Updated: October 03, 2026, 4:06 PM IST
| New Delhi
ناگپور سے تعلق رکھنے والے بدھ مت کارکن، امبیڈکر وادی اسکالر اور شہری حقوق کے کارکن بی ڈی بورکر نے ’وندے ماترم‘ کے تمام ۶؍ بند سرکاری تقریبات میں لازمی طور پر گانے سے متعلق وزارت داخلہ کے احکامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مکمل متن میں ہندو دیوی دیوتاؤں کے مذہبی حوالوں اور ’آنند مٹھ‘ کے تاریخی پس منظر کے باعث اسے غیر ہندو شہریوں پر لازمی قرار دینا آئینی حقوق سے متصادم ہے۔ درخواست گزار نے مکمل متن کو ’’اسلاموفوبک‘‘ اور مذہبی طور پر جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دو بندوں پر مشتمل روایتی ورژن کو تبدیل کرکے مکمل ۶؍ بند نافذ کرنا ہندوستان کے سیکولر جمہوری کردار کو متاثر کرتا ہے۔ درخواست ابھی سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے فہرست میں شامل نہیں ہوئی ہے۔
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این
’وندے ماترم‘ کے تمام ۶؍ بند سرکاری تقریبات میں گانا لازمی قرار دینے کے مرکزی حکومت کے احکامات کے خلاف ناگپور سے تعلق رکھنے والے بدھ مت کارکن، امبیڈکر وادی اسکالر اور شہری حقوق کے کارکن بی ڈی بورکر نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ درخواست میں وزارت داخلہ کے ۲۸؍ جنوری ۲۰۲۶ء اور ۹؍ جولائی ۲۰۲۶ء کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست گزار کا موقف ہے کہ آزادی کے بعد تقریباً ۸؍ دہائیوں تک ’وندے ماترم‘ کے پہلے ۲؍ بندوں پر مشتمل ورژن سرکاری اور قومی مواقع پر استعمال ہوتا رہا، تاہم موجودہ احکامات کے ذریعے ناول ’آنند مٹھ‘ میں شامل مکمل ۶؍ بندوں کو سرکاری تقریبات کیلئے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس تبدیلی سے ایک ایسے متن کو لازمی بنایا گیا ہے جس میں مذہبی اور فرقہ وارانہ عناصر موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:نیپال کے تباہ کن سیلاب سے روزگار اور ذرائع معاش شدید متاثر، بحران کا خدشہ
مکمل ۶؍ بندوں پر اعتراض
بورکر نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ پہلے ۲؍ بندوں پر مشتمل اصل نظم ہندوستان کے قدرتی مناظر اور مادرِ وطن کی تعریف پر مرکوز ہے، جبکہ ’آنند مٹھ‘ میں شامل تیسرے سے چھٹے بندوں میں ہندو دیویوں درگا، لکشمی اور سرسوتی کے حوالے موجود ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ان بندوں کو سرکاری تقریبات میں لازمی طور پر گانے کا حکم غیر ہندو شہریوں کے مذہبی اور ضمیری حقوق کو متاثر کرتا ہے۔
درخواست میں ’وندے ماترم‘ کے مکمل متن کے تاریخی اور ادبی پس منظر کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ بورکر کے مطابق پہلے ۲؍ بند ’آنند مٹھ‘ کے ناول میں شامل ہونے سے قبل بھی موجود تھے اور ان میں کسی مخصوص مذہبی دیوی یا فرقہ وارانہ تنازع کا حوالہ نہیں ملتا۔ ان کا کہنا ہے کہ بعد کے بندوں کو ناول کے تناظر سے الگ کرکے قومی گیت کے طور پر لازمی قرار دینے سے متن کی تاریخی معنویت تبدیل ہوجاتی ہے۔
’اسلاموفوبک‘ ہونے کا دعویٰ
درخواست میں ’آنند مٹھ‘ کے بعد کے بندوں میں مسلمانوں کے حوالے سے موجود مواد کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے۔ بورکر کا دعویٰ ہے کہ ناول میں مسلمانوں کو مخالف فریق کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور تیسرے سے چھٹے بندوں کا سیاق اسی تاریخی و ادبی پس منظر سے جڑا ہوا ہے۔
درخواست گزار نے مکمل ۶؍ بندوں کو لازمی قرار دینے کو ’’اسلاموفوبک‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی مخصوص مذہب سے وابستہ مذہبی تصورات کو قومی گیت کے لازمی حصے کے طور پر شہریوں سے ادا کروانا قومی یکجہتی کے بجائے فرقہ وارانہ خلیج کو بڑھا سکتا ہے۔ یہ موقف فی الحال درخواست گزار کے دعوے کے طور پر عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اکھلیش یادو ناراض ساتھیوں سے ہاتھ ملائیں گے
سیکولر جمہوری کردار کا حوالہ
بورکر نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ مکمل ۶؍ بندوں کو سرکاری تقریبات میں لازمی قرار دینا ہندوستان کے سیکولر جمہوری کردار سے متعلق آئینی اصولوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ۱۹۳۷ء میں رابندر ناتھ ٹیگور سے منسوب مفاہمتی طریقۂ کار اور آزادی کے بعد اختیار کیے گئے عمل کے نتیجے میں پہلے ۲؍ بندوں پر مشتمل ورژن کو قومی سطح پر قبول کیا گیا تھا۔
درخواست میں مہاتما جیوتی راؤ پھولے کی کتاب ’ساروجنک ستیہ دھرم پستک‘ کے حوالے سے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان محبت اور باہمی احترام کے تصور کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے اسی تناظر میں مکمل ’وندے ماترم‘ کو لازمی قرار دینے کی مخالفت کی ہے۔
بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا دعویٰ
درخواست میں کہا گیا ہے کہ بدھ مت کے پیروکاروں سمیت غیر ہندو شہریوں کو مخصوص دیوی دیوتاؤں کی عبادت یا مذہبی نوعیت کے کلمات ادا کرنے پر مجبور کرنا آئین کی دفعات ۱۹(۱)(اے)، ۲۱، ۲۳(۱)، ۲۵(۱) اور ۲۹(۲) میں حاصل بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔
بورکر نے وزارت داخلہ کے دونوں احکامات کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے انہیں آئین کی دفعہ ۱۳؍ کے تحت کالعدم قرار دینے کی درخواست کی ہے۔ درخواست وکیل ویبھو چودھری کے ذریعے دائر کی گئی ہے اور اسے پروفیسر موہن گوپال نے تیار کیا ہے۔
فی الحال اس درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت نہیں ہوئی ہے اور اسے عدالت کی فہرست میں شامل کیا جانا باقی ہے۔