دونوں ہی لیڈروں کی دہلی میں موجودگی کے بعد قیاس آرائیاں عروج پر ، رپورٹس ہیں کہ اب ہائی کمان نے شیو کمار کو ذمہ داری سونپنے کا ارادہ کرلیا ہے ۔
سدارا رمیا اور ڈی کے شیو کمار کے درمیان کرسی کا کھیل ۲۰۲۳ء سے جاری ہے-تصویر:آئی این این
کرناٹک کی سیاست کو ایک بار پھر وزیر اعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے درمیان ایک ذاتی مقابلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس وقت دونوں ہی لیڈران کو دہلی طلب کیا گیا ہے اورامکان ہے کہ اس مرتبہ پارٹی ہائی کمان ڈی کے شیو کمار کیمپ کے دبائو کو تسلیم کرتے ہوئے سدارمیا کو استعفیٰ دینے کو کہہ دے۔ امکان ہے کہ انہیں اگلے مہینے ہونے والے راجیہ سبھا انتخاب کے ذریعہ ایوان بالا میں بھیجا جاسکتا ہے۔ اس تعلق سے دہلی میں بھی اور بنگلور میں بھی سیاسی حلقوں میں کافی ہلچل پائی جارہی ہے اور قیاس آرائیوں کا بازار بھی گرم ہے۔ حالانکہ دونوں ہی لیڈران اب بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ راجیہ سبھا الیکشن کے سلسلے میںپارٹی ہائی کمان سے گفتگو کرنے پہنچے ہیں لیکن ان معاملات سے واقف باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اب کانگریس پارٹی نے کرناٹک کی کمان ڈی کے شیوکمار کو سونپنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
سدارامیا اور شیوکمار کو دہلی طلب کئے جانے اور پارٹی ہائی کمان کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کے بعد قیادت میں تبدیلی کی قیاس آرائیاں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں۔ اگرچہ یہ سوالات۲۰۲۳ء میں کانگریس حکومت کی تشکیل کے وقت سے ہی موجود ہیں لیکن اب دونوں کیمپوں کی طرف سے کھل کر سامنے آنے والے اشارے اور پارٹی کے کچھ حصوں میں بڑھتی ہوئی بے صبری نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یاد رہے کہ پارٹی۲۲۴؍ رکنی اسمبلی میں۱۳۶؍ اراکین اسمبلی کے ساتھ ایک آرام دہ اور مضبوط اکثریت میں ہے۔سدارامیا کو تجربہ کار اور عوامی حمایت رکھنے والا لیڈر مانا جاتا ہےجبکہ شیوکمار تنظیمی طاقت اور ۲۰۲۳ءکی انتخابی کامیابی کے اہم معمار تصور کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے ۲۰۲۳ء کی انتخابی جیت میں کلیدی کردارادا کیا تھا اور اسی لئے وہ وزارت اعلیٰ مانگ رہے ہیں۔ اب انہیں کمان سونپنے کا فیصلہ کب ہو گا یہ تو پارٹی اعلیٰ کمان ہی جانتا ہے۔