Inquilab Logo Happiest Places to Work

گھر گھر ٹفن پہنچانے والی محنتی طالبہ ایس ڈی ایم بن گئی

Updated: June 10, 2026, 2:23 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

اتراکھنڈ کے رشی کیش کی رہنے والی میناکشی بھاٹیا نے پڑھائی کساتھ گھریلو کاروبار میں بھی اہل خانہ کا ہاتھ بٹایا۔

Meenakshi Bhatia.Photo:INN
میناکشی بھاٹیا-تصویر:آئی این این
حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اگر مضبوط ارادے اور سخت محنت کے ساتھ جدوجہد کی جائے تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں رہتا۔ رشی کیش کے ایک چھوٹے سے خاندان سے تعلق رکھنے والی میناکشی بھاٹیہ نے اتراکھنڈ پی سی ایس امتحان میں کامیابی حاصل کرکے ایس ڈی ایم کے عہدے پر منتخب ہو کر اس بات کو سچ ثابت کر دیا ہے۔ پیر کواتراکھنڈ پی سی ایس امتحان کے نتائج کا اعلان کیا گیا  ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک سال قبل میناکشی کی بڑی بہن شلپا بھاٹیہ بھی اتراکھنڈ پی سی ایس امتحان میں کامیاب ہو کر شماریاتی افسر بنی تھیں۔ شہر کے پرگتی ویہار نامی علاقے کی رہنے والی میناکشی بھاٹیہ نے بتایا کہ وہ دو سال قبل یو پی ایس سی کے انٹرویو تک پہنچی تھیں، لیکن صرف پانچ نمبروں سے انتخاب سے محروم رہ گئیں۔ انہوں نے پہلی بار اتراکھنڈ پی سی ایس کا امتحان دیا اور کامیاب ہو گئیں۔ ۲۰۲۰ء میں رشی کیش کیمپس، شری دیو سمن اتراکھنڈ یونیورسٹی سے بی کام کی ڈگری حاصل کی۔ دو سال پہلے ان کی بڑی بہن شلپا کا اتراکھنڈ پی سی ایس میں شماریاتی افسر کے عہدے پر انتخاب ہوا تھا، جس کے بعد میناکشی کو بھی اس امتحان کی تیاری کی ترغیب ملی۔ اس وقت شلپا پوڑی ضلع میں تعینات ہیں۔ میناکشی کی والدہ نیلم بھاٹیہ نے کہا کہ ان کی دونوں بیٹیوں نے ان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ 
 
 
ایس ڈی ایم کے عہدے پر منتخب ہونے والی میناکشی اور پوڑی میں شماریاتی افسر کے طور پر خدمات انجام دینے والی شلپا کی کامیابی کی داستان مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے۔ میناکشی نے بتایا کہ دونوں بہنیں اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ والدہ کے ٹفن سروس کے کام میں بھرپور مدد کرتی تھیں۔ ان کی والدہ کھانا تیار کرتی تھیں جبکہ دونوں بہنیں پیدل جا کر گھروں اور دفاتر میں ٹفن پہنچاتی تھیں۔ بعد میں کچھ رقم جمع ہونے پر انہوں نے ایک اسکوٹی خریدی، جس سے ٹفن پہنچانے میں وقت کم لگنے لگا۔ بچا ہوا وقت دونوں بہنوں نے اپنی پڑھائی کیلئے استعمال کیا۔ میناکشی نے بتایا کہ وہ تحصیل کے ملازمین کو بھی ٹفن پہنچایا کرتی تھیں۔ ان کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ اب انہیں اسی تحصیل انتظامیہ کی قیادت کرنے کا موقع ملے گا۔
 
 
میناکشی بھاٹیہ نے بتایا کہ۲۰۰۳ء میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا تھا، اس وقت وہ محض ڈیڑھ سال کی تھیں جبکہ ان کی بڑی بہن کی عمر ساڑھے چھ سال تھی۔ ان کے والد رشی کیش کے آئی ایس بی ٹی میں ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ والد کے انتقال کے بعد خاندان کے پاس کوئی سہارا نہیں بچا تھا۔ ایسے میں ان کی والدہ نے ٹفن سروس شروع کی اور اسی کے ذریعے گھر کا خرچ چلایا اور دونوں بیٹیوں کی پرورش و تعلیم کا بندوبست کیا۔  میناکشی نے بتایا کہ انہوں نے کسی کوچنگ سینٹر سے تعلیم حاصل نہیں کی۔ وہ گزشتہ چار سال سے سوشل میڈیا سے دور رہیں۔ اگر کبھی ضرورت پڑتی بھی تھی تو بہت محدود وقت کیلئے ہی استعمال کرتی تھیں تاکہ پڑھائی متاثر نہ ہو۔ ان کے مطابق کامیابی کیلئے توجہ، نظم و ضبط اور مستقل محنت سب سے زیادہ اہم ہیں۔(آئی این این)

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK