ایس ڈی ایم کی عدالت کامزار کی زمین کو سرکاری ملکیت قرار دینے کے بعد انہدام کا فیصلہ، ۶؍ تھانوں کے ۳۰۰؍ پولیس اہلکاروں کے ساتھ نگر پالیکا کی ٹیم نےکارروائی کی، علاقے کا ماحول کشیدہ
EPAPER
Updated: January 12, 2026, 10:51 PM IST | Deoria
ایس ڈی ایم کی عدالت کامزار کی زمین کو سرکاری ملکیت قرار دینے کے بعد انہدام کا فیصلہ، ۶؍ تھانوں کے ۳۰۰؍ پولیس اہلکاروں کے ساتھ نگر پالیکا کی ٹیم نےکارروائی کی، علاقے کا ماحول کشیدہ
غیر قانونی قرار دے کر ۵۰؍ سال پرانی گورکھپور اوور برج کے پاس واقع درگاہ حضرت سیّد شہید عبدالغنی کے انہدام کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اتوار کی دوپہر ۱۲؍بجے کے بعد ۳؍بلڈوزروں کی مدد سے مزار کے احاطے کو توڑنے کی کارروائی شروع ہوئی اورمرکزی گیٹ، باؤنڈری، ۳؍دکانوں، مرکزی گنبد اوربیسمنٹ کا کچھ حصہ توڑنے کے بعد کارروائی بند کردی گئی ۔اس کے بعد پیر کو دوبارہ کارروائی شروع ہوئی۔ موقع پر اعلیٰ افسران سمیت بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات ہیں۔انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ پوری کارروائی قانونی دائرے میں ہے۔ فی الحال علاقے میں صورتحال معمول پر ہے۔ صدر سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) عدالت کے حکم کے بعد کارروائی کی گئی ہے جس نے اس زمین کو سرکاری ملکیت قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا تھا کہ یہ مزار قانونی طور پر تسلیم شدہ نہیں ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد تجاوزات ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔انتظامیہ کمیٹی کے صدر راشد خان نے کہا کہ ہم عدالت کے حکم کو تسلیم کرتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
نگر پالیکا نے انہدامی کارروائی کے سلسلے میں جمعہ کو نوٹس جاری کیا تھا۔ اتوار دوپہر تقریباً ۱۲؍بجے ۶؍ تھانوں کے ۳۰۰؍ پولیس اہلکاروں کے ساتھ نگر پالیکا کی ٹیم گورکھپور اووربرج سے متصل مزار کو گرانے کیلئے پہنچی۔ سب سے پہلے احاطے کو خالی کرایا گیا، پھر گھیرابندی کرکے مزار کی انہدامی کارروائی شروع کی گئی۔ اس دوران درگاہ کی طرف آنے والے تقریباً ۶؍ راستوں کو روک دیا گیا۔ اس کیلئے ۶؍ تھانوں کی پولیس الگ الگ مقامات پر لگائی گئی ہے۔فلائی اوور پر بلڈوزر ایکشن کے دوران طویل جام لگ گیا تھا۔مزار کے گنبد کو منہدم کرنے کیلئے ایک بلڈوزر گورکھپور لنک روڈ کے فلائی اوور پر بھیجا گیا جہاں سے اس نے گنبد کو توڑ دیا۔ موقع پر ایس ڈی ایم شروتی شرما اور صدر کوتوال ونود سنگھ سمیت بھاری تعداد میں پولیس فورس تعینات رہی۔اس سلسلے میں انتظامیہ کمیٹی کے خزانچی معین الدین انصاری نے بتایا کہ ہمیں سامان ہٹانے کیلئے صرف ۱۲؍ گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا۔ ہم مجبور ہیں، کیا کرسکتے ہیں؟ جو انتظامیہ کی مرضی ہوگی، وہی ہوگا۔ سنیچر کی رات تقریباً ۱۲؍بجے انتظامیہ کی جانب سے فون آیا تھا جس میں کہا گیا کہ اتوار کی دوپہر ۱۲؍بجے تک مزار کے احاطے سے سارا سامان ہٹا لیا جائے ورنہ طاقت کے زور پر کارروائی کی جائے گی۔
خیال ر ہے کہ حضرت سیّد شہید عبدالغنی کا مزار گورکھپور روڈ اووربرج سے متصل جگہ پر بنی ہوئی ہے۔ ۲۰۱۹ء میں اس کی پہلی شکایت اُس وقت کے ضلع مجسٹریٹ سے کی گئی تھی۔ ضلع مجسٹریٹ نے آر بی او کے جے ای، تحصیلدار اور محکمہ تعمیراتِ عامہ کے افسران کو موقع پر معائنہ کرنےکی ہدایت دی تھی۔ ۱۴؍دسمبر ۲۰۱۹ء کو فریق مخالف انتظامیہ کمیٹی کو نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ اس کے بعد تاریخ پر تاریخ ملتی رہی۔ جمعہ کو ایس ڈی ایم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل ضلع سرکاری وکیل (ریوینیو) جے دیپ گپتا نے بتایا کہ ایس ڈی ایم کورٹ اس زمین کو پہلے ہی بنجر قرار دے چکی تھی۔ عدالت میں نقشہ طلب کیا گیا، لیکن نہ تو کوئی نقشہ پیش کیا گیا، نہ ہی کاغذات دیئے گئے کہ مزار کی تعمیر کب ہوئی تھی؟ اس کے بعد نوٹس جاری کرکے انہدامی کارروائی کا حکم دیا گیا۔ صدر درگاہ کمیٹی نے بتایا کہ ’’سرکاری انتظامیہ نے ہمیں دھمکی تھی کہ اگر ہم نے مزاحمت کی تو ہمارے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی اور وہی مقدمہ قائم کیا جائے گا جو سنبھل میں ہوا تھا۔اسلئے ہم نے تحریری طو رپر اپنی رضامندی دے دی۔‘‘