Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی حزب اختلاف نیتن یاہو اتحاد پر برتری حاصل کرلے گا: سروے

Updated: June 19, 2026, 10:06 PM IST | Tel Aviv

ایک سروے کے مطابق اسرائیل کا حزب اختلاف، نیتن یاہو اتحاد پر برتری حاصل کرلے گا، جو حکومت بنانے کے لیے کافی ہے، جبکہ گاڈی آئزنکوٹ کی پارٹی لیکوڈکے ساتھ۲۱؍ نشستوں پر برابر ہے، یہ سروے لازر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اسرائیلی روزنامہ معاریو کے تعاون سے۱۷؍ سے ۱۸؍ جون کے دوران کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

جمعہ کو شائع ہونے والے ایک نئے سروے کے مطابق، اگر آج انتخابات ہوئے تو اسرائیلی اپوزیشن ۱۲۰؍ رکنی کنیسیٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں ۶۱؍ نشستیں حاصل کر کے، حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔جبکہ وزیر اعظمنیتن یاہو کےاتحاد کو ۴۹؍ نشستیں ملیں گی۔یہ سروے لازر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اسرائیلی روزنامہ معاریو کے تعاون سے۱۷؍ سے ۱۸؍ جون کے دوران کیا، جس میں ۵۰۱؍جواب دہندگان شامل تھے اور غلطی کا امکان تقریباً۴؍ اعشاریہ ۴؍ فیصد ہے۔سروے کے مطابق، اپوزیشن جماعتیں۶۱؍ نشستیں حاصل کریں گی، جو حکومت بنانے کے لیے کم از کم اکثریت ہے، جبکہ نیتن یاہو کے اتحاد کو۴۹؍ نشستیں ملیں گی۔
بعد ازاں سروے میں یہ بھی پتا چلا کہ عرب جماعتیں مجموعی طور پر۱۰؍ نشستیں حاصل کریں گی۔ جبکہ سروے میں سابق اسرائیلی فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کی زیرِ قیادت اپوزیشن پارٹی یاشر کو مسلسل فائدہ ہوتا دکھائی دیا، جو۲۱؍ نشستوں تک پہنچ گئی، جس سے وہ نیتن یاہو کی حزبِ اقتدار لیکوڈ کے برابر ہو گئی۔معاریو کے مطابق، لیکوڈ نے حالیہ سروے میں سات نشستیں کھوئی ہیں، جبکہ سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی پارٹی ’’ٹوگیدر‘‘ میں اپریل میں اتحاد کے اعلان کے بعد سے۱۱؍ نشستوں کی کمی ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کو شائع ہونے والے معاریو کے ایک سروے میں لیکوڈ کی حمایت۲۲؍ نشستوں پر تھی، جو تقریباً ایک سال میں اس کی سب سے کم سطح اور اگست۲۰۲۵ء کے بعد سب سے کمزور کارکردگی تھی، جب اسے۲۱؍ نشستیں ملی تھیں۔اخبار نے تبصرہ کیا کہ تازہ ترین نتائج خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں کیونکہ وزیر خزانہ بیزالل ا سموٹریچ کی قیادت میں انتہا پسند دائیں بازو کی مذہبی صیہونیت پارٹی نے انتخابی حد عبور کر لی اور اسے چار نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ سروے علاقائی پیش رفت کے درمیان سامنے آیا ہے، جس میں اس ہفتے کے شروع میں امریکہ اور ایران کے درمیان۱۴؍ نکاتی معاہدہ طے پایا، جس کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔علاوہ ازیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی طرف سے شائع کردہ معاہدے کے متن میں کہا گیا ہے کہ ایران، امریکہ اور ان کے اتحادی لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا عہد کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف جنگیں یا فوجی کارروائیاں شروع نہ کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔اس میں طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز، لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی ضمانت، اور حتمی معاہدے میں تمام محاذوں پر تصادم کے مستقل خاتمے کے عزم شامل ہیں۔
تاہم، اسرائیلی حکومت کے اراکین، خاص طور پر انتہا پسند دائیں بازو کے وزراء، نے ایران معاہدے کو لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے یا سیکورٹی مراعات دینے سے منسلک کرنے سے انکار کر دیا ہے، اور وہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی موجودگی اور وہاں فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK