• Fri, 02 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حیدرآباد سے عمرہ پر جانے والے ۴۵؍ افراد مدینہ منورہ کے قریب سڑک حادثہ میں جاں بحق

Updated: November 18, 2025, 2:32 PM IST | sa

اتوار اور پیر کی درمیانی شب ڈیڑھ بجے آئل ٹینکر سے ٹکرانے کے بعد معتمرین کی بس شعلہ میں تبدیل ہوگئی ، صرف ایک نوجوان معجزاتی طور پر بچ پایا،وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ سمیت تمام اہم لیڈروں کا اظہار تعزیت، جسد خاکی ہندوستان لانے کی اپیل

Telangana Minister Mohammad Azharuddin consoles the families of the victims in Hyderabad. Picture: INN
تلنگانہ کے وزیر محمد اظہر الدین حیدرآباد میں متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو تسلی دیتے ہوئے۔ تصویر:آئی این این

سعودی عرب میں  اتوار اور پیر کی درمیانی شب ڈیڑھ بجے ایک نہایت دلخراش سانحہ میں  ہندوستان سے عمرہ کیلئے جانے والے  ۴۵؍افراد نے داعی ٔ اجل کو لبیک کہہ دیا۔ ان میں  ۴۴؍ کا تعلق تلنگانہ سے اور ایک کا  کرناٹک  سے تھا۔  معتمرین کی بس ڈیزل   سے بھرے ٹینکر سے ٹکرا گئی جس کے بعد جشم زدن میں  اس میں  آگ  لگ گئی ۔  بس میں ۴۶؍ افراد سوار تھے   جن میں سے ایک معجزاتی طو رپر بچ گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:بنگلہ دیش: معزول وزیراعظم شیخ حسینہ ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کی مرتکب، سزائے موت

 حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے ۴۵؍ افراد  کے جاں بحق ہونے کی تصدیق  کی ہے جبکہ سعودی حکام یا ہندوستانی  حکومت  نے اس خبر  کے لکھے جانے تک فوت ہونےوالوں کی تعداد  کے تعلق سے وضاحت نہیں کی ہے۔جدہ میں  ہندوستانی سفارتخانہ نے حادثہ کی جگہ پر صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے  اپنے حکام روانہ کرنے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’فی الحال ہم ہلاکتوں کی درست تعداد نہیں بتا سکتے کیونکہ کاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔‘‘حیدرآباد  میں رشتہ داروں نے بتایا  ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی بس میں ایک ہی خاندان کی ۳؍ نسلوں پر مشتمل ۱۸؍ افراد  شامل تھے۔ شیخ نذیر الدین جو حیدرآباد کے وِدیا نگر کے  رہنے والے  اورریلوے کے سبکدوش ملازم تھے،  کے بھتیجے محمد اسلم نے بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ، بیٹے، ۳؍ بیٹیوں اور نواسوں کے ساتھ عمرہ پر گئے تھے  اور مذکورہ بس میں  سوار تھے۔

یہ بھی پڑھئے:’’الیکشن کیلئے دونوں پارٹیاں اپنا اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں‘‘

 تلنگانہ حج کمیٹی کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں۱۰؍بچے  شامل  ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور تلنگانہ و آندھرا پردیش کے وزرائے اعلیٰ  ریونت ریڈی اور این چندرابابو نائیڈو نے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نیز مختلف ریاستوں  کے وزرائے اعلیٰ جن میں   ایم کے اسٹالن اور عمر عبداللہ شامل ہیں، نے بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ حادثہ ہندوستانی وقت کے مطابق رات ۳۰:۱؍ بجے ہوا ۔ سجنار نے بتایا کہ عمرہ کیلئے ۵۴؍  افراد کا قافلہ ۹؍نومبر کو   روانہ ہواتھا اور ۲۳؍ نومبر کو اس کی واپسی تھی۔  عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد جب قافلہ میں موجود افراد مکہ سے  مدینہ کیلئے روانہ ہوئے تو ۵۴؍ میں سے ۴؍ علاحدہ کار میں بیٹھے جبکہ ۴؍مکہ میں رُک گئے۔ اس طرح بس میں  ۴۶؍افراد  سوار تھے

مدینہ سے۲۵؍  کلومیٹر کے فاصلے پربس آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں صرف ایک شخص زندہ بچا ہے جو اسپتال میں زیر علاج ہے۔ وزیراعظم مودی نے  حادثہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایکس پر پوسٹ  کیا ہے کہ ’’مدینہ میں  ہندوستانی  شہریوں سے متعلق حادثے کی خبر سن کر انتہائی دکھ ہوا۔  میری دعائیں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے چہیتوں کا کھو دیا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ ریاض میں  ہندوستانی سفارتخانہ اور جدہ میں قونصل خانہ مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں اور سعودی حکام کے  رابطے میں ہیں۔وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بھی حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مرکز سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کیلئے  ریاستی حکام کے ساتھ قریبی رابطہ  میں رہیں۔ حیدرآباد میں پی ٹی آئی سے بات چیت میں متاثرین کے رشتہ داروں نے بتایا کہ حادثے کے بعد بس ’’شعلے میں تبدیل ہوگئی۔‘‘ مفتی آصف نے  بتایا کہ ان کے خاندان کے ۷؍ افراد عمرہ  کیلئے  گئے تھے۔ انہوں نے حادثے کی تصاویر موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت سے اپیل کی کہ انہیں سعودی عرب جانے میں مدد فراہم کی جائے۔ ایک اور شخص محمد سلمان  جن کے گھر کے ۶؍ افراد  میں تھے، نے بتایا کہ آخری بار جب بات ہوئی تھی تو یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ ۲؍ گھنٹے میں مدینہ پہنچ جائیں گے،اس کے بعد رابطہ منقطع ہوگیا۔ محمد برہان  نامی شخص نے بتایا کہ  واحد زندہ بچنے والا، شعیب، بس کی کھڑکی توڑ کر چھلانگ لگا کر باہر نکلا، جس سے اس کے ہاتھ جل گئے مگر وہ بچ گیا۔ حیدرآباد کےجوائنٹ کمشنر آف پولیس تفسیر اقبال نے ا بتایا کہ بس میں موجود ۴۶؍ افراد میں سے۴۳؍حیدرآباد شہر کی حدود سے تھے جبکہ ۲؍سائبرآباد سے  اور  ایک  ہبلی (کرناٹک)  کا تھا۔ پولیس افسرنے  بتایا کہ بس میں۱۸؍ مرد،۱۸؍ خواتین اور ۱۰؍ بچے تھے۔
تلنگانہ حکومت نے بتایا کہ اقلیتی بہبود کے وزیر محمد اظہر الدین حادثے کے بعد امدادی اقدامات کی نگرانی کیلئے ایک ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے سعودی عرب جائیں گے۔ حکومت نے اعلان کیا  ہےکہ فوت ہونےوالے افراد کی آخری رسومات سعودی عرب میں  ادا کی جائیں گی اور ہر متاثرہ خاندان کو ۵؍ لاکھ روپے عبوری راحت  کے طور پر دیئے جائیں گے۔ حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ  ہر متاثرہ خاندان کے ۲؍ افراد کو سعودی عرب لے جایا جائے گا۔اظہر الدین نے بتایا کہ لاشیں بری طرح جھلس گئی ہیں اس لئے  ان کی شناخت مشکل ہے۔ 
 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Inquilab - انقلاب (@theinquilab.in)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK