برگے اور چٹائی کے بغیر تدفین، لاش کی بے حرمتی ہے

Updated: June 27, 2020, 10:17 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

بڑا قبرستان ٹرسٹ نے اعتراف کیا کہ بیشتر قبرستانوں میں کووڈ کی میت کو بغیر برگے لگائے مٹی ڈال دی جاتی ہے حالانکہ بی ایم سی کی جانب سے ایسا کوئی سرکیولر جاری نہیں کیا گیا ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کووڈ۔۱۹؍سے یومیہ کئی اموات ہو رہی ہیں اور ان لاشوں کو بی ایم سی نے جن قبرستانوں میں دفن کرنے کی اجازت دی ہے وہاں دفنائی جا رہی ہیں ۔ لیکن اس میں ایک اہم مسئلہ ایسی میت کے بغیر برگے اور چٹائی کے براہ راست مٹی ڈال کر دفن کر دینے کا ہے ۔ یہ طریقہ تدفین کے ضابطے اور میت کے اکرام کے خلاف ہے۔ اس پر پہلے بھی کئی لوگوں نے اعتراض کیا اور بی ایم سی افسران سے اس مسئلے پر ملاقات بھی کی ۔
اس مسئلے نے کب زور پکڑا
بغیر برگے کے براہ راست مٹی ڈال کر میت دفن کئے جانے کے سلسلے میں حافظ محمد اقبال چونا والا نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ ۲؍ دن قبل کوکنی پاڑا قبرستان باندرہ میں بغیر برگے کے جب ایک لاش کی تدفین کی گئی تو انھوں نے اس پرسخت اعتراض کیا اور کہا کی میت کے اوپر سیدھے مٹی ڈالنا میت کے احترام کے خلاف ہے۔ اس پر گورکن نے کہا کی یہاں کووڈ کی تمام باڈی جس کی تعداد ۷۰؍سے زائد ہےاب تک اسی طرح دفن کی گئی ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کی انھوں نے اس سلسلے میں مفتی عزیر الرحمن فتح پوری ، مفتی سعید الرحمن قاسمی، مفتی جسیم الدین قاسمی اور مفتی محمد حذیفہ قاسمی سے شرعی رہنمائی حاصل کی تو ان مفتیان کرام نے جواب دیا کہ یہ طریقہ قطعاً مناسب نہیں ہے اور میت کو قبر میں لٹانے اور مٹی ڈالنے میں بھی اکرام کا پہلو شریعت میں ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ اس تعلق سے ایک مرتبہ ایک صحابی کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر سے ٹیک لگائے ہوئے دیکھا تو منع فرمایا اور کہا کیو ں اس قبر والے کو ایذا پہنچا رہے ہو ۔
 بڑا قبرستان ٹرسٹ کا اعتراف اور یقین دہانی
 جامع مسجد بڑا قبرستان ٹرسٹ کے چیئرمین شعیب خطیب سے انقلاب کے رابطہ قائم کرنے پر انھوں نے یہ اعتراف کیا کہ کووڈ باڈی تقریباً تمام ہی قبرستانوں میں جہاں بڑا قبرستان ٹرسٹ کی جانب سے تجہیز و تدفین کی تمام اشیاء مہیا کروائی جا رہی ہیں ، بغیر برگے یا چٹائی کے میت کو قبر میں اتارنے کے بعد سیدھے مٹی ڈال دی جاتی ہے ۔ کیونکہ کووڈ باڈی کو دفنانے کے لئے قبر ۸؍فٹ گہری کھودنی پڑتی ہے اوربڑی تعداد میں روزانہ میت لائے جانے کے سبب قبر زیادہ چوڑی بھی نہیں کھودی جاتی ہے اور قبر میں گورکن کا اترنا بھی ممکن نہیں ہوتا ہے اس لئے برگہ یا چٹائی ڈالنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ میت کے اکرام کا معاملہ ہے اس لئے یہ کوشش ہوگی کہ آئندہ برگے اور چٹائی کے ساتھ تدفین کی جائے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بغیر برگے اور چٹائی کے کووڈ باڈی دفن‌کرنے کے لئے بی ایم سی کی جانب سے کوئی سرکیولر یا آرڈر جاری نہیں کیا گیا ہے۔ 
 ناریل واڑی قبرستان کے ٹرسٹی محمد سلیم نے کہا کہ کووڈ میت کی تدفین کے لئے یہ ایک اچھی اور بہت مناسب بات سامنے آئی ہے۔ اس لئے اب ناریل واڑی قبرستان میں بھی اس پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ بعض قبرستانوں میں اہتمام کیا جاتا ہے ۔کووڈ۱۹؍سے ہونے والی موت اور تدفین کے سلسلے میں کچھ قبرستان ایسے ہیں جہاں پہلے سے اس پر عمل کیا جاتا ہے۔ اس تعلق سے اوشیوارہ قبرستان اور ملاڈ سومواری بازار قبرستان وغیرہ کے ٹرسٹیان کے مطابق ان کے یہاں ایسی لاشوں کو قبر میں اتارنے کے بعد پلائی ووڈ کا ٹکڑا اور چٹائی وغیرہ ڈالنے کے بعد ہی مٹی ڈالی جاتی ہے اور آج تک ایک بھی لاش اس ترتیب کے خلاف نہیں دفنائی گئی ہے۔
بی ایم سی کی وضاحت
  نماز جمعہ کے بعد حافظ محمد اقبال چونا والا اور مولانا مبشر وغیرہ ’کے ‘ویسٹ وارڈ کے ڈپٹی میونسپل کمشنر سے اسی مسلئے پر ملاقات کے لئے پہنچے تو انہیں میڈیکل آفیسر گلنار خان سے ملاقات کرنے کے لئے کہا گیا۔ گلنار خان نے بتایا کہ بی ایم سی کی جانب سے ایسا کوئی سرکیولر جاری نہیں کیا گیا ہے کہ برگے یا چٹائی کا استعمال کووڈ باڈی کی تدفین کیلئے نہ کیا جائے۔ بی ایم سی کی جانب سے صرف یہ کہا گیا ہے کی کووڈ۔۱۹؍سے فوت ہونےوالی باڈی اچھی طرح پلاسٹک میں لپیٹ کر اہل خانہ یا ذمہ داران کو دی جائے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK