Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناقص غذا فراہم کرنا طلبہ کی زندگی کے ساتھ کھلواڑہے

Updated: August 31, 2021, 8:52 AM IST | Nadeem asran | Mumbai

بامبےہائی کورٹ نے اسکول اور آنگن واڑی کے طلبہ کو صحت مند غذا سے محروم رکھے کو مجرمانہ عمل قراردیا

The High Court has declared it a crime to give poor nutrition to students.Picture:Inquilab
ہائی کورٹ نے طلبہ کوناقص غذا دینے کو جرم قرار دیا۔ تصویر انقلاب

 اسکول اور آنگن واڑی میں زیر تعلیم بچوں کو ناقص کھانا دیئے جانے پر اسٹیٹ ہیومن اینڈ چلڈرن رائٹس کمیشن کے ذریعہ ملازمت سے برطرف کئے جانے کے فیصلہ کو آنگن واڑی سیویکا نے بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا ۔ کورٹ نے عرضداشت گزار کی اپیل اور کمیشن کی فراہم کردہ اطلاعات کا جائزہ لینے کے بعد وومین اینڈ چلڈرن رائٹس کمیشن کے فیصلہ کو درست قرار دیتے ہوئے اس کی برطرفی کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ کورٹ نے کہا کہ ناقص غذا فراہم کرکے کوئی بھی طلبہ کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ نہیں کر سکتا ہے ۔
 بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ کے جسٹس سنیل سکھرے اور جسٹس انل کلّلور نے کہا کہ ’’ناقص غذا فراہم کرنا مجرمانہ عمل ہے اور اس کے ذریعہ بچوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرنا سنگین جرم ہے ۔‘‘ آنگن واڑی سیویکا سادھنا اوک جسے گزشتہ سال اپریل ۲۰۲۰ء میں ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا، نے اس فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے اسکول اور آنگن واڑی میں زیر تعلیم طلبہ کو ہمیشہ صحت مند اور غزائیت سے پُر کھانا فراہم کیا ہے۔ مجھ پر ناقص کھانا اور طلبہ کو غزائیت سے محروم رکھنے کا لگایا گیا الزام سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔‘‘
  عرضداشت گزار نے یہ بھی کہا کہ وہ گزشتہ۳۰ ؍ برسوں سے بطور آنگن واڑی سیویکا خدمات انجام دے رہی ہے اور اس نے آنگن واڑی میں زیر تعلیم طلبہ کی صحت کے ساتھ کبھی کھلواڑ نہیں کیا بلکہ وقت پر طلبہ کے گھروں پر کھانا پہنچایا ہے ۔وہیں ۲؍ رکنی بنچ کو بتایا گیا کہ مذکورہ بالا سیویکا کے طلبہ کو ناقص کھانا فراہم کرنے پر پہلے وجہ بتاؤ نوٹس دیا گیا تھا ۔یہی نہیں اس کے خلاف چند طلبہ کو کھانا نہ دینے کا بھی الزام ہے جسے اس نے خود قبول کیا ہے۔اس پر عرضداشت گزار نے دوبارہ اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے دانستہ طور پر ایسا نہیں کیا بلکہ نادانستگی میں ان بچوں کو کھانے کے پیکٹ نہیں پہنچ سکے تھے ۔
  کورٹ نے اس ضمن میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’’بچے معصوم ہوتے ہیں اور وہ طالب علمی کے دور میں اپنے والدین، اساتذہ اور سرپرستوں کے فیصلوں اور احکامات کو آنکھ بند کرکے قبول کرتے ہیں۔ کھانے کے تعلق سے بھی انہیں نہیں معلوم کی کون سی غذا ان کے لئے صحت مند اور کونسی مضر ہے ۔ طلبہ کو غذائیت سے پُر کھانا نہ دینا اور ناقص کھانا فراہم کرکے ان کی صحت سے کھلواڑ کرنا مجرمانہ عمل ہے جس کا تم نے خود اعتراف کیا ہے۔ تم نے جرم کیا ہے اس لئے عدالت ریاستی وومن اینڈ چلڈرن رائٹس کمیشن کے سنائے گئے فیصلہ کو برقرار رکھنے کا حکم دیتی ہے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK