کیلیفورنیا کے نسل پرست یہودی سیاستداں رینڈی فائن کو مسلم مخالف پوسٹ پر استعفیٰ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، ، بدنام زمانہ فلوریڈا کے ریپبلکن امریکی کانگریس مین، نے ایک اشتعال انگیز اور مسلم مخالف تبصرہ میں مسلمانوں کو کتے سے تشبیہ دی ہے۔
EPAPER
Updated: February 17, 2026, 9:03 PM IST | California
کیلیفورنیا کے نسل پرست یہودی سیاستداں رینڈی فائن کو مسلم مخالف پوسٹ پر استعفیٰ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، ، بدنام زمانہ فلوریڈا کے ریپبلکن امریکی کانگریس مین، نے ایک اشتعال انگیز اور مسلم مخالف تبصرہ میں مسلمانوں کو کتے سے تشبیہ دی ہے۔
بدنام زمانہ فلوریڈا کا ریپبلکن امریکی کانگریس مین رینڈی فائن، نے ایک اور اشتعال انگیز اور مسلم مخالف تبصرہ کیا ہے، اپنے تازہ ترین تبصرے میں مسلمانوں کو کتوں سے تشبیہ دیتے ہوئے امریکیوں سے کہا کہ اگر وہ (مسلمان) ہمیں کتے اور مسلمان میں کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کریں تو آپ پہلے کا انتخاب کریں۔فائن کے پوسٹ نے بڑے پیمانے پر غم و غصے اور مذمت کو ہوا دی۔واضح رہے کہ یہ تبصرہ خاص طور پر رمضان کے قریب اور دنیا بھر کے تقریباً ۲۰۰؍ کروڑ مسلمانوں کے پورے عقیدے کو منظم طور پر نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا۔فائن نے دعویٰ کیا کہ یہ نسل پرستانہ تبصرہ نیردین کسوانی، جو نیویارک سٹی فلسطینی نیٹ ورک ،ود اِن آور لائف ٹائم‘‘کی بانی کے ایک مذاق کا ردعمل تھا۔
دراصل گزشتہ ہفتے کتوں کے خلاف بڑھتی عوامی رائے کے پس منظر میں نیردین نے ایک پوسٹ میں لکھا تھا، ’’آخرکار، نیویارک شہر اسلام کی طرف آرہا ہے۔ کتے یقینی طور پر معاشرے میں ایک مقام رکھتے ہیں، صرف گھریلو پالتو جانور کے طور پر نہیں،جیسا کہ ہم ہمیشہ کہتے رہے ہیں، وہ ناپاک ہیں۔‘‘ کسوانی نے بعد میں فائن کا ذکر کیے بغیر وضاحت کی کہ ،’’اس پر صیہونیوں کے منہ سے جھاگ نکالنا مجھے ہنسا رہا ہے، یہ سوچ کر کہ وہ کچھ کر رہے ہیں۔ یہ ظاہر ہے ایک مذاق ہے۔بعد ازاں کسوانی کی ایک اور پوسٹ نے واضح کیا کہ ان کا اشارہ ان افراد کی طرف تھا جو پورے شہر میں جمی ہوئی برف کے ڈھیروں پر چھوڑے گئے کتے کے فضلے کی موجودگی سے ناخوش تھے۔انہوں نے لکھا،’’مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر آپ کے پاس کتا ہے، مجھے اس سے فرق پڑتا ہے اگر آپ کا کتا ہر جگہ گندگی کر رہا ہے اور آپ صاف نہیں کر رہے۔‘‘
دریں اثناء ریپبلکن کے مسلمانوں کے بارے میں تبصروں کے بعد، کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے فائن کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، جو نسل پرست یہودی ہے اور اس سے قبل بھی مسلم مخالف خیالات اور غزہ میں نسل کشی کا جشن منانے پر ڈیموکریٹس، شہری حقوق کے گروپس، اور یہودی تنظیموں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بن چکاہے۔ نیوزوم نے ایکس پر لکھا،’’ابھی استعفیٰ دے دو، نسل پرست۔‘‘ کیمیرون کاسکی، ایک یہودی کارکن، نے فائن کی پوسٹ کے جواب میں ایکس پر لکھا،’’تصور کریں اگر کوئی امریکی سیاستدان یہودیوں کے بارے میں یہ کہے۔‘‘ پنسلوانیا کے ڈیموکریٹ نمائندے برینڈن بوئل نے کہا،’’ رینڈی فائن ایک بدصورت متعصب ہے۔ اسے کانگریس میں نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ ایریزونا کی ڈیموکریٹ نمائندہ یاسمین انصاری نے کہا،’’اگر کوئی کسی بھی کام کی جگہ پر اتنی گھٹیا بات کہے، تو اسے نکال دیا جائے۔ رینڈی فائن نے بارہا مسلمانوں کی توہین کی ہے بغیر کسی انجام کے۔ یہ ناقابل قبول ہے اور اسے کانگریس کے ذریعے معمول نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اسپیکر جانسن کو فوری طور پر ان کی سرزنش کرنی چاہیے۔ اور اگر فائن انسانی وقار کے انتہائی بنیادی معیار پر پورا نہیں اتر سکتا، تو اسے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔‘‘اس کے علاوہ کونسل آن امریکن-اسلامک ریلیشنز (CAIR) نے پیر کو ایک بیان جاری کیا جس میں کانگریسی قیادت سے فائن کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا، اس کی بیان بازی (اس تبصرے اور سابقہ کو شامل کرتے ہوئے) کو نسل پرستانہ قرار دیا، اس کا موازنہ مسلمانوں اور فلسطینیوں کو نشانہ بنانے والے ’’جدید کلانسمین اور نازی‘] سے کیا، اور اسے ایک طرز عمل کا حصہ قرار دیا جس میں ’’مرکزی دھارے کے مسلمانوں‘‘کی تباہی کے مطالبات شامل ہیں۔