۲۸؍ جون کو ہونے والے امتحان کیلئے ایم ایس ای سی کی ہدایات جاری ، تعلیمی تنظیموں کی جانب سے اس پابندی کو ہٹانے کا مطالبہ
EPAPER
Updated: June 19, 2026, 11:22 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
۲۸؍ جون کو ہونے والے امتحان کیلئے ایم ایس ای سی کی ہدایات جاری ، تعلیمی تنظیموں کی جانب سے اس پابندی کو ہٹانے کا مطالبہ
مہاراشٹر اسٹیٹ ایگزامینیشن کونسل ( ایم ایس ای سی ) کی جانب سے ۲۸؍جون ۲۰۲۶ءکو منعقد ہونے والے ٹیچر ایلجبلٹی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) میں پہلی مرتبہ دوپٹہ ، برقعہ ، ٹوپی اور ماسک پہننے پر پابندی عائد کی گئی ہے جس سے بالخصوص مسلم اُمیدواروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے ۔ تعلیمی تنظیموں نے مذکورہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ اگر امتحان کی شفافیت سے متعلق یہ احکام جاری کئے گئے ہیں تو مسلم خواتین اُمیدواروں کی جانچ خاتون ذمہ داران سے کروانے کے بعدانہیں امتحان گاہ میں جانے کی اجازت دی جائے لیکن اوڑھنی اور برقعہ وغیرہ پر پابندی عائد نہ کی جائے ۔
واضح رہے کہ ایم ایس ای سی کے صدر نندکمار بیڈسے نے اس سال ٹی ای ٹی امتحان کے دوران سخت قوانین پر عمل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اُمیدواروں کو امتحانی مرکز میں دوپٹہ، برقعہ، ماسک اور ٹوپی پہننے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ اسکے علاوہ کسی بھی الیکٹرانک آلات جیسے موبائل، پیجر، ڈیجیٹل گھڑی اورقلم کو امتحانی مرکز میں لے جانے کی بھی اجازت نہیںہوگی۔امتحان کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ سبھی کلاس روم میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے۔ امتحانی مرکز کے داخلی راستے پر میٹل ڈٹیکٹر کی مدد سے ہر اُمیدوار کے ہینڈ بیگ کو چیک کیا جائے گا۔ بائیو میٹرک بھی لیا جائے گا۔ ہر امتحان دینے والے کے چہرے کی شناخت کی جائے گی۔ شناختی کارڈ کے اصل ڈیٹا بیس سے مماثل امیدواروں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔
امیدواروں کیلئے خصوصی ہدایات
امتحان میں جاتے وقت، امیدواروں کو فوٹو شناختی کارڈ میں سے کسی ایک کی اصلی اور صحیح کاپی لے جانا ضروری ہے ۔ مثلاً آدھار کارڈ، پین کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور ووٹنگ کارڈ۔چونکہ امتحانی مرکز میں لازمی طور پر سی سی ٹی وی کا استعمال کیا جائے گا، اس لئے کسی کو بھی دوپٹہ، برقعہ ،ٹوپی اور ماسک پہننے کی اجازت نہیں ہوگی تاکہ پورا چہرہ واضح طور پر دیکھا جاسکے ۔
اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ نے اس تعلق سے ایم ایس ای سی کے کمشنر مہیش چوتھے کو ایک مکتوب روانہ کیاہے جس میں انہوں نے اپیل کی ہے کہ مسلم خاتون اُمیدواروں کیلئے حجاب اور دوپٹہ ان کے مذہبی عقائد، ثقافتی روایات اور ذاتی شناخت کا لازمی جز ہیں ۔ ہندوستان کے آئین نے ہر شہری کو مذہبی آزادی، مساوات اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیا ہے لہٰذا مسلم خاتون اُمیدواروں کو حجاب اور دوپٹہ پہننے کی اجازت نہ دینے سے ان کے مذہبی جذبات کے ساتھ آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی لیکن امتحان کی دیانتداری، شفافیت اور تحفظ کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے ۔ اس کیلئے امتحانی مرکز میں داخل ہونے سے پہلے متعلقہ مسلم خواتین کی شناخت کی تصدیق، اسکریننگ اور تحفظ کا عمل الگ سے ایک خاتون افسر یا ملازمہ کے ذریعے کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ایسا انتظام امتحانی عمل کی ساکھ کو برقرار رکھے گا اور متعلقہ اُمیدواروں کے مذہبی جذبات اور آئینی حقوق کا بھی احترام برقرار رہےگا۔ چنانچہ انسانی، آئینی اور انتظامی نقطہ نظر سے اس معاملے پر غور کیاجائے اور ۲۸؍جون کو ہونے والے امتحان میں مسلم خواتین کو حجاب اور دوپٹہ پہننے کی اجازت دی جائے ۔