• Mon, 14 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپ بھر میں ”پرورٹ“ اسمارٹ گلاسز کے خلاف کارروائی کے مطالبات زور پکڑنے لگے

Updated: September 13, 2026, 10:08 PM IST | Brussels

اسمارٹ گلاسز کے غلط استعمال پر بڑھتی تشویش کے بعد، ریگولیٹری ردِعمل دیکھنے مل رہا ہے۔ ناروے نے اب اسکولوں میں اسمارٹ گلاسز لانے پر پابندی عائد کر دی ہے اور حکومت چہرے کی شناخت کی خصوصیات پر وسیع تر پابندیوں پر غور کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی قانون ساز ویرونیکا سیفرووا اوستری ہونووا نے بتایا کہ انہوں نے یورپی کمیشن سے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کے ساتھ ان اسمارٹ گلاسز کی مطابقت کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ برطانیہ اور آئرلینڈ میں، ”اسٹاپ اسمارٹ گلاسز“ کی پٹیشن پر ۹۱۰۰ سے زیادہ افراد دستخط کرچکے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

یورپ بھر میں اسمارٹ گلاسز کے ذریعے لڑکیوں اور خواتین کی خفیہ طور پر بنائی گئی ویڈیوز پر بڑھتی تشویش کے بعد ریگولیشن کے مطالبات زور پکڑنے لگے ہیں۔ حال ہی میں، برطانیہ میں ان آلات کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کرنے والی ایک پٹیشن بھی خبروں میں ہے۔ اسمارٹ گلاسز، جو صارفین کو تصاویر کھینچنے، ویڈیو ریکارڈ کرنے اور اے آئی اسسٹنٹس سے بات چیت کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں، نے کائلی جینر اور میٹا کے درمیان مارکیٹنگ کی شراکت داری کے ذریعے اس سال عوام میں خوب مقبولیت اور توجہ حاصل کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت ہم سب کو ہلاک کر سکتی ہے: اے آئی کے حفاظتی خدشات پر اینتھروپک کے محقق نے استعفیٰ دیا

رپورٹس کے مطابق، میٹا نے رے-بین ساز ادارے ایسیلور لکسوٹیکا (EssilorLuxottica) کے اشتراک سے تیار کردہ اپنے اسمارٹ گلاسز کے تقریباً ۷۰ لاکھ جوڑے ۲۰۲۵ء میں فروخت کئے۔ ۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۴ء میں کمپنی نے مجموعی طور پر صرف ۲۰ لاکھ ہی جوڑے فروخت کئے تھے، اس طرح گزشتہ سال ان اسمارٹ گلاسز کی مقبولیت اور فروخت میں زبردست اضافہ دیکھنے ملا تھا۔ 

گوگل اور اسنیپ بھی ایسے ہی اے آئی سے لیس آلات تیار کر رہے ہیں۔ لیکن اسمارٹ گلاسز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اس کے خلاف شدید ردِعمل بھی سامنے آیا ہے، خاص طور پر برطانیہ میں خواتین کی خفیہ طور پر ویڈیو بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آنے اور ان خدشات کے بعد میڈیا کوریج میں شدت آ گئی کہ میٹا اسمارٹ گلاسز کیلئے کے ذریعے کی شناخت (facial recognition) کی صلاحیتیں تیار کر رہا ہے۔ ایک واقعے میں، ایک ۱۷ سالہ لڑکی نے چینل ۴ نیوز کو بتایا کہ ان اسمارٹ گلاسز کی مدد سے ایک شخص نے گفتگو کے دوران خفیہ طور پر اس کی ویڈیو ریکارڈ کی۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی کے ذریعے حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کی پانچ کوششوں کو بے اثر کیا: اینتھروپک

ریگولیٹری ردعمل جلد سامنے آ سکتا ہے

ان پر زور مطالبات کے بعد، ریگولیٹری ردِعمل اب سامنے آنا شروع ہو رہا ہے۔ ناروے نے اب اسکولوں میں اسمارٹ گلاسز لانے پر پابندی عائد کر دی ہے اور حکومت چہرے کی شناخت کی خصوصیات پر وسیع تر پابندیوں پر غور کر رہی ہے۔ سویڈش ڈیزائنر میٹیوش پوزار نے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد ”بین رے“ (Ban Ray) مہم کا آغاز کیا ہے جس کے تحت سائن بورڈ اور اسٹیکرز تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ اس مہم کا مقصد پرائیویسی اور ڈیٹا کنٹرول کے بارے میں عوامی بحث کو جنم دینا ہے۔ 

یورپی یونین کی قانون ساز ویرونیکا سیفرووا اوستری ہونووا نے بتایا کہ انہوں نے یورپی کمیشن سے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کے ساتھ ان اسمارٹ گلاسز کی مطابقت کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ یورپی ڈیٹا پروٹیکشن بورڈ مستقبل کے یورپی یونین کے اقدامات کی رہنمائی کیلئے اسمارٹ گلاسز کی سماجی قبولیت پر ایک رپورٹ تیار کر رہا ہے۔ برطانیہ اور آئرلینڈ میں، ”اسٹاپ اسمارٹ گلاسز“ کی پٹیشن پر ۹۱۰۰ سے زیادہ افراد دستخط کرچکے ہیں۔ منتظمین نے نگرانی اور رضامندی (consent) سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حکومت ہند کے حکم کے باوجود میٹا بچوں کیساتھ زیادتی والے اشتہار چلا رہا ہے: رپورٹ

دوسری طرف، میٹا نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے ڈیوائس کی ریکارڈنگ انڈیکیٹر لائٹ سے چھیڑ چھاڑ روکنے کیلئے اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان اقدامات کے ذریعے، تھرڈ پارٹیز کو اسے غیر فعال کرنے کی خدمات پیش کرنے سے پہلے ہی روک دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK