Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ پر بھی مہنگائی کی مار، مڈڈے میل کیلئے تیل نہیں دیاجارہاہے

Updated: April 02, 2022, 9:17 AM IST | saadat khan | Mumbai

تیل کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ سےطلبہ کے مڈڈے میل کیلئے پکائی جانے والی کھچڑی کے سامان میںخوردنی تیل نہیں دیاجارہاہے ، ہیڈماسٹرزتیل کا انتظام خود کرنے پر مجبور

The headmaster has to manage the oil himself for the midday meal
مڈ ڈے میل کیلئے ہیڈ ماسٹر حضرات کو تیل کاانتظام خود کرنا پڑرہا ہے

:ایک طرف کورونا سے اسکولوںکا نظام بری طرح متاثرہواہے دوسرے بڑھتی  مہنگائی کا بھی اسکولوں پر اثر دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت کی طرف سےطلبہ کو دیاجانے والا مڈڈے میل بھی مہنگائی سے جوجھ رہاہے ۔ کھانے کے تیل کی قیمت میںبےتحاشہ اضافہ ہونےسےطلبہ کو مڈڈے میل کیلئے دیئے جانے والے سامان میںخوردنی تیل نہیں دیا جارہا ہے۔ ہیڈماسٹرزکوتیل کا انتظام خودکرناپڑرہا ہے۔ تعلیمی تنظیموںکےمطابق تیل خریدنےکیلئے ہیڈماسٹر اور اساتذہ پرمالی بوجھ کیوںڈالاجارہاہے۔ کیا کھچڑی پکانےکیلئےاب اساتذہ تیل خریدنےکیلئے عوام سے بھیک مانگیں گے؟ 
 واضح رہےکہ سرو شکشا ابھیان کے تحت اوّل تا آٹھویں جماعت کے طلبہ کو مڈڈے میل اسکیم  کے تحت کھچڑی دی جاتی ہے۔ کورونا وائر س کی وباء سے گزشتہ ۲؍سال سے اسکولوں کے بند ہونے سے طلبہ کو مڈڈے میل کے بجائے اناج تقسیم کیاجارہاتھا۔ لیکن ۱۵؍مارچ ۲۰۲۲ء سے دوبارہ مذکورہ اسکیم کے ذریعے طلبہ کو کھچڑی وغیرہ دیئے جانےکی ہدایت دی گئی ہے۔ جس کےمطابق کھچڑی پکانےکیلئے ٹھیکیدار کے ذریعے اسکولوںکوچاول، دال، مسالہ اور مرچی وغیرہ تو دیا جارہا ہےمگر خوردنی تیل نہیں دیا جارہاجس سے ہیڈماسٹراور اساتذہ کو تیل کاانتظام کرنا پڑرہاہے ۔بغیر تیل کے کھچڑی کیسے بنےگی،یہ سوال اسکولی عملے کے سامنے آرہاہے۔ایسی صورت میں عملے کواپنے پیسوں سے تیل خریدنے کی نوبت آرہی ہے۔
  اس تعلق سے اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ نے ریاستی وزیرتعلیم ورشاگائیکواڈ اور محکمۂ تعلیم کے دیگر اعلیٰ افسران کو مکتوب روانہ کیاہے جس میںخوردنی تیل نہ دیئے جانے سے ہونے والی پریشانی کی تفصیلات بیان کی ہے۔ساتھ ہی اسکولوںکو خوردنی تیل مہیا کروانے کی اپیل کی ہے۔
 مذکورہ تنظیم کے جنرل سیکریٹری ساجدنثار نے بتایا کہ’’تیل کی قیمت میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑھتی قیمت سے پریشان ہوکر تیل کی سپلائی روک دی گئی ہےمگر مڈڈے میل کے تحت طلبہ کو کھچڑی پکا کر دینےکیلئے تیل کاہونا لازمی ہے ۔ بغیر تیل کے کھچڑی کیسے بنےگی۔کھچڑی کیلئے چاول، دال، مسالے اور مرچی وغیرہ تومل رہی ہےمگر تیل نہیں دیاجارہاہے ۔ تیل کا انتظام ہیڈماسٹر اور اساتذہ کوکرنا پڑرہاہے ۔ جس کا مالی بوجھ ان پرآرہاہے ۔ اگر ہمیں تیل نہیں دیاگیاتو مجبوراًتیل کی خریداری کیلئے ہمیں عوامی چندہ کا سہارالینا پڑےگایاتیل کیلئے بھیک مانگنی پڑے گی۔ لہٰذا حکومت سےاپیل ہے کہ وہ اس مسئلہ کوجلد ازجلد حل کرے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK