• Sat, 10 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی: مسلم خاندانوں کو ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر گاؤں چھوڑنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد خوف و ہراس کا ماحول

Updated: January 09, 2026, 9:00 PM IST | Lucknow

مقامی انسپکٹر کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں گشت بڑھا دیا گیا ہے اور صورتحال ’’پُرامن‘‘ ہے، لیکن رہائشی ٹھوس اقدامات اور تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دھمکی آمیز پمفلٹس موصول ہونے کے باوجود لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا اپنے آبائی گھر چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اتر پردیش کے شہر سکندر آباد کے گاؤں بھونکھیرا کے مسلم رہائشیوں کے نئے سال کا آغاز دھمکی آمیز پمفلٹس کے ساتھ ہوا جن میں ان سے گائوں نہ چھوڑنے کی صورت میں قتل کی واضح دھمکیاں دی گئی ہیں۔ اس واقعہ کے بعد گائوں کے مسلمانوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ہندی میں ٹائپ کئے گئے ان گمنام پمفلٹس میں مسلم خاندانوں کو دھمکی دی گئی  ہے کہ وہ ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر گاؤں خالی کر دیں ورنہ انہیں ’’زندہ جلا دیا جائے گا‘‘۔ یکم جنوری ۲۰۲۶ء کو سامنے آنے والے ان پمفلٹس میں مسلمانوں کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کئے گئے تھے اور ان پر ’’کٹر سناتنی وکرم‘‘ کے فرضی نام سے دستخط تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے طلبہ کو دیگر اداروں میں منتقل کیا جائے گا:عمرعبداللہ 

مکتوب میڈیا کے مطابق، گائوں کے رہائشی ساجد علی کو یکم جنوری کی صبح یہ نوٹ ملا جب وہ فجر کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد جا رہے تھے۔ ساجد علی نے مکتوب کو بتایا کہ ’’اس دن ہم میں سے زیادہ تر لوگ گھروں کے اندر ہی رہے، یہ سوچ کر کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘ اس دھمکی آمیز پیغام نے ایک پُرامن بستی کو ہائی الرٹ زون میں تبدیل کردیا ہے۔ بھونکھیرا میں تقریباً ۱۵؍ مسلم خاندان رہائش پذیر ہیں جو گزشتہ چھ نسلوں سے گائوں کی ہندو اکثریت کے ساتھ پُرامن طور پر رہ رہے ہیں۔ مقامی وکیل محمد حنیف، جو اس سلسلے میں رہائشیوں کی مدد کر رہے ہیں، نے اس واقعے کو ’’براہِ راست اور سنگین خطرہ‘‘ قرار دیا جس کا مقصد دہائیوں پر محیط فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ 

رپورٹس کے مطابق، سکندر آباد پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہیتا ۲۰۲۳ء کی دفعہ ۳۵۳؍ (۱)(ج) کے تحت، ’’نامعلوم افراد‘‘ کے خلاف ایک  ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، جو طبقات کے درمیان دشمنی پیدا کرنے یا اسے فروغ دینے والے بیانات سے متعلق ہے۔ ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آسام: ریاست سے بے دخلی کی مہم ، ۱۲۰۰؍ سے زیادہ بنگالی مسلمانوں کے گھر مسمار

ان دھمکیوں نے گائوں کے مسلم خاندانوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب خاندان کا ایک رکن پہرہ دینے کے لیے رات بھر جاگتارہتا ہے۔ اسکول میں کھانا پکانے والی ۶۵؍ سالہ ہاجرہ نے بتایا کہ وہ اب اپنی حفاظت کے ڈر سے کام ختم ہوتے ہی فوراً گھر بھاگتی ہیں۔ مقامی انسپکٹر کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں گشت بڑھا دیا گیا ہے اور صورتحال ’’پُرامن‘‘ ہے، لیکن رہائشی ٹھوس اقدامات اور تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دھمکی آمیز پمفلٹس موصول ہونے کے باوجود، بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا اپنے آبائی گھر چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK