک بلک کر رونے لگیں جیسے کہ ہندوستانی گھروں میں کسی کی میت پر رویا جاتا ہے۔ عبدالقیوم خان کی تدفین میں شریک ہونے کیلئے ان کے بیٹے بیٹیاں اور بہوئیں اور داماد جو ممبئی اور پونے میں کے الگ الگ علاقوں میں رہتے ہیں ، بیاول پہنچے لیکن لوگ عبدالقیوم کی موت کو پرسہ دیورے گھرانے کو دے رہے تھے۔