Inquilab Logo Happiest Places to Work

قربانی کے جانور بے تحاشہ مہنگے ہونے سے خریدار پریشان

Updated: May 25, 2026, 10:13 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

بجٹ میں مناسب وزن کا بکرا ملنا مشکل۔ دیونار اور مقامی منڈیوں میں چکر لگاکر بہت سے خریداروں کو مایوس لوٹنا پڑرہا ہے۔ جانوروں کی آمد میں بھی کمی ۔

Deonar.Photo:INN
دیونار۔ تصویر:آئی این این
 عید قرباں میں تین دن‌باقی ہیں مگر بے تحاشہ مہنگائی کے سبب اپنے بجٹ میں مناسب وزن کا بکرا ملنا کار دارد ہے۔دیونار ہی نہیں علاقے کی سطح پر لگائی گئی منڈیوں میں چکر لگانے کے باوجود بہت سے گاہکوں کو مایوس لوٹنا پر رہا ہے۔ جانور مہنگے ہونے کا سب سے بڑا سبب جانور کم لانا بتایا گیا ہے۔
کم جانور لائے جانے کا بآسانی اندازہ ان اعداد وشمار سے کیا جاسکتا ہے کہ۲۰۲۵ء میں جہاں دیونار منڈی میں تقریبا ایک لاکھ۸۵؍ہزار بکرے لائے گئے تھے اور ایک لاکھ۷۸؍ ہزار فروخت ہوئے تھے، وہیں اب تک یہ تعداد محض  ایک لاکھ۳۰؍ ہزار۴۰۲؍ بکروں تک پہنچی ہے اور اب تک صرف۵۳؍ہزار۶۹۵؍ بکرے ہی فروخت ہوئے ہیں۔ 
اس سے قطع نظر کہ اب بھی جانور لائے جارہے ہیں مگر رفتار بہت سست ہے کیونکہ تاجر بھاری بھرکم ٹرانسپورٹ خرچ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پیر کے بعد دیونار منڈی میں جانور لانے کی رفتار مزید کم ہوجائے گی کیونکہ تاجر جانور فروخت نہ ہونے کا خطرہ مول لینا نہیں چاہیں گے۔
بے تحاشہ مہنگائی گاہکوں کی زبانی 
قربانی کے لئے بکرا تلاش کرنے والے عبدالرحمن شیخ نے بتایا کہ مہنگائی کا یہ حال ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ تاجر جانور کی پشت پر ہاتھ ہی نہیں رکھنے دے رہے ہیں۔ ایسا دام بتاتے ہیں کہ گاہک سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھر والوں کی ضد کے باوجود اب تک اپنے بجٹ میں بکرا نہیں مل سکا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مقامی منڈیوں میں بھی کچھ اسی طرح دام بتائے جارہے ہیں ، پہلے کے مقابلے جانور کم بھی ہیں اور گاہک زیادہ، اس سے بھی فرق پڑ رہا ہے۔ 
ایک دوسرے گاہک اور اکثر دیونار منڈی کا چکر لگانے والے حاجی محمد الیاس قادری نے بتایا کہ مہنگائی کا سبب تاجروں کا جانور کم لانا ہے۔ اس وقت تک تو دیونار منڈی میں جانوروں کی کثرت ہوتی تھی اور باڑے بھرے رہتے تھے مگر اس دفعہ صورتحال بالکل مختلف ہے۔ یہاں دو لاکھ سے زائد بکرے لائے جاتے تھے اور ممبئی کے ہر کونے سے خریدار اپنے بچوں کے ساتھ پہنچتے تھے مگر اب وہ بات نہیں رہ گئی ہے۔ یہی  وجہ ہے کہ بہت سے گاہک دام سن کر چونک جاتے ہیں۔
 
 
قربان علی شاہ نے بتایا کہ کافی بھاگ دوڑ کے بعد انہوں نے۵۲؍ ہزار روپے میں بکرا خریدا۔وزن۸۰؍ کلو سے زائد ہوگا۔ 
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر شخص اتنے مہنگے جانور نہیں خرید سکتا۔ پھر یہ کہ تاجر بھی بڑی امید کے ساتھ ممبئی کا رخ کرتے ہیں ، اس لئے تاجر اور بیوپاری دونوں کے لئے مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ فی الوقت جانور اور گاہکوں کی بھیڑ سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ بازار میں مزید تیزی آئے گی، دام کم ہونے کی امید نہیں ہے۔
واضح ہوکہ آل انڈیا شیپ اینڈ گوٹس بریڈرس اینڈ سپلائر اسوسی ایشن کے سربراہ نے مہنگائی کی متعدد وجوہات بتائی تھیں، اس میں بڑی وجہ فرقہ پرست تنظیموں کی جا نب سے گاڑیاں پکڑنا اور مہنگائی کے سبب تاجروں کا جانور کم لانا بنیادی سبب بتایا گیا تھا۔ 
 
 
 
 
دیونار منڈی کی پوزیشن
دیونار مذبح کے جنرل منیجر کلیم پاشا پٹھان نے اس دفعہ گزشتہ سال کے مقابلے کم جانور لائے جانے کی یہ کہتے ہوئے توثیق کی کہ موجودہ معاشی حالات کا اس میں خاص دخل ہے۔
اتوار۲۴؍ مئی کی شام تک دیونار منڈی میں پوزیشن کچھ اس طرح تھی۔
بکروں کی آمد:ایک لاکھ۳۰؍ ہزار۴۰۲؍
فروخت ہوئے:۵۳؍ہزار۶۹۵؍ 
موجود بکرے:۷۶؍ ہزار۷۰۷؍
بھینس اور پاڑے:۸؍ہزار۶۱۹؍

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK