الہ آباد : منصورعلی پارک کےمظاہرین کیخلاف دو مختلف دفعات کے تحت کیس درج

Updated: March 24, 2020, 9:02 AM IST | Shakir Husain Tashna / INN | Allahabad

کورونا پھیلنے کے خطرے کے باوجود سی اے اے کے خلاف گزشتہ ۷۲؍دن سے جاری دھرنے کے خلاف پولیس اورانتظامیہ نے سخت قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔ روشن باغ کے منصورعلی پارک میں احتجاج کرنے والی خواتین کے خلاف پولیس نے دو الگ الگ دفعات کے تحت کیس درج کرلیا ہے۔

CAA Protest at Allahabad - Pic : Inquilab
الہ آباد میں سی اے اے کیخلاف احتجاج ۔ تصویر : انقلاب

کورونا  پھیلنے کے خطرے کے باوجود سی اے اے کے خلاف گزشتہ ۷۲؍دن سے جاری دھرنے کے خلاف پولیس اورانتظامیہ نے سخت قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔ روشن باغ کے منصورعلی پارک میں  احتجاج کرنے والی خواتین کے خلاف پولیس نے دو الگ الگ دفعات کے تحت کیس درج کرلیا ہے۔ ایپی ڈیمک ایکٹ کے تحت پولیس نے خلدآباد تھانہ میں پہلا مقدمہ ۱۱۷؍ افراد کے خلاف درج کیا ہے جبکہ دوسرا مقدمہ دفعہ ۱۴۴؍کی خلاف ورزی کے سلسلہ میں درج کیا ہے۔
 وبائی امراض کے قانون ( ایپی ڈیمک ایکٹ) کے تحت درج کیس میں ۱۷؍ مظاہرین کو نامزد اور ۱۰۰؍نامعلوم افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ دفعہ ۱۴۴؍کی خلاف ورزی کے معاملہ میں ۲۱؍نامزد اور ۲۲۵؍نامعلوم کے خلاف اٹالا چوکی انچارج کلیم اللہ کی طرف سے ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔دراصل کورونا کے قہر کو روکنے کیلئے  انتظامیہ نے گزشتہ کئی دنوں سے دھرنے کو جلد ختم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔ پولیس نے خواتین کو بتایاکہ کورونا وائرس وبا کی شکل اختیار کرچکا  ہے لیکن خواتین نے پولیس اور انتظامیہ کے افسران کی بات ماننے سے انکار کردیا اور اتوار کو جنتا کرفیو کے دن بھی منصور علی پارک میں ہی ڈٹی رہیں مگر بعد میں وہ ہٹنے کو تیار ہوگئیں اوردھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔پولیس کی طرف سے درج کرائے گئے مقدمہ میں خواتین کے دھرنے کی قیادت کرنے والی سارہ احمد،شاہ عالم،عمر خالد،ذیشان رحمانی، کلیم احمد صدیقی،الہ آباد یونیورسٹی کی طلبہ لیڈر نیہا یادو، اویناش مشرا،تنویر ،آشیش متل،امت پاٹھک،کے کے پانڈے،شیلیش پاسوان، عارض علوی، عدنان، ذوالفقار،  سمیع الرحمان، سنیل موریہ اورنامعلوم  افراد شامل ہیں ۔ پولیس نامزد ملزمین کے خلاف شواہد جمع کرکے  کارروائی کی تیاری میں مصروف ہوگئی ہے۔
 منصور علی پارک میں ۱۲؍جنوری سے سی اے اے اوراین آر سی کے خلاف خواتین کا دھرنا ۲۴؍گھنٹے  جاری ہے۔ دھرنے پر بیٹھی خواتین کورونا کے سلسلہ میں ڈبلیو ایچ او اورحکومت ہند کی وزارت صحت کی طرف سے جاری ایڈوائزری پر عمل کرنے کی بات ضرور کررہی ہیں لیکن وہ دھرنا ختم کرنے کیلئے قطعی تیار نہیں ہیں۔ان کا کہنا ہےکہ دھرنا کی جگہ کو انہوںنے سینیٹائز کرانے کے ساتھ ہی لوگوں کے ہاتھ صاف کرنے کیلئے ہینڈ واش اورسینیٹائزر کا انتظام کیا ہے۔  خواتین کاالزام ہےکہ کورونا سے بڑا وائرس ان کے لئے سی اے اے اوراین آر سی ہے۔ اس لئے یہ دونوں ختم ہوئے بغیر ان کا یہ دھرنا ختم نہیں ہوگا۔خاتون مظاہرین کے مطابق  دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر ہی ان کی تحریک شروع ہوئی تھی۔ اس لئے شاہین باغ میں دھرنا ختم ہوئے بغیر منصورعلی پارک میں دھرنے کے ختم ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔حالانکہ بعد میں کافی کوشش کے بعد وہ احتجاج ختم کرنے کیلئے راضی ہوگئیں۔
  متنازع سی اے اے ، این پی آر اور مجوزہ این آر سی کے خلاف دھرنے کی حمایت کرنے کا الزام عائد کر کے ایک بار پھر  ۱۷؍نامزد اورڈھائی سو نامعلوم افراد کے خلاف خلدآباد تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔اس ایف آئی آر میں چند نام ایسے بھی ہیں جنھوں نے دھرنے کی ابتدا سے لیکر آج تک منصور علی پارک کا رخ نہ کیا ہو گا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK