سماجی تنظیم نے اسکیم کے تعلق سے اساتذہ اور والدین سے مشورے طلب کئے جو حکومت تک پہنچائے جائیں گے
EPAPER
Updated: January 26, 2023, 10:34 AM IST | saadat khan | Mumbai
سماجی تنظیم نے اسکیم کے تعلق سے اساتذہ اور والدین سے مشورے طلب کئے جو حکومت تک پہنچائے جائیں گے
اسکولوںمیں طلبہ کو مڈڈے میل دیاجاتاہےلیکن اس کے نظم کے تعلق سے متعددشکایتیں اور مسائل ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔اسی تعلق سے پونے کی سماجی تنظیم ’سسٹم کریکٹنگ موومنٹ ‘نے مڈڈے میل اسکیم کو کارگر بنانے کیلئے ایک مہم چھیڑی ہے۔ تنظیم نے اس اسکیم میں متعدد تبدیلیو ں کے تعلق سے والدین اور اساتذہ سے مشورے طلب کئے ہیں تاکہ اس کی رپورٹ حکومت کو پیش کرکے اسکیم کو مزید منظم بنانے کی اپیل کی جاسکے۔
تنظیم کے صدر راجندر تھرنکر نے انقلاب کو بتایاکہ ’’بعض اسکول مڈڈے میل اسکیم کو بوجھ سمجھتے ہیں ۔ اساتذہ کو یہ کام غیر تعلیمی لگتا ہے۔ ٹیچرو ں کا کہناہےکہ اس کی وجہ سے وہ بچوں کو پڑھا نہیں پاتےہیں۔اس سے طلبہ کی پڑھائی کا نقصان ہوتاہے اور طلبہ کا رزلٹ متاثر ہوتاہے۔‘‘ تھرنکر کہتے ہیں کہ ’’ حالانکہ کسی حد تک اساتذہ کا اعتراض قابل قبول ہے۔اگر اس کام کیلئے علاحدہ عملے کی تقرری کی جائے توبڑی آسانی اور اچھے طریقے سے یہ کا م ہوسکتاہے۔‘‘ مگر ان کا کہنا ہے’’ اس معاملہ سے قطع نظر ہمارا سوال یہ ہےکہ بچوںکو جوکھانا دیاجاتاہے واقعی میں وہ مقوی غذا ہے؟بچوںکو صرف ایک ہی وقت وہ بھی جس دن اسکول جاری ہوتاہے ، اسی دن کھانا دیاجاتاہے، ایسا کیوں؟‘‘ انہوں نے پوچھا ’’کیا اس سے حکومت کا مڈڈے میل دینے کا مقصد پوراہوتاہے ؟ حکومت نے بچوںکی صحت کی مناسبت سے جو کیٹیگری متعین کی ہے وہ دی جارہی ہوگی مگر اس سے بچوںکو درکار غذائیت مل رہی ہے کیا؟‘‘
سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ ’’تمام والدین اور سرپرست چاہتےہیں کہ ان کےبچوںکو مقوی غذاملے لیکن کیا واقعی ان کے بچوںکو مقوی غذا وہ بھی معقو ل مقدار میں دی جارہی ہے؟ ا س طرح کےمتعدد سوالات ہیں ، جو مڈ ڈے میل سے متعلق ہیں ۔ ‘‘ وہ کہتے ہیں’’انہی سوالات پر ہم نے والدین ،سرپرست اور اساتذہ سے مشورے طلب کئے ہیں تاکہ اس کی رپورٹ تیار کرکے حکومت کو دی جائے اور اسکیم کو منظم طریقے سے جاری رکھنےکی اپیل کی جائے ۔‘‘ انہوںنے بتایاکہ ’’ جس طرح آشر م شالہ ، آدیواسی آشرم شالہ اور چلڈرنس ہوم کے بچوں اور جیلوں میں بند قیدیوں کو دو نو ں وقت کھانا اور ناشتہ دیاجاتاہے ۔اسی طرح اسکول کے بچوںکو بھی دونوں وقت کھاناکیوں نہیںدیاجاتا؟‘‘ تھرنکر کا کہنا ہے کہ ’’اسکول کے بچوںکو صرف ایک وقت کھانا دینا کہاں کا انصاف ہے۔ بچوںکو عمدہ اور مقوی کھانا فراہم کرنے، نیز ٹیچروںکو اس کام سے آزاد کرنےاور اسکیم کو منظم طورپر جاری رکھنے سےمتعلق ہمارے پاس متعدد تجاویز ہیں جن پر عمل کرکے اس سسٹم کو موثر انداز میں نافذ کرکے اس کے مقصدکو حاصل کیاجاسکتاہے۔ اسی لئے ہم نے اساتذہ اور والدین سے اس بارے میں مشورے طلب کئے ہیں۔ ‘‘