Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کو منسوخ کریں: اسپین، سلووینیا اور آئرلینڈ کا یورپی یونین سے مطالبہ

Updated: April 21, 2026, 11:19 PM IST | Madrid

متنبہ کیا کہ غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں بگڑتی صورتحال کے پیش نظر یورپی اتحاد مزید’’خاموش تماشائی‘‘ نہیں رہ سکتا، خارجہ پالیسی سربراہ کو مشترکہ مکتوب

Spanish Foreign Minister José Manuel Albarres
اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئل الباریس

یورپی یونین پر اسرائیل کے ساتھ باہمی تعاون کے معاہدوں کی منسوخی کا دباؤ بڑھنے لگا ہے۔ اسپین، سلووینیا اور آئرلینڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ  باہمی روابط کے معاہدے کو معطل کیا جائے کیوںکہ غزہ، مقبوضہ مغربی کنارہ اور لبنان میں بگڑتی صورتحال کے پیش نظریورپی اتحاد  مزید ’’خاموش تماشائی‘‘ نہیں رہ سکتا۔منگل کو لکسمبرگ میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئل الباریس نے بتایاکہ ان تینوں ممالک نے باضابطہ طور پر اس معاملے کو ایجنڈے میں شامل کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ’’میں توقع کرتا ہوں کہ ہر یورپی ملک وہی مؤقف اپنائے گا جوعالمی عدالت انصاف اور   اقوام متحدہ انسانی حقوق  اور بین الاقوامی قانون کے حوالے سے کہتے ہیں۔‘‘الباریس  نے متنبہ کیا کہ ’’اس کے برعکس کوئی بھی قدم یورپی یونین کیلئے شکست  کےمترادف ہوگا۔‘‘
 گزشتہ ہفتے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس کو بھیجے گئے مشترکہ خط میں تینوں  ممالک نے دلیل دی  ہے کہ اسرائیل نے ایسے اقدامات کئے  ہیں جو’’انسانی حقوق کے منافی اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی‘‘ہیں، اور اس طرح۱۹۹۵ء کے اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی  ہیں  جو یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کا تعین کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے بار بار مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنا رویہ بدلے مگر اس نے نظر انداز کیا۔  وزرائے خارجہ نے  مجوزہ اسرائیلی قانون کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت فوجی عدالتوں میں مجرم قرار دیکر عام فلسطینی شہریوں کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔  اسپین، سلووینیا اور آئرلینڈ نے اسے ’’ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی‘‘قرار دیا۔
 اپنے مکتوب میں انہوں نے اسرائیل کی غیر انسانی حرکتوں کا ذکر کرتے ہوئے غزہ میں انسانی بحران کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہاں حالات ’’ناقابل برداشت‘‘ہو چکے ہیں،  جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور  خاطر خواہ  امداد نہیں پہنچ رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK