Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی ایس یو پی اسکیم کی اسمبلی میں گونج، ۱۷ ؍سال بعد بھی ’سب کا پکا گھر‘ کا خواب ادھورا

Updated: July 11, 2026, 11:07 AM IST | Sajid Mehmood Shaikh | Mumbai

بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی نریندرمہتا نے کاشی میرا ہاؤسنگ پروجیکٹ میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا۔

Colony.Photo:INN
کالونی۔ تصویر:آئی این این
 میرا بھائندر  میں غریبوں کیلئے شروع کی گئی ’بی ایس یو پی‘ ہاؤسنگ اسکیم میں  تاخیر اور مبینہ بدعنوانی کا معاملہ اب ریاستی اسمبلی میں گونجا۔ بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی نریندر مہتا نے حکومت کے محکمہ شہری ترقیات  کے افسران پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ افسران کی سستی اور ٹال مٹول کی وجہ سے غریبوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مانسون سیشن کے دوران توجہ دلاؤ نوٹس‘ کے ذریعے کاشی میرا کے غریبوں کی بازآبادکاری کا معاملہ  جارحانہ انداز میں اٹھایا۔
 
 
 
رپورٹ کے مطابق  ۲۰۰۹ ءمیں میونسپل کارپوریشن نے کاشی میرا علاقے کی دو بڑی کچی آبادیوں جنتا نگر اور کرانتی نگر کے غریبوں کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے اس اسکیم کا آغاز کیا تھا لیکن انتظامیہ کی نااہلی کا عالم یہ ہے کہ گزشتہ ۱۷ ؍برس میں ۴۱۳۷   ؍مستحق خاندانوں میں سے صرف  ۴۹۲  ؍ خاندانوں کو ہی گھر مل سکے ہیں۔ بقیہ ہزاروں خاندان آج بھی شدید گرمی اور برسات کے موسم میں خستہ حال ٹرانزٹ کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیںجبکہ کئی عمارتیں اب بھی آدھی ادھوری شکل میں کھڑی ہیں۔یہ پروجیکٹ بنیادی طور پر ۲۱۲ ؍کروڑ روپے کا تھا جس کی لاگت بعد میں مزید۷۵؍کروڑ روپے بڑھ گئی۔    مرکز میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد  ۲۰۱۵ء  میں اس اسکیم کو اچانک منسوخ کر دیا گیا جس سے غریبوں کا مستقبل اندھیرے میں چلا گیا۔ بعد ازاں  اس اسکیم کو پی پی پی ماڈل کے تحت پورا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن محکمہ شہری ترقیات کے افسران نے چھوٹی موٹی تکنیکی خامیاں نکال کر کارپوریشن کی تجاویز کو بار بار مسترد کیا۔
 
 
اسمبلی میں یہ چونکانے والا انکشاف بھی ہوا کہ غریب جھوپڑے والوں کو گھر دینے کے بجائے کچھ مقامی لیڈروں، دلالوں اور میونسپل افسران کی ملی بھگت سے الاٹ شدہ فلیٹوں کو غیر قانونی طور پر بیچنے اور کرائے پر دینے کا ایک بڑا ریکٹ چلایا جا رہا تھا۔ مستحقین کی فہرست میں فرضی دستاویزات کے ذریعے نام شامل کرنے کے الزامات کے بعد اس معاملے کی جانچ پولیس کی اکنامک آفنس ونگ کو سونپی گئی تھی جس کے تحت کچھ دلالوں کو گرفتار بھی کیا گیا  ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس گھپلے میں ملوث کچھ لیڈروں کو بعد میں سیاسی پشت پناہی دی گئی اور ٹکٹ دے کر کارپوریٹر بھی بنایا گیا۔ایوان میں اس معاملے پر ہنگامے کے بعد  وزیر مادھوری مسال نے یقین دہانی کرائی ہے کہ میونسپل کارپوریشن کو اس اسکیم کی ترمیمی تجویز پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور پی پی پی ماڈل کو اگلے ۸  ؍دن کے اندر منظوری دے دی جائے گی۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK