کیا بی ایم سی گھر گھر جاکر ویکسین لگانے کی مہم شروع کر سکتی ہے

Updated: May 20, 2021, 7:28 AM IST | nadeem asran | Mumbai

بامبے ہائی کورٹ کا شہری انتظامیہ سے سوال،کورونا پر قابو پانے کی کوششوں کی تعریف کی اورقابل تقلید قرار دیا

Bombay High Court.Picture Midday
بامبے ہائی کورٹ تصویر مڈڈے

کورونا وائرس کے سبب اسپتالوںمیںپیش آنے والی دقتوں اور مسائل پر داخل کردہ عرضداشتوں پرجاری سماعت کے دوران ایک طرف بی ایم سی اسپتالوں میں مریضوں کو ہزاروں بیڈ فراہم کرنےپر شہری انتظامیہ کی ستائش کی، وہیں دوسری جانب کورٹ نے مرکزی حکومت کے گھر گھر جا کر ویکسین نہ دینےکےفیصلہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بی ایم سی اور حکومت سے جاننا چاہا کہ کیا وہ گھر گھر جاکر ویکسین دینے کے لئے تیار ہیں ۔
 بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس جی ایس کلکرنی نےسماعت کے دوران معمر شہریوں اور بستر مرگ پرپڑے شہریوں کیلئے مرکزی حکومت کے گھرگھر جاکر ویکسین نہ دیئے جانے کے فیصلہ پر افسوس کا اظہارکیا۔ کورٹ نے اس ضمن میں بی ایم سی کمشنر اقبال چہل سے جاننا چاہا کہ’’ کیاوہ گھر گھر جا کرمعمر شہریوں اور بیمار ہونے کے سبب سینٹرو ں پر ویکسین لینے سے قاصر شہریوں کو گھر گھر جاکر ویکسین دینے کیلئے تیار ہیں۔‘‘کورٹ نے کہا کہ شہری انتظامیہ کےکمشنر اس سلسلہ میںجمعرات کو دوپہر تک عدالت کے روبرو حلف نامہ داخل کریں اور اپنی تیاری سے آگاہ کریں ۔کورٹ نےیہ بھی کہا کہ’’ اگر بی ایم سی گھر گھر جا کر ویکسین دینے کے لئے تیار ہے تو کورٹ مرکز کے فیصلہ کا انتظار کئے بغیر شہر اور مضافات میں موجود بزرگوں اور بیماری کے سبب بستر مرگ پر پڑے متاثرین کو گھر گھر جاکر ویکسین لگانے کی اجازت دینے کیلئےتیار ہے تاکہ مذکورہ مرض سے شہریوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔‘‘ساتھ ہی کورٹ نے بی ایم سی کی ستائش کرتےہوئے کہا کہ ’’اگر حکومت ضرورت مند شہریوں کو رمیڈیسیور اور آکسیجن فراہم کرنے والے شہر کی معزز شخصیات اور سیاست دانوں کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر کے ان کا بیان درج کرتی ہے تو کورٹ حکومت کے اس فیصلہ سے بہت متاثر ہوگی کیونکہ انہیں کورونا سے متاثرہ مریضوںکے لئے ادویات فراہم کرنے کا لائسنس کسی نے نہیں دیا ہے ۔‘‘کورٹ نےکورونا وائرس  پرقابو پانے کے  بی ایم سی کے اقدامات کی ستائش کرتےہوئے کہا کہ ’’ ریاست کی دیگر تمام شہری انتظامیہ کو بی ایم سی کےتیار کر دہ لائحہ عمل کو بروائے کار لاتےہوئے کورونا نامی وباء پر قابو پانے کی کوشش کرنا چاہئے۔‘‘
 اسی درمیان کورٹ نے ڈاکٹروں پر ہونے والے حملوںکے سلسلہ میں حکومت اور پولیس کے ذریعہ درج کردہ کیسوں اور کارروائی سے متعلق ایک صفحہ پرمشتمل حلف نامہ داخل کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ دو رکنی بنچ نے کہا کہ ’’ حکومت ڈاکٹروں پر ہونے والے حملہ پر قابو پانے کے تعلق سے بالکل سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے۔ عدالت کے حکم کے باوجود عدالت کو یہ بتایا جارہا ہے کہ ممبئی اور مہاراشٹر میں ڈاکٹروں پر حملہ کے ۴۳۶؍ کیس مختلف پولیس اسٹیشنوں میں درج کئے گئے ہیں لیکن اس میں نہ تو اس پر کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات فراہم کی ہے اور نہ ہی وقت یا تاریخ بتائی گئی ہے کہ کب اور کتنے ڈاکٹروں پرحملہ کیا گیا اور کتنے لوگوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK