امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ میلونی نے ان کے ساتھ تصویر کھینچوانے کیلئے منتیں کی تھیں، جبکہ میلونی نے ٹرمپ کے اس دعویٰ کو سختی سے مسترد کردیا، ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد اٹلی میں ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔
EPAPER
Updated: June 19, 2026, 9:03 PM IST | Rome
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ میلونی نے ان کے ساتھ تصویر کھینچوانے کیلئے منتیں کی تھیں، جبکہ میلونی نے ٹرمپ کے اس دعویٰ کو سختی سے مسترد کردیا، ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد اٹلی میں ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے جمعہ کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا کہ انہوں نے حالیہ جی سیون سمٹ میں ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی ’’منتیں‘‘ کی تھیں۔ ٹرمپ کے ان تبصروں نے اٹلی میں سیاسی ردعمل کو جنم دیا ہے۔میلونی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا، ’’کچھ چیزوں کا فوری جواب دیا جانا چاہیے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات مکمل طور پر من گھڑت ہیں ،میں واضح طور پر حیران ہوں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’مجھے نہیں معلوم کہ امریکی صدر اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس طرح کیوں برتاؤ کرتے ہیں ،یہ پہلی بار نہیں ہے۔ میں صرف یہ کہہ سکتی ہوں کہ یہ قابل افسوس ہے کہ وہ مغرب کے دشمنوں، امریکہ کے دشمنوں کے خلاف اتنا عزم نہیں دکھاتے۔ لیکن ایک بات انہیں یاد رکھنی چاہیے: میں اور اٹلی کبھی منت نہیں کرتے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا نیتن یاہو کی مشروط حمایت کا اعلان، جے ڈی وینس کی اسرائیل کو تنبیہ
واضح رہے کہ یہ تنازع ٹرمپ کے ان تبصروں کے بعد سامنے آیا ہے جو انہوں نے اطالوی ٹیلی ویژن لا۷؍ کو دیے گئے ایک فون انٹرویو میں کیے تھے، جس میں انہوں نے کہا کہ میلونی نے سمٹ میں ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے پر اصرار کیا اور انہوں نے ہچکچاتے ہوئے اتفاق کیا۔لا۷؍کے مطابق، ٹرمپ نے کہا، ’’اس نے مجھ سے منت کی کہ میں اس کے ساتھ تصویر کھنچوا لوں۔ وہ مجھ سے اتنی بری طرح تصویر چاہتی تھی... میں نہیں کھنچواتا، لیکن مجھے اس پر ترس آیا۔‘‘تاہم لا۷؍نے اپنے امریکی نامہ نگار کے ساتھ ہوئی اس فون گفتگو کی آڈیو جاری نہیں کی۔ان تحریری تبصروں نے اٹلی میں سخت ردعمل کو جنم دیا، جس کے بعد اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے امریکہ کے دورے کو منسوخ کر دیا۔تاجانی نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر لکھا، ’’وزیر اعظم جارجیا میلونی کے خلاف ٹرمپ کے سنگین اور توہین آمیز الفاظ پورے اٹلی کی توہین ہیں۔ اسی وجہ سے، میں نے۲۱؍ اور ۲۲؍جون کو امریکہ کے طے شدہ دورے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ میں ہولوکاسٹ کیاہے،لوکا شینکوکی تنقید
بعد ازاں یہ واقعہ اطالوی اور امریکی لیڈروں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ اس سے قبل ان کے درمیان قریبی تعلقات تھے۔ میلونی گزشتہسال ٹرمپ کی افتتاحی تقریب میں مدعو ہونے والی واحد یورپی لیڈرتھیں۔ٹرمپ حالیہ مہینوں میں خارجہ پالیسی اور سلامتی کے معاملات پر اٹلی اور دیگر یورپی اتحادیوں سے بھیمتصادم ہیں۔ انہوں نے ایران تنازع کے دوران سسلی میں امریکی فضائی اڈے کے استعمال سے انکار کرنے پر روم کو تنقید کا نشانہ بنایا، اٹلی پر غیر معاون ہونے کا الزام لگایا اور یہ اشارہ دیا کہ میلونی بدل گئی ہیں۔مزید برآںانہوں نے جنگ پر پوپ لیو چہاردہم کے موقف پر حملہ کرنے کے بعد بھی اٹلی میں تنقید کا سامنا کیا، میلونی نے عوامی طور پر ان کا دفاع کیا، جس سے یورپی شراکت داروں کے ساتھ مزید عداوت پیدا ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران معاہدے کے بعد اسرائیلی وزیر کی شام کے خلاف جلد یا بدیر جنگ کی دھمکی
یہ بھی ذہن نشین رہے کہ وسیع تر سطح پر، ٹرمپ کی اتحادی لیڈروں کی عوامی تنقید کی تاریخ رہی ہے، جن میں دفاعی اخراجات، تجارت اور خارجہ پالیسی پر یورپی شراکت داروں کے ساتھ تنازعات شامل ہیں، اور وہ اکثر ان پر امریکہ سے فائدہ اٹھانے یا مشترکہ سلامتی کے اہداف کی حمایت میں ناکافی اقدامات کا الزام لگاتے ہیں۔تاہم بڑھتی ہوئی تلخ کلامی کے باوجود، میلونی نے ابتدائی طور پر جی سیون سمٹ کے بعد کسی بھی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات تبدیل نہیں ہوئے اور کوئی ’’الزام تراشی‘‘نہیں کی۔