Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپی یونین: غزہ فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی، بین گوئیر پر پابندی زیرغور

Updated: June 06, 2026, 8:00 PM IST | Paris

یورپی یونین نے غزہ فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ بد سلوکی کرنے والے شدت پسند اسرائیلی وزیر بین گوئیرپرپابندی عائد کرنے پر غور کرنا شروع کردیا ہے، اس کے علاوہ فرانس نے بھی بین گوئیر کے وحشیانہ سلوک پر جنگی جرائم اور تشدد کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

Extremist Israeli Minister Itamar Ben-Gvir . Photo: X
شدت پسند اسرائیلی وزیر اتماربین گوئیر۔ تصویر: ایکس

ایک رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین کے حکام نے اسرائیلی وزیر اتماربین گوئیر کے خلاف ممکنہ پابندیوں پر ابتدائی سطح پر بات چیت شروع کر دی ہے۔ یہ اقدام حراست میں لیے گئے غزہ میں امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کرنے والے کارکنوں کے ساتھ اس کے وحشیانہ سلوک کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔دریں اثناءبلومبرگ نے معاملے سے واقف افراد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یورپی یونین کے حکام نے بدھ کو رکن ممالک کے سفیروں کو آگاہ کیا کہ سفارت کاروں نے بن گوئیر کے خلاف ممکنہ اقدامات پر کام شروع کر دیا ہے، حالانکہ بلاک کے رکن ممالک میں اب بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق یہ بات چیت ابتدائی مرحلے میں ہے اور یہ خفیہ طور پر ہو رہی ہے۔ جبکہ یورپی کمیشن کے ترجمان نے فوری طور پر بلومبرگ کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھئے: حبرون کے قریب اسرائیلی فائرنگ میں۷؍ ماہ کا فلسطینی شیرخوار بچہ ہلاک، والدین زخمی

دوسری جانب فرانسیسی میڈیا نے جمعہ کو خبر دی کہ فرانس کے قومی انسداد دہشت گردی پراسیکیوٹر آفس (پی این اے ٹی) نے غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا پر سوار فرانسیسی کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی افواج کے سلوک سے متعلق تشدد اور جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔یہ تحقیقات فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو کی جانب سے دیے گئے حوالے کے بعد شروع کی گئی ہیں، جس میں جہاز پر موجود فرانسیسی شہریوں کے ساتھبین گوئیر کے غیر انسانی سلوک پر توجہ مبذول کرائی گئی۔بارو نے جمعہ کو فرانس انٹر ریڈیو کو بتایا کہ انہوں نے فرانس کے ضابطہ فوجداری کے آرٹیکل۴۰؍ کے تحت یہ معاملہ سرکاری پراسیکیوٹر کے حوالے کر دیا تھا۔ دراصل یہ اقدام فلوٹیلا پر فرانسیسی کارکنوں کے ساتھ ہونے والے تشدد کے بارے میں معلومات ملنے کے بعد اٹھایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملے، ۴؍ بچوں سمیت ۹؍ افراد شہید، ۱۵؍ زخمی

واضح رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے۱۸؍ مئی کو قبرص کے قریب اس فلوٹیلا کو روکا تھا۔متعدد کارکنوں سے، جن کا دعویٰ ہے کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، تفتیش کاروں نے پوچھ تاچھکی ہے۔کارکنوں کی حراست کے بعد، اسرائیل کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو جس میں قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گوئیر کو حراست میں لیے گئے کارکنوں کے درمیان چلتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جبکہ کارکنوں کو گھٹنوں کے بل   قطاروں میں پیچھے ہاتھ باندھ کر بٹھایا گیا تھا۔اس فوٹیج میںبین گوئیر اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے اور حراست میں لیے گئے کارکنوں کو طعنے دیتے ہوئے نظر آرہا تھا۔ اس ویڈیوکے منظر عام پر آنے کے بعد عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا۔  عالمی ردعمل کے بعد بعد میں تمام کارکنوں کو رہا کر دیا گیا۔بعد ازاں فرانس نے بین گوئیر کے ملک میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی  ۔ جبکہ رپورٹ کے مطابق فرانس کی تحقیقات ۱۹۸۴ء کے اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت تشدد اور جنگی جرائم کے الزامات پر کی جا رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK