Inquilab Logo Happiest Places to Work

مڈڈے میل کی رقم کے لئے بینک اکائونٹ کھولنے کی ہدایت سے سرپرست پریشان

Updated: July 16, 2021, 8:58 AM IST | saeed ahmed khan | Mumbai

کام کاج چھوڑ کر بینک کا چکر لگانے پر مجبور۔بینک میں طلبہ کا پین کارڈ طلب کیا جارہا ہے اور زیرو بیلنس پرکھاتہ کھولنے سے انکاربھی کیا جارہا ہے ۔اس معاملے میں محکمہ تعلیم والدین کو سہولت دینے کیلئے کوشاں

After the school closes, the midday meal will be transferred to the children`s bank account.Picture:Inquilab
اسکول بند ہونے سے مڈڈے میل کی رقم بچوں کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔ تصویر انقلاب

کوروناوائرس اور لاک ڈاؤن کے سبب اسکول بندہونے سے حکومت نے مڈڈے میل کی رقم براہ راست طلبہ کے بینک اکائونٹ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے بینک اکائونٹ کھولنا ضروری ہے ۔ اس کے سبب طلبہ اور والدین پریشان ہیں ۔ اکائونٹ کھولنے کی کوشش میںسرپرست اپنا کام کاج چھوڑ کر بینک کے چکر لگارہےہیں۔ بینک کھاتہ کھولنے کیلئے طلبہ کا پین کارڈ بھی مانگا جارہا ہے  اور بینک میں زیرو بیلنس پر اکائونٹ کھولنے سے انکار کیا جارہاہے نیزکھاتہ کھولنے کیلئے ایک ہزار روپے لگ رہے ہیں۔ محکمۂ تعلیم نے والدین کی ان پریشانیوں کے پیش نظر اس معاملے میں سہولت دینے کی تجویز پیش کی  ہے۔
 بینک اکائونٹ کھولنے کیلئے  نئی نئی شرائط عائد کئے جانے سے والدین اور سرپرستوں کی پریشانی میں اضافہ  ہورہا ہے ۔ پہلے طلبہ کے آدھار کارڈ  ، اسکول شناختی کارڈ اور بونافائڈ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر اکائونٹ کھولا جارہاتھا مگر اب طلبہ کا پین کارڈ بھی مانگا جارہا ہے ۔پین کارڈ بنانے کیلئے بھی والدین کو رقم خرچ کرنی ہے۔ علاوہ ازیں بینک اکائونٹ کھولنے کیلئے بھی انہیں ۵۰۰؍تا ایک ہزار روپے ادا کرنا ہے ۔زیرو بیلنس پر کوئی بھی قومی بینک اکائونٹ نہیں کھول رہا ہے۔ مجموعی طورپر اناج کی کچھ رقم کیلئے سرپرستوںکو سیکڑوں روپے خر چ کرنے پڑ رہے ہیں ۔
 ایک طالب علم کے سرپرست نے کہاکہ ’’اسکول نے بچے کا بینک اکائونٹ کھولنےکی ہدایت دی ہے جبکہ بینک بغیر پین کارڈ کے اکائونٹ نہیں کھول رہےہیں۔ پین کارڈ بنوانے پر بھی رقم خرچ کرنی ہے۔اس کے علاوہ کام کاج چھوڑ کر بینک کا چکر لگانے سے بھی ہمارا نقصان ہورہا ہے۔ مڈڈے میل کے ۱۵۰؍رو پے کیلئے بینک اکائونٹ کھولنا مہنگا ثابت ہورہا ہے۔‘‘ 
 ہیڈماسٹروںنےطلبہ کے بینک اکائونٹ کھولنے کی ذمہ داری اساتذہ کو دی ہے ۔ اساتذہ طلبہ کے گھر جاجاکر سرپرستوںکو بینک اکائونٹ کھولنے کیلئے کہہ رہےہیں۔ اس کام سے ٹیچروںکی نیند بھی حرام ہوگئی ہے ۔
 کرلاکے ایک اسکول کے ہیڈماسٹر نے کہا کہ ’’ دیہی علاقو ںکے علاوہ شہری علاقو ںمیں بھی طلبہ کے بینک اکائونٹ کھولنےمیں دشواری آرہی ہے ۔ جھوپڑپٹی میں رہنے والوں کےپاس ان کے جھوپڑوں کے دستاویز تک نہیں ہوتے ہیں،  پین کارڈ اور آدھار کارڈ تو دور کی بات ہے۔ کسی طرح دستاویز بنا بھی لئے جائیں تو بینک  والے اکائونٹ کھولنےکیلئے اس قدر پریشان کرتے ہیں کہ لوگ بیزار ہوجاتے ہیں ۔ بینک والوںکو زیرو بیلنس والے اکائونٹ سے متعلق سرکیولر دکھائو تو وہ اسے پھینک دیتے ہیں۔ اکائونٹ کھولنےکیلئے ایک ہزار روپے لگ رہے ہیں۔ اس لاک ڈائو ن میں جبکہ معاشی بدحالی عام ہےایک ہزارروپے کی رقم بھی معنی رکھتی ہےجبکہ مڈڈے میل کے نام پر اوّل تا پنجم جماعت کے طلبہ کو ۱۵۰؍ اور چھٹی تا آٹھویں جماعت کے طلبہ کو ۲۵۰؍ روپے ملنے ہیں۔ اس معمولی رقم کیلئے غریب والدین کیلئے سیکڑو ں روپے خرچ کرنا اور متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پریشانی کاسبب بناہواہے۔
  دریں اثناء ریاستی محکمۂ تعلیم کے نائب سیکریٹری راجندر پوار نے ۹؍ جولائی کو ڈائریکٹر آف پرائمری ایجوکیشن پونے کے نام حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہےکہ جن طلبہ کے آدھار کارڈ ہیں لیکن بینک اکاؤنٹ نہیں ہے ۔مثلاً ۱۰؍ سال سے کم عمر کے بچوں کی رقم ان کےوالدین یا مشترکہ بینک اکاؤنٹ میں جمع کی جائے  اور جن طلبہ کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہے، ان کے آدھار کارڈ بنوانے کے بعد ان کے والدین یا  مشترکہ بینک اکاؤنٹ میں رقم جمع کرائی جا سکتی ہے۔علاوہ ازیں جن مقامات پر بینک نہیں ہے ، ان علاقوں میں آدھار کارڈ رکھنے والے طلبہ کی رقم ان کے والدین یا مشترکہ پوسٹ آفس کے اکاؤنٹ میں جمع کی جاسکتی ہے۔
  اس ضمن میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کےساجد نثار احمد نے کہا کہ’’ امسال حکومت گرمیوں کی تعطیلات کی مڈ ڈے میل اسکیم کی رقم بینک اکاؤنٹ میں جمع نہ کراتے ہوئے گزشتہ سال کی طرح  بچوں کو چاول  اور دیگر خوردنی اشیاء تقسیم کرے توبہتر ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK