سیلاب سے متاثرہ علاقے کی ۴؍ کلومیٹر حدود کے اندر۲۱؍ ہزار۴؍سو افراد برسرروزگار تھے جن کا ذریعۂ معاش بری طرح متاثر ہوا اور ان کیلئے اپنے کام، منڈیوں اور ضروری خدمات تک پہنچنا دشوار ہوگیا۔
EPAPER
Updated: October 03, 2026, 2:17 PM IST | Agency | New York
سیلاب سے متاثرہ علاقے کی ۴؍ کلومیٹر حدود کے اندر۲۱؍ ہزار۴؍سو افراد برسرروزگار تھے جن کا ذریعۂ معاش بری طرح متاثر ہوا اور ان کیلئے اپنے کام، منڈیوں اور ضروری خدمات تک پہنچنا دشوار ہوگیا۔
عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے بتایا ہے کہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے روزگار اور ذرائع معاش کو شدید متاثر کیا ہے اور اس آفت کے اثرات براہ راست متاثرہ علاقوں سے کہیں دور تک محسوس کئے جا سکتے ہیں۔نیپال میں ادارے کے ڈائریکٹر نومان اوزجان نے سیلاب سے ہونے والے نقصان سے متعلق جائزہ رپورٹ کے اجرا ءپر کہا ہے کہ آمدورفت، بجلی کے بنیادی ڈھانچے اور تجارتی راستوں کو پہنچنے والا نقصان سپلائی چین، منڈیوں اور ان سے منسلک خدمات کے ذریعے اس بحران کے اثرات کو دور دراز علاقوں تک پہنچا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق اس سیلاب میں ایک ہزار۴۵۰؍سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ ۵؍ہزار۷۸۶؍ لاپتہ ہیں۔ آئی ایل او کے اندازے کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقے کی ۴؍ کلومیٹر حدود کے اندر۲۱؍ ہزار۴؍سو افراد برسرروزگار تھے جن کاذریعہ معاش بری طرح متاثر ہوا اور ان کے لئے اپنے کام، منڈیوں اور ضروری خدمات تک پہنچنا دشوار ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اسرائیل: اپوزیشن لیڈر کا انکشاف، نوجوان اسرائیلی غزہ میں فلسطینیوں کے قتل کےحامی
سیاحت، زراعت اور نقل و حمل کے شعبوں سے وابستہ افراد اور چھوٹے کاروباری اداروں میں کام کرنے والے کارکن خاص طور پر شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں سیاحتی لیڈر، سامان اٹھانے والے کارکن، ہوٹلوں کے ملازمین اور زرعی شعبے سے وابستہ کارکن شامل ہیں۔ ان کارکنوں کو آمدنی میں کمی، کام میں تعطل نیزگاہکوں، ضروری خام مال اور منڈیوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آئی ایل او نے بتایا ہے کہ نیپال میں غیر رسمی روزگار کی شرح بہت زیادہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بڑی تعداد میں کارکنوں کی آمدنی محدود ہے اور انہیں سماجی تحفظ کی سہولتیں بھی میسر نہیں۔
روزانہ اجرت پر کام کرنے والے، عارضی اور غیر رسمی کارکن اور ذاتی کام سے وابستہ افراد اور چھوٹے یا گھریلو پیمانے پر کاروبار کرنے والے لوگ اس صورتحال سے خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔جائزے میں کہا گیا ہے کہ خواتین کارکنوں کو اجرتی روزگار کے نقصان کے ساتھ بلامعاوضہ نگہداشت اور گھریلو ذمہ داریوں میں اضافے کے دہرے اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گھریلو آمدنی میں بڑے پیمانے پر کمی بچوں کے لئے مشقت کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے کیونکہ بہت سے خاندان مشکل حالات سے نمٹنے کے لئے بچوں کو تعلیم کے بجائے کام پر بھیج سکتے ہیں۔ جائزے میں نیپال اور چین کے درمیان تجارتی راہداری میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے جن کے اثرات سیلاب سے متاثرہ اضلاع سے کہیں دور تک کمپنیوں اور کارکنوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
چین سے نیپال کی جانب ۲۲؍فیصد تجارت راسووا اور تاتو پانی کے راستے ہوتی رہی ہے جہاں سیلاب نے نقل و حمل کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔آئی ایل او کے مطابق ان راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں صرف نقل و حمل اور سرحدی سرگرمیوں سے وابستہ روزگار کو ہی متاثر نہیں کریں گی بلکہ تعمیرات، صنعت، زرعی پیداوار کی پروسیسنگ اور دیگر شعبوں سے وابستہ کارکنوں اور کاروباری اداروں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
جائزے میں زور دیا گیا ہے کہ سیلاب کے بعد بحالی اور تعمیرنو کے اقدامات عوام کے ذرائع معاش کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ باوقار روزگار کے حصول میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔